بریڈفورڈ میں احتجاج پر برطانوی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو ڈیمارش: پاکستان

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملک میں عدم موجودگی کے باعث وزارت خارجہ کی جانب سے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر میٹ کینل کو ڈیمارش جاری کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر انداربی نے برطانوی قائم مقام ہیڈ آف مشن کو ڈیمارش جاری کرنے کی تصدیق کی ہے (فائل فوٹو/ انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعے کو برطانوی شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر ہونے والے احتجاج پر قائم مقام ہائی کمشنر میٹ کینل کو ڈیمارش جاری کیا ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملک میں عدم موجودگی کے باعث وزارت خارجہ کی جانب سے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر میٹ کینل کو ڈیمارش جاری کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر انداربی نے انڈپینڈنٹ اردو کو برطانوی قائم مقام ہیڈ آف مشن کو ڈیمارش جاری کرنے کی تصدیق کی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدام بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

ان کی جانب سے کسی سیاسی جماعت کا نام تو نہیں لیا گیا مگر یہ کہا گیا ہے کہ ’یہ دیمارش برطانوی سرزمین پر پاکستان کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت کے خلاف استمعال کیے جانے والے اشتعال انگیز الفاظ پر جاری کیا گیا ہے۔‘

اس بارے میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ’اگر کسی غیر ملکی حکومت کو لگتا ہے کہ کوئی جرم ہوا ہے تو وہ تمام متعلقہ مواد برطانیہ میں اپنی پولیس لائزن کو فراہم کرے۔‘

برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ’برطانیہ میں پولیس اور استغاثہ حکومتی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر کام کرتے ہیں۔

’اگر کسی غیر ملکی حکومت کا خیال ہو کہ کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو اسے چاہیے کہ تمام متعلقہ مواد برطانیہ میں اپنی پولیس لائزن کے ذریعے فراہم کرے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جو بھی مواد برطانوی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا، اس کا پولیس جائزہ لے گی اور اس کے نتیجے میں فوجداری تحقیقات کا آغاز ہو سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم دوسری جانب جمعے ہی کو مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے دو وزرائے مملکت نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی حکومت نے برطانوی حکام کو ایک خط لکھا ہے جس میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے ’اشتعال انگیز‘ بیانات کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔

بلال اظہر کیانی نے خاص طور پر کہا کہ مذکورہ ویڈیو میں ’افواج کے سربراہ‘ کو دھمکی دی گئی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق بلال اظہر کیانی نے اس معاملے میں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ملوث ہونے کا ذکر کیا جبکہ طلال چوہدری نے کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا۔

اطلاعات کے مطابق ایک سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ کو برطانیہ میں مظاہرین جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جہاں مظاہرین نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے خلاف ’انتہائی اشتعال انگیز‘ اور ’قابل اعتراض زبان‘ استعمال کی۔

دفتر حارجہ کی جانب سے دیے گئے احتجاجی مراسلے کے مطابق حکومت پاکستان نے برطانیہ کی سرزمین سے دی جانے والی ان ’دھمکیوں‘ کا سخت نوٹس لیا اور زور دیا کہ برطانیہ اپنی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

مراسلے میں پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ’برطانیہ ایسے شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گا اور انہیں قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرائے گا۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان