عافیہ صدیقی کس حال میں ہیں؟

کیا ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں پاکستان میں اڑنے والی افواہوں میں صداقت ہے؟ سابق سفارت کار کی ان سے متعدد ملاقاتوں کا احوال۔

فوٹو کریڈٹ: انڈپینڈنٹ اردو

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکہ میں جاری اسیری پاکستان میں ملے جلے جذبات اور خیالات کو جنم دیتی ہے۔ بہت سی غلط فہمیاں اور دانستہ غلط اطلاعات بھی صورتحال کو مزید گھمبیر بناتی ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک بہت اذیت ناک زندگی گزار رہی ہیں جس میں ان پر مختلف قسم کا جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے۔

ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ وہ یقیناً شدت پسندوں اور القاعدہ کے ساتھ مبینہ طور پر رہی ہیں اور جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے، اس کی حقدار ہیں۔ پھر ایسے مذہبی سوچ رکھنے والے پاکستانی بھی ہیں جو اسے دینی رنگ دے کر کہتے ہیں کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے۔ 

اس مضمون کا مقصد ان مفروضوں کی صداقت پر بحث کیے بغیر ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے اپنی ملاقاتوں کا احوال بیان کرنا ہے۔ ایک پاکستانی سفارت کار کی حیثیت سے میں نے اپنی سرکاری ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران ڈاکٹر صدیقی سے متعدد مرتبہ امریکی حوالات میں ملاقاتیں کیں اور اس دوران حوالات کے اہلکاروں سے بھی تبادلہ خیال ہوتا رہا۔

مجھے ڈاکٹر صدیقی کے خاندان سے بھی کئی دفعہ بات کرنے کا موقع ملا۔ ان کی والدہ، بہن اور ان کے ہیوسٹن میں قیام پذیر بھائی سے میرا باقاعدہ رابطہ رہا۔ میرے قیام کے دوران ہر ممکن کوشش کی گئی کہ ڈاکٹر صدیقی اور ان کا خاندان مجھ سے مسلسل رابطے میں رہے۔ یہ رابطہ کبھی کبھی مسائل کا شکار بھی ہوا لیکن اس میں قدرے تسلسل برقرار رہا۔ رابطے میں مسائل کبھی ڈاکٹر صدیقی کی ضد کی وجہ سے اور کبھی جیل انتظامیہ کی سختی کی وجہ سے پیدا ہوتے تھے۔

ڈاکٹر صدیقی امریکی ریاست ٹیکسس میں واقع کارزویل جیل میں قید ہیں اور اسے وفاقی مرکز برائے صحت کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں صرف خواتین قیدی زیرحراست ہیں جنہیں کسی نہ کسی قسم کے صحت خصوصاً نفسیاتی امراض لاحق ہیں۔ یہ وسیع و عریض رقبے پر محیط قیدخانہ ہے جس کی حفاظت امریکی بحریہ کے سپرد ہے۔ یہ ٹیکسس کے دوسرے بڑے شہر ڈیلس کے قریب واقع ہے جہاں تقریباً ایک ہزار کے قریب خواتین قیدی مقیم ہیں۔

تمام قیدیوں کو روزانہ مرکز برائے صحت میں کافی دیر تک گھومنے پھرنے کی اجازت ہے۔ مرکز کے ڈاکٹر ان کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے ہیں۔ گو اکثر قیدی آپس میں مل جل سکتے ہیں لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور تقریباً 30 دیگر قیدی خواتین اس مرکز کے ایک علیحدہ حصے میں مقید ہیں۔ یہ تمام خواتین کسی نہ کسی بڑے جرم میں قید ہوئی ہیں۔ ان کا حصہ کافی بڑے ہال میں واقع ہے جس میں ہر قیدی کو ایک علیحدہ سیل ملا ہوا ہے۔ قیدیوں کو یہاں بستر اور ٹوائلٹ کی سہولت دستیاب ہے۔

سیل بہت صاف ستھرا ہے اور مرکزی ہال میں کھلنے کی سہولت کے علاوہ ٹی وی کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ کھانے کی میزیں بھی لگی ہوئی ہیں۔ ہال سے منسلک ایک جمنازیم بھی ہے جو سارے قیدی مقررہ وقت میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی ہال کے ساتھ ایک وسیع لان بھی ہے جو قیدی مقررہ وقت پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس حصے کے قیدیوں کے لیے علیحدہ ڈاکٹر موجود ہیں جو روزانہ قیدیوں کی صحت کا معائنہ کرتے ہیں۔

ڈاکٹروں میں ماہر نفسیات بھی شامل ہیں جو قیدیوں کی کونسلنگ کرتے ہیں۔ قیدیوں کے لیے مختلف مذاہب کے عالم بھی مہیا ہیں جو ان سے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور انہیں مذہبی مسائل کے حل کے بارے میں مشورے اور مدد دیتے ہیں۔ انہی میں ایک مسلمان عالم بھی شامل ہیں جن سے ڈاکٹر صدیقی باقاعدگی سے ملتی ہیں اور مختلف مسائل کے بارے میں بات کرتی ہیں۔

ڈاکٹر صدیقی کے ساتھ میری ملاقاتوں کے دوران کبھی بھی کوئی جیل اہلکار ساتھ نہیں ہوتا تھا لیکن یقیناً ہماری گفتگو سنی اور ریکارڈ کی جا رہی ہوتی تھی۔ عموماً مرکز کے حکام کافی مددگار ہوتے تھے اور ڈاکٹر صدیقی کی شکایات پر ان کے حل کی کوششیں کرتے تھے۔

ڈاکٹر صدیقی عموما شلوار شلوار قمیض پہنتی ہیں اور ان کا سر ہمیشہ ڈھکا رہتا ہے کبھی کبھی وہ اپنا چہرہ نقاب سے ڈھکتی بھی ہیں۔ ایک دفعہ جب انہیں سزا دی گئی تھی تو وہ ہاتھوں میں زنجیروں میں جکڑی ہوئی میرے  پاس ملاقات کے لیے لائی گئیں۔ میرے اصرار پر ان کی زنجیریں کھول دی گئی تھی۔ انھیں زنجیر اس وقت پہنائی گئی جب انہیں قید تنہائی کی سزا دی گئی تھی کیونکہ ان پر جیل سٹاف کے ساتھ جھگڑنے کا الزام تھا۔

کارزویل جیل کا شمار ٹیکسس میں خواتین کی بڑی جیلوں میں ہوتا ہے (فوٹو کریڈٹ: www.bop.gov) 


ڈاکٹر صدیقی کچھ زیادہ ادویات نہیں لیتی تھی لیکن جب انہیں ضرورت ہوتی تھی تو انہیں جیل کے ڈاکٹر ادویات مہیا کرتے تھے۔ انہیں کچھ ادویات پر شک بھی ہوتا تھا اور انہیں لینے سے انکار کر دیتی تھیں۔ 

ڈاکٹر صدیقی میرے ساتھ اپنے خاندان کے مسائل کے بارے میں کبھی بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی انھوں نے اپنے بچوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کی میرے خیال میں یہ باتیں وہ اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ کیا کرتی تھیں۔ 

میری ملاقاتیں عموما 12 اور تین بجے کے درمیان میں ہوتی تھی اور کبھی کبھی میں ان کے لیے پاکستانی اخبارات اور فروٹ لے کر جایا کرتا تھا۔ لیکن انہیں ان چیزوں کو دیکھ کر کچھ زیادہ خوشی نہیں ہوتی تھی یا وہ کسی قسم کی خوشی کا اظہار نہیں کرتی تھیں۔

ان کے ساتھ گفتگو سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک انتہائی ذہین خاتون ہیں اور بڑی روانی سے اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔ وہ میرے ساتھ اردو میں بات کرتی تھیں، لیکن ان کی انگریزی بھی بہت اچھی ہے اور میں نے دیکھا کہ وہ ڈاکٹروں اور دوسروں لوگوں سے انگریزی میں نہایت روانی سے گفتگو کرتی ہیں۔

وہ کافی جذباتی خاتون بھی ہیں اور انہیں حکومت پاکستان سے کافی شکایات بھی ہیں۔ وہ پوچھتی رہتیں کہ پاکستانی حکومت انہیں کیوں رہا نہیں کر پا رہی ہے؟ ان کا امریکی نظام عدل پر بھی کوئی یقین نہیں ہے اور وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی موجودہ مشکلات ایک صیہونی سازش کا نتیجہ ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی فکر ہوتی تھی کہ کہیں انہیں کھانے میں کچھ ملا کر دے نہ دیا جائے۔

ڈاکٹر صاحبہ کی خواہش ہوتی تھی کہ ان سے ہر ہفتے ملاقات کی جائے جو کہ مختلف وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں تھی لیکن ہماری کوشش ہوتی تھی ان سے ہر مہینے ملاقات کی جائے۔ ایک دفعہ پاکستانی سینیٹ کا ایک وفد سینیٹر مشاہد حسین کی قیادت میں ڈاکٹر صدیقی سے جیل میں ملنے گیا تھا لیکن ان کے انتظامات ہمارے سفارتخانے نے کیے تھے۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر صدیقی کی وکیل خاتون بھی موجود تھیں۔

ڈاکٹر صدیقی کو اپنے گھر والوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت تھی۔ فون کے لیے پیسے یا تو ان کے گھر والے ادا کر سکتے تھے یا وہ یہ ادائیگی ان پیسوں سے کر سکتی تھیں جو وہ اس مرکز میں کام کرنے کے بعد حاصل کر سکتی تھیں۔ ڈاکٹر صدیقی کو جیل کے اندر واقع دکان میں بھی جانے کی اجازت تھی جس میں وہ روزمرہ ضروریات کی اشیا خرید سکتی تھیں۔

ڈاکٹر صدیقی مجھ سے کہتی تھیں کہ وہ جلد از جلد اس صورتحال سے نکلنا چاہتی ہیں۔ اس میں ناکامی پر وہ کافی پریشان اور غصے میں بھی آجاتی تھیں۔ اس وجہ سے کئی دفعہ ان کی جیل حکام سے تلخ کلامی بھی ہوتی رہی۔ اسی وجہ سے ایک مرتبہ انہیں قید تنہائی کی سزا دی گئی جو ہماری سفارتی مداخلت سے ختم ہوئی۔

اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پاکستانی میڈیا پر جو خبریں چلتی ہیں کہ ان کے ساتھ جیل میں کوئی برا سلوک ہو رہا ہے بلکہ یہ بھی افواہ اڑی کہ وہ شاید حاملہ ہو گئی ہیں۔ یہ باتیں بالکل غلط ہیں۔ انہیں وہاں جیل کے قواعد کے اندر رہ کر خاصی آزادیاں حاصل ہیں، وہ جِم بھی جایا کرتی ہیں اور واک بھی کرتی ہیں۔ ان سے جیل کے دفتر میں کچھ کام لیا جاتا ہے لیکن اس کا انہیں معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ کو شکایت تھی کہ انہیں جیل میں حلال کھانا نہیں ملتا۔ ہم نے اس کے لیے جیل کے حکام سے بات کی تو انہیں حلال کھانا بھی ملنا شروع ہو گیا۔

اس کے علاوہ ان سے ملنے جلنے پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ میں نے جب بھی ان سے ملنے کی درخواست کی، مجھے جلد ہی اجازت مل گئی۔

ان کی والدہ اور بہن انہیں باقاعدگی سے فون کرتی تھیں اور جب کبھی کبھی فون پر رابطہ نہیں ہو پاتا تھا تو وہ کافی پریشان ہوتی تھیں۔ ان کی والدہ خاص طور پر اپنی بیٹی کی صحت اور فلاح کے بارے میں کافی پریشان رہتی تھیں۔ ان کے بھائی جو ہیوسٹن میں قیام پذیر تھے وہ بھی ان سے ملنے جایا کرتے تھے لیکن ان کی ملاقاتیں اتنی باقاعدگی سے نہیں تھیں جتنی ان کی والدہ اور بہن ان سے ٹیلیفون پر بات کرتی تھیں۔

کبھی کبھی ڈاکٹر صدیقی اپنی والدہ اور بہن سے ٹیلی فون پر بات کرنے پر بھی انکار کر دیتی تھیں اور کافی مشکلوں سے ان کو فون پر بات کرنے پر رضامند کیا جاتا تھا۔ میرے خیال میں یہ اس وقت ہوتا تھا جب وہ کافی پریشان ہوتی تھیں اور انھیں اپنی رہائی کے بارے میں زیادہ ناامیدی ہو جاتی تھی۔

ڈاکٹر صدیقی بہرحال باہمت خاتون ہیں اور بہادری سے ان مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین