خواتین کی ویب سائٹ تک رسائی اتنی پیچیدہ کیوں؟

پنجاب ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ با اختیار خواتین کی کہانیوں پر مبنی ایک آن لائن ڈیجیٹل رسالے کا اجرا  کر رہا ہے، جس تک رسائی 22 اپریل سے ممکن ہونا تھی۔

پنجاب ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ  کی جانب سے اخبار میں شائع کیا گیا اشتہار

اخبار کے پہلے صفحے پر خاتون پولیس وارڈن کی تصویر کے ساتھ چھپا ’عورت با اختیار' کا کیپشن پڑھتے ہی تجسس ہوا کہ یہ کیا چیز ہے، لہذا تفصیلات جاننے کی کوشش کی اور معلوم ہوا کہ پنجاب ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ با اختیار خواتین کی کہانیوں پر مبنی ایک آن لائن ڈیجیٹل رسالے کا اجرا  کر رہا ہے، جس تک رسائی 22 اپریل سے ممکن ہونا تھی۔

بس پھر کیا تھا، ہم کسی کھوجی کی طرح حقائق کا پتہ لگانے کے لیے پنجاب ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے دفتر جاپہنچے۔

وہ ایک بڑا سا خالی کمرہ تھا، جہاں چاروں طرف سے روشنی آرہی تھی، پنکھا اپنی پوری رفتار سے چل رہا تھا، دو کرسیاں اور دو میزیں پڑیں تھیں جن کے پیچھے دو صاحبان بیٹھے تھے ان ہی میں سے ایک احسان اسلم بھی تھے۔

 ڈیپارٹمنٹ کے کمیونیکیشن ایکسپرٹ احسان اسلم نے بتایا کہ ابھی اسے دیکھنے کے لیے پہلے ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر جانا پڑے گا اور اس کے بعد وہاں دیے گئے لنک کو کلک کر کے اپنی تفصیلات دینے کے بعد اس رسالے کو دیکھا جاسکے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ابھی اس کے یو آر ایل (URL) کو جاری ہونے میں ایک سے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ درکار ہو گا۔‘

کیا ڈیڑھ ماہ؟ بھئی جب ویب سائٹ تیار نہیں تھی تو لانچ کیوں کی گئی؟ اور اگر لانچ کر ہی دی گئی تو رسائی اتنی پیچیدہ کیوں؟ یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ کچھ مبصرین نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ پنجاب ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو پورے ’ہوم ورک‘ کے ساتھ خواتین کی اس ویب سائٹ کو میدان میں اتارنا چاہیے تھا۔

رسالے کی مزید تفصیلات جاننے پر پتا چلا  کہ یہ ایک سہ ماہی رسالہ ہے جو خاص طور پر صرف خواتین کی غیر معمولی کارکردگی کی کہانیاں شائع کرے گا۔ موجودہ جریدہ جو جنوری تا اپریل 2019 کا ہے اس میں زیادہ کہانیاں ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کے حوالے سے ہیں۔  

انڈپینڈنٹ اردو کے سوال کرنے پر احسان نے بتایا کہ یہ رسالہ صرف اُن خواتین کی پہنچ میں ہوگا جو انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں اور ان کے پاس سمارٹ فون، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ ہو اور جن کے پاس یہ سب نہیں انہیں اس سے شاید کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔

رسالے سے غیر تعلیم یافتہ خواتین کو کیسے فائدہ ہوگا؟

اس حوالے سے کمیونیکیشن پلانر راشد سلیم کہتے ہیں کہ پنجاب ڈیولیپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ہوسٹلز کے حوالے سے بہت کام کیا ہے، لہذا اس رسالے سے ایک اَن پڑھ گھریلو خاتون کو یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ کسی دور دراز علاقے میں رہتی ہیں اور ان کی بیٹی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب کے کسی شہر آنا چاہتی ہے تو وہ اس رسالے کے ذریعے یا ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ کے ذریعے اپنے گھر والوں کو تسلی دے سکتی ہے کہ وہ ان ہاسٹلز میں قیام کر سکتی ہے جو ہر لحاظ سے اس کے لیے محفوظ ہیں۔

اس رسالے کی نگران اعلیٰ ویمن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سیکریٹری ارم بخاری ہیں جبکہ مدیر اعلیٰ ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان اور مدیر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ارشد بیگ ہیں۔

ہوٹ سوٹ اور وی آر سوشل کے ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان بھر میں تین کروڑ 60 لاکھ افراد عوامی رابطے کی ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں جن میں سے دس لاکھ افراد ویب سائٹ یوزرز ہیں اور ان میں خواتین کی تعداد 20 سے 25 فیصد ہے۔ پنجاب ویمن ڈیولیپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے فیس بک پیج کو 76 ہزار لوگ فالو کرتے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے، اسی لیے ڈپارٹمنٹ کے لوگ پُر امید ہیں کہ اس رسالے کی رسائی متعدد خواتین تک ممکن ہو سکے گی۔

سیکرٹری ڈیموکریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ تنویر جہاں اس رسالے کے بارے میں مثبت خیالات رکھتی ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دیکھنا یہ پڑے گا کہ اس پراجیکٹ کی پہنچ کتنی ہوگی؟

انہوں نے بتایا: 'اگر اس کی پہنچ محدود بھی ہوگی تو اس سے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوگا اور ویسے بھی پاکستان میں زیادہ تر پراجیکٹس کی رسائی خواتین تک کم ہی ہوتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس رسالے کا فائدہ ایک ہی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے اگر ڈیپارٹمنٹ اسے پبلک سروس میسج کی طرح پھیلائے، اس کے اشتہار ٹی وی پر چلائے جائیں کہ اس رسالے تک کیسے رسائی حاصل کرنی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ’یہ خواتین کو با اختیار اور متاثر کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے، چند عورتوں کو بھی فائدہ ہوا تو اس کا اثر معاشرے پر ہوگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین