افغانستان: جہاں سینیما ہیں، فلم دیکھنے والا کوئی نہیں

افغانستان میں سینیما کی تاریخ 70 سال پرانی ہے، مگر خانہ جنگی اور طالبان کی وجہ سے یہ روایت دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔

طالبان کے خاتمے کے بعد افغان سینیما کے احیا کی امید تھی مگر ایسا نہیں ہو سکا (انڈپینڈنٹ فارسی)

گذشتہ ماہ کابل شہر کا سب سے مشہور اور 70 سال پرانا ’پارک‘ سینیما حکومت کے حکم سے بلڈوزروں تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس پر ہونے والے احتجاج کی لہر ابھی تک نہیں تھمی، تاہم جو سینیما بچ بھی گئے ہیں، ان میں کم ہی لوگ فلم دیکھنے جاتے ہیں۔

افغانستان میں فلمی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پارک سینیما محض ایک سینیما نہیں تھا بلکہ کابل کی ثقافتی تاریخ کا حصہ تھا اور اس کے انہدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے ہاتھوں افغانستان کے ثقافتی ورثے کی تباہی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

اس سینیما کو تباہ کرنے کا حکم افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارک سینیما نشئیوں، منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد کی آماج گاہ بن گیا تھا۔

اگرچہ امرااللہ صالح نے کہا تھا کہ حکومت افغان ثقافتی شخصیات کی درخواست پر سینیما کی عمارت کی جگہ ایک نئی عمارت تعمیر کرے گی، اس کے باوجود پارک سینیما کے انہدام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا اور افغانوں کی اکثریت نے سینیما پارک کی مسماری کی مذمت کی۔ 

معروف افغان فلم ساز اور افغان فلم گورنمنٹ فاؤنڈیشن کی سربراہ ساحرہ کریمی نے پارک سینیما کے اندر دھرنا دیا تھا لیکن انہیں زبردستی وہاں سے نکال دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر سینیما پارک کے انہدام پر سخت رد عمل سامنے آیا اور میڈیا ذرائع ابلاغ نے بھی اس کی خاصی کوریج کی تاہم افغان حکومت کی سینیما پالیسی پر کوئی خاص تنقید دیکھنے میں نہیں آئی۔

افغان دارالحکومت کا سینیما پارک واحد سینیما نہیں ہے جسے تباہ کیا گیا ہے۔ کابل اور افغانستان کے دوسرے شہروں میں بہت سے سینیما گھروں کو مسمار کیا گیا ہے۔ 1992 میں افغانستان میں ’سینیما‘ نامی کوئی چیز اپنا مطلب کھو بیٹھی تھی۔ اس سے پہلے سینیما میں جانا کر فلم دیکھنا کابل اور افغانستان کے کچھ محدود شہروں کے شہریوں کے لیے عمدہ خاندانی تفریح ​​تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان سینیما کی تاریخ

افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان 1927 میں یورپ کے طویل دورے پر گئے تو واپسی پر اپنے ساتھ ایک پروجیکٹر لے کر آئے جس پر کابل کے علاقے پغمان میں لوگوں کو ان کے دورے کے بارے میں فلم دکھائی گئی۔ یہ افغانستان میں چلنے والی پہلی فلم تھی۔

تاہم ملک کا پہلا سینیما  افغانستان میں پہلا سینیما، جسے ’بہزاد‘ سینیما کہا جاتا ہے، امان اللہ خان کے دور میں قائم کیا گیا تھا ، لیکن مذہبی علما کے دباؤ کی وجہ سے بند رہا۔ محمد نادر خان کے دور تک یہ سینیما دوبارہ فعال ہوا تھا۔

افغانستان میں سینیما کی سرگرمیوں کا عروج 1940 کی دہائی سے لے کر 1960 کی دہائی کے آخر تک دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران کے دوران لوگ اپنے کنبے کے ساتھ فلمیں دیکھنے جاتے تھے۔ 

اس زمانے میں پشاور سے جی ٹی ایس کی بس کابل جاتی تھی، اور پشاور سے کئی لوگ اس بس میں بیٹھ کر کابل جاتے تھے اور بالی وڈ کی فلم دیکھ کر اگلے دن واپس آ جاتے تھے۔

افغان سینماؤں میں زیادہ تر بھارتی فلمیں دکھائی جاتی تھیں، اس کے بعد کہیں جا کر ہالی وڈ کی فلموں کا نمبر آتا تھا، تاہم خود افغان فلمیں زیادہ مقبول نہیں تھیں۔

اولین افغان فلموں میں ’روزگاران‘ کا نام لیا جاتا ہے جو 1970 میں کابل کے ’نندارے‘ (نظارے) سینیما میں دکھائی گئی۔ اس کے علاوہ ’طلب گار،‘ ’قاچاق بران‘ (سمگلر)، ’رابعہ بلخی،‘ ’مجسمہ ہا می خندد‘ (مجسمے ہنس رہے ہیں) ’فرار‘ اور ’حماسۂ عشق‘ چند اہم مقامی فلمیں ہیں۔

تاہم افغان فلم انڈسٹری پوری طرح سے پاؤں جمانے نہیں پائی تھی کہ 1978 میں بغاوت ہو گئی اور اس کے بعد جو خانہ جنگی شروع ہوئی، اس کے اثرات سے افغانستان ابھی تک نکل نہیں پایا۔

اس کے باوجود اکادکا فلمیں بنتی رہیں۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کے دور میں معاشرتی اور جذباتی مواد والی متعدد فلمیں بنائی گئیں، مثال کے طور پر ’نقطۂ نیرنگی،‘ ’مرد ہا قول است،‘ اور ’شاد گل‘ مگر یہ فلمیں باکس آفس پر کوئی خاص بزنس نہیں کر پائیں۔

1990 کی دہائی کے شروع میں مجاہدین کے تسلط کا مطلب افغانستان میں سینیما کے زوال کا اعلان تھا۔ جنگ کے ذریعے کابل اور اس کے باہر تقریباً 90 فیصد سینیما بند ہو گئے۔ طالبان نے صرف سینیما تباہ کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ کابل میں واقع افغان فلم آرکائیو کو بھی آگ لگا دی گئی جہاں ان گنت فلمیں ہمیشہ کے لیے راکھ ہو گئیں۔ افغان فلم فاؤنڈیشن کے متعدد ملازم افغان فلم آرکائیو کا صرف ایک حصہ بچا سکے۔

افغانستان میں طالبان کے خاتمے اور حکومت کی تبدیلی کے بعد فلم انڈسٹری میں ایک بار پھر پنپنے کی توقع کی جا رہی تھی، البتہ ان برسوں کے دوران کابل کے 23 سینیما گھروں میں سے صرف پانچ سینیما گھر ہی دوبارہ بحال ہو سکے ہیں، اور ان سینیما گھروں میں اکثریت پرانی بھارتی فلمیں ہی دکھا رہی ہے۔

افغانستان کے دوسرے صوبوں میں بھی صورت حال اور بھی خراب ہے۔ کابل سے باہر زیادہ تر سینیما گھروں کو تباہ اور دوبارہ منتقل کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہرات شہر کے واحد سینیما کو تباہ کر کے اس کی جگہ مسجد تعمیر کر دی گئی تھی۔

افغانستان میں فی الحال کوئی بھی فلمی صنعت میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا ہے۔ افغانستان میں ایک زمانے میں 117 سینیما گھر تھے لیکن اب صرف 17 چل رہے ہیں۔ ان میں سے پانچ سینیما پرانے، جب کہ باقی چھوٹے تھری ڈی سینیما گھر ہیں۔ 

افغانستان میں فلمی صنعت بھی مندی کا شکار ہے۔ افغانستان میں بنائی جانے والی کچھ بہترین فلموں میں افغان لوگوں کی رومرہ زندگی کی عکاسی کی بجائے ناچ گانے پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ افغانستان میں جو مشہور فلمیں بہت کم سہولیات سے بنتی ہیں وہ ان لوگوں کے ذوق کا نتیجہ ہیں جن کے پاس سینیما کے فن کا ذرا سا بھی سائنسی علم نہیں ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان میں ہر سال دو فلمی میلے لگتے ہیں جن میں سے ایک (ہرات ویمنز فلمی میلہ) عالمی شہرت یافتہ ہے۔ صرف 2020 میں ہی کرونا کی عالم گیر وبا کے درمیان دنیا بھر سے 100 سے زیادہ فلمیں اس میلے میں پیش کی گئیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر فلمیں چھوٹے نجی سینیماؤں میں یا پروجیکٹروں کی مدد سے گھروں میں دکھائی گئیں۔

افغانستان میں فلم اور سینیما میں اب بھی دلچسپی ہے، لیکن حالات کی وجہ سے بہت کم لوگ اکٹھے ہوکر فلم دیکھنے کو تیار ہیں۔ 

اسی وجہ سے بہت سے افغانی بھول گئے ہیں کہ سینیما میں اپنے دوستوں، عزیزوں اور رشتے داروں کے ساتھ مل کر فلم دیکھنے میں کتنا لطف آتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم