سیاستدانوں کی غلطیوں کا فائدہ غیر جمہوری قوتوں نے اٹھایا: مریم نواز

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی 13 ویں برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے لاڑکانہ کے گڑھی خدا بخش میں منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ماضی میں سیاست دانوں سے جو غلطیاں ہوئیں اس کا فائدہ غیر جمہوری قوتوں نے اٹھایا۔

(ٹوئٹر)

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی 13 ویں برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے لاڑکانہ کے گڑھی خدا بخش میں منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ماضی میں سیاست دانوں سے جو غلطیاں ہوئیں اس کا فائدہ غیر جمہوری قوتوں نے اٹھایا۔ مگر بعد میں ان غلطیوں کا ازالہ بھی سیاست دانوں نے ہی کیا۔ جس کا ثمر پاکستان کو ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کو گرانے کی بات کی گئی، مگر نواز شریف نے کہا کہ وہ حکومت گرانے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

مریم نواز شریف کے مطابق ’ایک انسان جو 22 سال سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا تھا اسے عوام پر مسلط کر دیا گیا۔ عوام نے تو اسے منتخب نہیں کیا تھا۔ جب جمہوری حکومتوں نے مدت پوری کرنا شروع کی تو سیاسی کوڑا اکٹھا کر کے ایک جماعت بنائی گئی جس کا نام ہے تحریک انصاف۔ جسے بعد میں عوام کی منتخب حکومت کے خلاف دھرنوں میں استعمال کیا گیا۔‘ 

 مریم نواز نے کہا کہ جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کے لیے ان کے خاندان والوں کو ہفتہ لگ جاتا ہے جب کہ این آر او مانگنے کے لیے عمران خان کا پیغام لانے والوں کے لیے جیلوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم وہ تحریک ہے جس نے تمام صوبے کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا ہے۔ ناکام اور ہارا ہوا شخص عمران خان پی ڈی ایم سے این آر آو مانگ رہا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں اگر کسی نے این آر او دیا تو وہ غدار ہوگا، اب تو وہ این آراو دینے کے بھی قابل نہیں۔  

 مریم نواز کا جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’کوئی سرکاری ملازم ہو کر بھی اربوں کھربوں بنائے تب بھی معصوم، کوئی ملک توڑے، آئین توڑے اور سیاچن کھوئے تو بھی معصوم، کوئی کشمیر کا سودا کرے تو بھی معصوم، کوئی حلف توڑ کر غداری کرے تو بھی معصوم، کوئی مخالفین کو جیل میں ڈالے تو بھی معصوم۔ 'سیاستدانوں کی کردار کشی کی جاتی ہے مگر یاد رکھیں نظریے کو پھانسی نہیں لگ سکتی، جلاوطنی نہیں ہو سکتی۔‘

 ’اپوزیشن جب مہنگائی کی بات کرتی ہے تو عمران خان کہتے ہیں کہ اپوزیشن والے فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔ کیا سب کو یاد نہیں کہ کیسے عمران خان نے بھارت جاکر فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بات کی تھی۔ جب یہ امریکہ گئے تو اپنی فوج اور آئی ایس آئی پر حملے کیے۔ عوام کے پاس وہ ویڈیوز موجود ہیں جس میں عمران خان فوج کو بدنام کررہے ہیں۔‘ 

’ایک پیج کی رٹ لگا کر عمران خان نے فوج کو بدنام کیا ہے۔ جب اپوزیشن کہتی ہے کہ مہنگائی ہورہی ہے تو عمران خان کہتے ہیں فوج میرے پیچھے کھڑی ہے۔ آپ زیادہ سیانے مت بنیں،  فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب آپ کی نااہلی کا بوجھ فوج کو اٹھانا پڑتا ہے۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب آپ سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے لیے فوج کا نام لیتے ہیں۔‘ 

مریم نواز نے پی پی پی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ سنا تھا کہ سندھیوں کے دل اور دسترخوان بڑے ہوتے ہیں اور آج یہ ثابت بھی ہوگیا۔ گزشتہ رات جب میں ڈیڑھ بجے رتو دیرو پہنچی تو سردی کے باوجود بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو اور فریال تالپور دروازے پر ان کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ 

’گزشتہ بار جب بلاول بھٹو نے مجھے کراچی سانحہ کارساز جلسے کے لیے بلایا تو میرا دروازہ توڑا گیا، تو اس بار شاید بلاول بھٹو نے یہ سوچ کر مجھے گھر پر ٹھہرایا کہ پھر کراچی کے واقعے کی طرح میرے دروازے کو کوئی توڑ نہ سکے۔‘ 

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر عمران خان نے 31 جنوری تک  استعفیٰ نہیں دیا تو پھر لانگ مارچ ہو گا، اسلام آباد کا رخ کرکے بھرپور تحریک چلائیں گے۔ 

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 13 ویں برسی کے موقع پر لاڑکانہ کے گڑھی خدا بخش میں منعقد پی پی پی کے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے جلسے کے شرکا سے کہا کہ گڑھی خدا بخش کے مزار کی طرف منہ کر کے یہ وعدہ کریں کہ لانگ مارچ کی کال آئے تو آپ دما دم مست قلندر کا نعرہ لگا کر نکل آئیں گے۔ 

انھوں نے کہ ’اب تاریکی چھٹنے والی ہے مجرم حکمرانوں کے احتساب کا وقت آگیا ہے اور آمروں کا تسلط ختم ہونے کو ہے۔ کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کہ ہم ڈر جائیں گے، ہم پیچھے ہٹ جائیں گے تو پھر وہ گڑھی خدا بخش کے مزاروں کو دیکھے۔ وہ ذوالفقار بھٹو  اور بینظیر بھٹو کو دیکھے جنھوں نے جان تو دے دی مگر اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’حکمرانوں کو نہ کچھ نظر آرہا ہے اور نہ کچھ سنائی دے رہا ہے۔نہ ان کو عوام کی غربت اور بیروزگاری یا مہنگائی کا طوفان نطر آتا ہے۔ عوام کو روٹی نہیں دے سکتا وہ کہتا ہے میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ انھوں نے کسی کو نہیں چھوڑا، نہ مزدور، کسان، ڈاکٹر، طلبہ کو چھوڑا۔ مگر اب غربت اور بیروزگاری سے تنگ عوام اب عمران خان کو نہیں چھوڑیں گے۔ عمران خان نہ تو عوام کے نمائندہ ہیں اور نہ ہی منتخب نمائندہ بلکہ وہ غاصب ہیں جس نے عوام کے حقوق غصب کیے ہیں۔ میں کیسے یہ مانوں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔ جس جمہوریت کے لیے بینظیر بھٹو نے اپنی جان دے دی، یہ وہ جمہوریت نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا جس ملک میں  نہ بولنے کی آزادی ہو نہ لکھنے کی اجازت ہو، جہاں بات کرنے اور جلسے کرنے کی اجازت نہ ہو، اگر کسان احتجاج رکے تو گولی ماری جاتی ہے۔ یہ آمروں کا وتیرہ ہے۔ اس حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو یہ حکمران ملک کا بیڑہ غرق کر دیں گے اور ہم یہ کسی قیمت پر نہیں ہونے دیں گے۔ 

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کرکٹ ٹیم چلانے والے ہیں ملک چلانے والے لوگ نہیں ہیں۔ میں نے پہلے دن کہا تھا کہ یا تو ملک چلالو یا پھر نیب چلالو۔ اس لیے نہیں کہا تھا کہ مجھے کوئی نیب سے ڈر ہے، میں نے جیل کاٹی ہوا ہے۔ ‘

انھوں نے کہا کہ حکمران ملک نہیں چلاسکتے، ہماری حکومت میں ڈالر 80 روپے کا تھا مگر آج 180 روپے کا ہے۔

انھوں نے کہا ’جب آپ مان رہے ہیں کہ آپ ملک نہیں چلا سکتے تو پھر کیوں گھر نہیں چلے جاتے۔ عوام کے نمائندے پی ڈی ایم کا حصہ سیاسی پارٹیاں ہیں۔‘

قبل ازیں جلسے میں شرکت کے لیے پاکستان مسلم لیگ نواز کا نو رکنی وفد مریم نواز کی سربراہی میں گزشتہ روز لاڑکانہ کے نوڈیرو شہر میں واقع بھٹو ہاوس پہنچ گیا تھا۔ وفد میں مریم نواز  کے ساتھ مسلم لیگ کے رہنما مریم اورنگزیب، پرویز رشید، کیپٹن صفدر، محمد زبیر اور مفتاح اسماعیل شامل ہیں۔  

دوسری جانب جمعیت علما اسلام (فضل الرحمٰن) کے پانچ رکنی وفد نے جی یو آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا غفور حیدری کی قیادت میں جلسے میں شرکت کی۔ 

مقامی صحافیوں کی جانب سے سکھر ائیرپورٹ پر پی پی پی اور جی یو آئی قیادت میں اختلافات کے متعلق سوال کیا تو مولانا غفور حیدری نے ایسی افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو دعوت دی گئی تھی مگر وہ اپنے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے باعث پیپلزپارٹی کے جلسے میں شریک نہیں ہوسکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان