'کالی دیوی کی پوجا' میں نہیں جانا چاہیے تھا: شکیب الحسن کی معذرت

بنگلہ دیشی کرکٹر نے خود کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد کہا: 'میں بمشکل دو منٹ تک سٹیج پر رہا، لوگ اس بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ میں نے تقریب کا افتتاح کیا۔'

نیلے کوٹ میں  ملبوس بنگلہ دیشی کرکٹر شکیب الحسن تقریب کے دوران (تصویر: بشکریہ  زی نیوز)

بنگلہ دیش کے معروف آل راؤنڈرشکیب الحسن کو بھارت میں ہندوؤں کی ایک تقریب میں شرکت کرنے پر شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد سرعام معافی مانگنے پرمجبور کر دیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شکیب الحسن نے بھارتی شہر کولکتہ میں کالی دیوی کی پوجا میں شرکت کی تھی جس کے بعد مسلم اکثریتی آبادی ملک بنگلہ دیش میں سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا۔

کرکٹر نے حال ہی میں ایک سال پابندی کی مدت مکمل کی ہے جو بکیز کی جانب سے رابطے کی اطلاع کرکٹ بورڈ کے حکام کو نہ دینے کی وجہ سے ان پرلگائی گئی تھی۔

بنگلہ دیش میں اسلامی مبلغین کا کہناہے کہ لوگوں کو دوسرے مذاہب کی تقاریب میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شکیب الحسن نے پیر کی رات ایک آن لائن فورم پر کہا: 'میں بمشکل دو منٹ تک سٹیج پر رہا، لوگ اس بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ میں نے تقریب کا افتتاح کیا۔'

ساتھ ہی انہوں نے کہا: 'میں نے ایسا نہیں کیا اور ایک باشعور مسلمان ہونے کی حیثت سے میں ایسا کروں گا بھی نہیں، لیکن شاید مجھے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔ میں اس کے لیے معذرت چاہتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں۔'

انہوں نے مزید کہا: 'مذہبی فرائض پر کاربند مسلمان کی حیثیت سے میں ہمیشہ مذہبی شعار کی پابندی کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔'

اس سے قبل ایک شخص نے فیس بک لائیو فورم پر شکیب کو ذاتی طور پردھمکیاں دی تھیں، جس کے کئی گھنٹے بعد کرکٹر نے بات کی۔ دھمکی دینے والے نے ان پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔

بعد میں مذکورہ شخص نے معافی مانگ لی اور روپوش ہوگئے لیکن انہیں منگل کو سونام گنج کے شمالی مشرقی ضلع سے گرفتار کرلیا گیا۔

شکیب اس وقت ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں میں انٹرنینشل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے صف اول کے آل راؤنڈر ہیں۔ انہیں اکتوبر 2019 میں بدعنوانی کے ضابطے کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا جس کے بعد ان پردو سال کی پابندی عائد کی گئی تاہم بعد میں ایک سال کی سزا معطل کر دی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ