یوکرینی طیارہ گرانے کا ایک سال، لواحقین جوابوں کے منتظر

گذشتہ ماہ سامنے آنے والی کینیڈین حکومت کی رپورٹ کے مطابق جس علاقے میں طیارہ گرا وہاں بلڈورز بھیجے گئے اور انہوں نے طیارے کے ملبے کو روند دیا، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے ایرانی حکام پر ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے۔

گذشتہ سال ایران کے فضائی حدور میں مار گرائے جانے والے طیارے میں سوار ایک خاتون ان کی بیٹی کے لیے ٹورونٹو میں تعزیتی سروس میں لوگوں کی شرکت(اے ایف پی) 

جب نواز ابراہیم کو معلوم ہوا کہ ایرانی دارالحکومت کے قریب یوکرین کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی بڑی بہن بھی اس طیارے میں سوار تھیں۔

انہوں انے ابھی فون پر بات کی تھی۔ نیلوفر نے انہیں یقین دلایا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتی تھیں۔

جب اس طیارے کے گرنے کی خبر پھیلی جس میں 176 افراد سوار تھے تو نواز ابراہیم نے تہران میں اپنی والدہ کو کال کی۔ وہ بے چینی سے یہ جاننا چاہتی تھیں کہ حال ہی میں شادی کرنے والی ان کی 34 سالہ بہن اور ان کے شوہر نے لندن کے لیے کسی اور پرواز سے جانا تھا۔ اور پھر ان کی والدہ نے پرواز کا نمبر کے تصدیق کی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کی فوج کی جانب سے یوکرین ائیرلائنز کی پرواز پی ایس 752 کو غلطی سے گرائے جانے کے بعد سامنے آنے والے جوابات نے مزید سوالوں کو جنم دیا ہے۔

طیارے کے کئی مسافر جو کینیڈا کے رہائشی تھے اور کئی دوسرے ممالک جن سے تعلق رکھنے والے افراد اس طیارے میں سوار تھے نے تحقیقات میں شفافیت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ متاثرہ خاندانوں کو بھی ایرانی حکام کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

 

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں مقیم نواز ابراہیم کا کہنا ہے: ’یہ جانے بغیر کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، ہم ابھی تک اسی خوفزدہ رات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمیں سچ کے قریب ترین کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔‘

طیارہ گرائے جانے کے اس واقعے نے ایران میں مزید بے چینی کو بڑھا دیا تھا اور عوام کی جانب سے حکومت پر عدم اعتماد کے علاوہ مغربی دنیا کے ساتھ ایران کے تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔

بڑھتے شواہد کے باوجود تین دن تک انکار کرنے کے بعد ایران نے یہ اعتراف کیا کہ اس کی دفاعی فضائی فوج نے اس طیارے کو غلطی سے گرایا ہے۔ اس حادثے سے چند گھنٹے قبل ہی ایران نے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بلاسٹک میزائیلوں سے حملہ کیا تھا جو کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے تھے۔ اس ڈرون حملے نے امریکہ اور ایران کو جنگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا تھا۔

الرٹ پر ہونے اور امریکی رد عمل کے خدشے کے باوجود کمرشل جہازوں کو پروزایں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی اور حکام کے مطابق ایک نچلے درجے کے اہلکار نے اس بوئنگ طیارے کو امریکی کروز میزائیل سمجھ لیا تھا۔ اعلیٰ کمان سے کوئی جواب نہ ملنے کے بعد اس میزائل آپریٹر نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میزائل داغ دیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوکرین کے دارالحکومت کیئف جانے والی اس پرواز میں سوار 82 ایرانی، 57 کینیڈین اور 11 یوکرینی شہری ہلاک ہو گئے تھے اور ان کی لاشیں بھی پہچان کے قابل نہیں رہیں۔

ان میں طلبہ، حالیہ فارغ التحصیل، شادی شدہ جوڑے، ڈاکٹر، والدین اور بچے سب شامل تھے اور سب سے کم عمر مسافر ایک سال کی بچی تھی۔

حادثے کے بعد ایران نے اس طیارے کو گرائے جانے کے عالمی الزمات کو جھٹلاتے ہوئے طیارہ گرنے کے مقام کو صاف کرنے کی کوشش کی۔

گذشتہ ماہ سامنے آنے والی کینیڈین حکومت کی رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں بلڈورز بھیجے گئے اور انہوں نے طیارے کے ملبے کو روند دیا۔ مقامی افراد نے طیارے سے ملنے والا قیمتی سامان بھی اٹھا لیا۔

نواز ابراہیم کو نیلوفر کی شادی کا کوئی تحفہ نہ مل سکا، نہ سونے کے سکے اور نہ ان کے زیور۔ لیکن انہیں اپنے بہنوئی کا بٹوہ ملا جو خالی تھا۔

میٹرو پولیٹن سٹیٹ یونیورسٹی آف ڈینور میں ایوی ایشن کے پروفیسر جیفری پرائس کا کہنا ہے کہ ’جائے حادثہ کو صاف کرنا بہت غیر معمولی ہے۔ اور یہ آئی سی اے او کے ضوابط کے خلاف ہے۔‘

شفافیت کو متاثر کرنے کے ایک اور عمل میں ایران نے طیارے کے بلیک باکس، فلائٹ ڈیٹا اور کاک پٹ ریکارڈر کو چھ مہینے تک حوالے نہیں کیا۔

متاثرین کے اہل خانہ کے مطابق ان کے پیاروں کے فون یا ضبط کر لیے گئے یا ان کے میموری کارڈ نکال کر واپس کیے گئے۔

کینیڈین رپورٹ میں سوال کیا گیا ہے آیا ایران نے مسافروں کی جانب سے آخری لمحات میں اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے یا ویڈیو ریکارڈ کرنے کے شواہد حاصل کر لیے ہیں۔

اس واقعے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا جبکہ متاثرین کے اہل خانہ کو نجی طور پر تدفین اور چراغاں کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

سادہ لباس میں ملبوس افراد کو ایران بھر میں ہونے والے جنازوں میں شرکت کرتے دیکھا گیا اور پھر جنازے میں شریک دیگر افراد کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا۔

کینیڈا کے مطابق متاثرین کی فیملی ایسوسی ایشن کے ترجمان حامد اسماعیلیون کا کہنا ہے حادثے کے چند ہفتے بعد ہی متاثرین کے رشتہ داروں کو ہراساں کرنے، انہیں نفرت انگیز پیغامات بھیجنے اور دھمکی آمیز فون کالز اور ان کا پیچھا کرنے کی شکایات سامنے آئیں۔

کینیڈین پولیس کے مطابق وہ ایک بیرونی ملک کی جانب سے ملک میں ہراسانی اور دھمکانے جیسے عوامل کے کیسز کی تفتیش کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایوی ایشن ایجنسی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تفتیش کو جلد مکمل کرے۔ یوکرین کے عہدے دار نے بھی ایران کے عدم تعاون کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

گذشتہ ہفتے ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اس حادثے کے ذمہ داروں پر ایک ہفتے میں فرد جرم عائد کر دی جائے گی اور ایرانی کابینہ نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے ہر متاثرہ شخص کی خاندان کو ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

زیادہ تر خاندانوں نے اس رقم کو مسترد کرتے ہوئے اسے یہ معاملہ ختم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا