’بھائی کے تشدد کا امی کو بتایا تو اس نے غصے میں سر پر پتھر دے مارا‘

خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن، خیبر پختونخوا پر ایک نظر جہاں خاطر خواہ قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد پہلے ہی عام تھا، مگر کرونا لاک ڈاؤن نے حالات مزید ابتر کر دیے۔

(اے ایف پی)

ممتاز پاکستانی مذہبی رہنما مولانا طارق جمیل نے الزام عائد کیا تھا کہ کرونا (کورونا) وائرس خواتین کے لباس کی وجہ سے آیا ہے۔ قومی میڈیا پر انہوں نے کہا تھا کہ کرونا وائرس کی وجوہات میں ایک وجہ لڑکیوں کا مناسب لباس نہ پہننا ہے۔

ان کے یہ خیالات نئے نہیں ہیں، 2005 کے زلزلے کے بعد بھی انہوں نے کچھ ایسا ہی تبصرہ کیا تھا۔

جب قومی سطح کے رہنما اور ذہن ساز اس طرح کے عورت کو خرابی اور برائی کی جڑ قرار دیتے ہیں تو اس کا اثر لوگوں پر ہونا لازمی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں قید رہنے سے بھی اعصاب چٹخے ہیں جس کی پاداش خواتین کو ادا کرنی پڑی ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران انسانی حقوق کے ڈائریکٹوریٹ کے پاس گھریلو تشدد کے 393 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی محتسب رخشندہ ناز نے بتایا کہ قبائلی علاقوں سے بھی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان، بنوں اور حتیٰ کہ پاڑہ چنار سے کیس آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے لہٰذا زیادہ تر معاملات رپورٹ نہیں ہوتے۔

مار پیٹ کی کہانیاں عام

آج جب دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح قبائلی اضلاع میں گھریلو تشدد کی کہانیاں عام ہیں۔ لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والی 49 سالہ نجمہ بتاتی ہیں کہ جب ان کی شادی ہوئی تو ان کی عمر 15 سال تھی جب کہ ان کے شوہر کی عمر 13 سال تھی۔

’سب میرے شوہر کو خبردار کرتے کہ میں اس سے دو سال بڑی ہوں اور اسے مجھ پر قابو پانا چاہیے۔ وہ مجھے ہر دن پیٹتا، یہاں تک کہ دن میں کبھی کبھی دو یا تین بار مجھے پیٹتا کہ میں اس کا غلبہ قبول کروں۔ میں نے کبھی بھی اونچی آواز میں اس سے بات نہیں کی کہ وہ میری عمر کی وجہ سے غیر محفوظ محسوس نہ کرے۔‘

نجمہ نے مزید کہا کہ جب وہ اپنی والدہ کو بتاتیں کہ ان کے شوہر انہیں روزانہ مارتے پیٹتے ہیں اور تشدد کے نشانات دکھاتیں تو والدہ کہتیں، ’صبر کرو، مجھے یقین ہے کہ تم اسے تبدیل کر کے ایک اچھا آدمی بناؤ گی۔ تم نے اس سے شادی کرلی ہے، تمہیں اس کے گھر میں رہنے اور مرنے کا عہد کرنا چاہیے۔‘

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ حمیرا بھی اپنے ہی گھر میں اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوئیں۔  وہ کہتی ہیں کہ لاک ڈاون کے دوران مرد زیادہ تر وقت گھر پر موجود رہے اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔

اپنی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میرا بھائی باقاعدگی سے مجھے پیٹا کرتا تھا اور ماں کو شکایت کرنے پر بھائی اتنا مشتعل ہوا کہ اس نے میرے سر پر پتھر دے مارا تھا جس کی وجہ سے میں بری طرح سے زخمی ہو گئی تھی اور مجھے کئی دن تک ٹھیک سے نظر نہیں آتا تھا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر گھریلو تشدد کے خلاف قانون منظور ہوا تو کیا وہ ملزم کے خلاف شکایت درج کروائیں گی؟ ان کا جواب نفی میں تھا۔

قانون سازی کا عمل اور مذہبی پارٹیوں کے اعتراضات

کے پی ڈومیسٹک وائلینس بل یعنی خیبر پختونخوا گھریلو تشدد کا بل اگست 2012 میں اے این پی، پی پی پی مخلوط حکومت کے دوران صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت جے یو آئی ف کے قانون ساز مفتی کفایت اللہ نے بل پر اعتراض اٹھایا تھا اور اس کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھجوانے کا کہا تھا۔سابق ایم این اے جمیلہ گیلانی کے ایک میڈیا بیان کے مطابق جب مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس بل کے خلاف اعتراض اٹھایا تو تمام خواتین قانون سازوں اور خواتین حقوق کارکنوں نے بل کے مخالفین کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہونے والی تھی، لیکن اس کا اختتام مزید تقسیم پر ہوا۔

یہ بل قومی اسمبلی نے 2009 میں متفقہ طور پر منظور کیا تھا، لیکن سینیٹ میں رہ گیا۔ قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے بھیجنے سے قبل قانون سازوں نے اہم سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی تھی۔ جے یو آئی ف کے اعتراضات کی وجہ سے مشترکہ اجلاس میں اس بل کو پاس نہیں کیا جا سکا۔ سابق ایم این اے بشریٰ گوہر نے بتایا کہ گھریلو تشدد کے بل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں خیبرپختونخوا کی خواتین ارکان نے نمایاں کردار ادا کیا۔

وہ سپیکر کے ذریعہ تشکیل دی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کی رکن بھی تھیں اور اتفاق رائے پیدا کرنے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل کو متفقہ طور پر منظور کروانے کے لیے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی کی رکن تھیں۔ جے یو آئی ایف کے اعتراضات تھے کہ بل مغربی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے اور تمام ہنگامی حالات میں ان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سماجی بہبود ڈائریکٹوریٹ ہیلپ لائن 'بولو' 080022227 کا آغاز کیا ہے۔

تحریک انصاف کی موجودہ حکومت خواتین تحفظ بل کو منظور کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اسے بھی پچھلی حکومت کی طرح اس بل کی منظوری کے لیے مذہبی سیاسی جماعتوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موجودہ حکومت نے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی سے مکمل مشاورت کے بعد اس بل کا مسودہ تیار کیا، لیکن اب بھی یہ بل منظور نہیں ہوا ہے کیونکہ ایک بار پھر مذہبی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے اس میں تبدیلیاں کی ہے۔

یہ بل 11 فروری 2019 کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2019 میں جے یو آئی ف اور جے ایل کے قانون سازوں نے اس پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ بل پیش کرنے کے بعد جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان اور جے یو آئی ف کے مولانا لطف الرحمن نے سپیکر سے بل کی منظوری میں تاخیر کرنے کا مطالبہ کیا۔

عنایت اللہ نے اسمبلی فلور پر متاثرہ لڑکیوں کو شیلٹر ہومز منتقل کرنے پر اعتراض کیا اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے معاملے کو حل کرنے کے لیے متاثرہ افراد کے لواحقین اور ملزمان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔

خواتین قانون ساز جمیلہ گیلانی نے لفظ ’خواتین‘ سے متعلق بل میں ترمیم کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون میں صرف خاتون کو ’شکار‘ قرار دیا گیا ہے، جب کہ بچوں اور گھر کے دیگر افراد کو بھی اس بل میں شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’گھریلو تشدد کا لفظ‘ سندھ گھریلو تشدد ایکٹ 2013 میں گھریلو تشدد کے شکار افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی عورت، بچے یا کسی بھی کمزور فرد کو گھریلو تشدد کے کسی بھی واقعے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین