اسلام آباد میں دفتر خارجہ جہاں کبھی ہوٹل شہرزاد ہوا کرتا تھا

’ہوٹل شہرزاد الف لیلہ کی شہزادی کے ہم نام مکمل ہونے والی پہلی بڑی عمارت تھی جس پر دل کھول کر پیسہ خرچ کیا گیا۔‘

ہوٹل شہرزاد جو اپنے دامن میں بہت سی کہانیاں چھپائے ہوئے ہے (سی ڈی اے آرکائیوز)

آج اسلام آباد کے باسی یہ نہیں جانتے کہ جہاں آج دفتر خارجہ ہے کبھی یہاں اسلام آباد کا پہلا فائیو سٹار ہوٹل ہوا کرتا تھا، جسے یحییٰ خان نے حسن امین اور نور جہاں کے معاشقے کی وجہ سے مشق ِستم بنایا تھا یا پھر کوئی اور وجہ تھی. یہ داستان بھی شاید تاریخ کے صفحات پر اسی طرح موجود ہے جس طرح الف لیلیٰ کی کہانیاں اور ان سے منسوب ہوٹل شہرزاد!

1960 میں جب اسلام آباد کی تعمیر شروع ہوئی تو اسلام آباد کی سب سے اہم شاہراہ یعنیٰ شاہراہِ دستور پر جو اولین عمارت مکمل ہوئی وہ پاکستان ہاؤس تھا۔ آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ اسی سڑک پر وزیراعظم سیکرٹریٹ، پارلیمان، ایوان صدر، سپریم کورٹ، وفاقی سیکرٹریٹ، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور دفترِ خارجہ سمیت کئی اہم سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔

پاکستان ہاؤس میں اراکین پارلیمنٹ کے رہائشی کمرے اور اسلام آباد میں منتقل ہونے والے سفارت خانوں کے دفاتر تھے۔ اس عمارت کو اطالوی ماہر تعمیرات جیو پونٹی نے 1962 میں ڈیزائن کیا تھا۔ اسے اسلام آباد کی بڑی عمارتوں میں سب سے پہلے تعمیر ہونے والی عمارت کا اعزاز بھی حاصل ہے، جس کے شمال مغرب میں مارگلہ کی خوبصورت پہاڑیاں اور جنوب مشرق میں راول جھیل کا نظارہ ملتا تھا۔

پاکستان ہاؤس کے سامنے ایک وسیع و عریض لان تھا۔ اراکین پارلیمنٹ کے لیے 275 کمروں کے ساتھ اس میں بڑے بڑے ہال اور ایگزیکٹو دفاتر بھی تھے۔ فرشوں کو سفید سنگ مر مر سے مزین کیا گیا تھا جبکہ دیواروں پر کوئٹہ سے سنگ سلیمانی منگوا کر لگایا گیا۔

اندرونی راہداریوں سے گزرتے ہوئے عمان کے شاہی طرز تعمیر کا گمان گزرتا تھا۔ عمارت کا کورڈ ایریا 13 ہزار 933 مربع فٹ تھا۔ عمارت کی دوسری جانب باغیچہ بنایا گیا تھا جس میں آبشار بھی موجود تھی۔

اراکین پارلیمنٹ کے ٹھہرنے کے لیے بنائے جانے والا پاکستان ہاؤس اپنے مقصد کو پورا نہیں کر سکا کیونکہ اراکین کے اجلاس کے لیے یہاں کوئی جگہ ابھی وجود نہیں آئی تھی۔ اس لیے اراکین پارلیمنٹ انٹر کانٹی نینٹل راولپنڈی میں ٹھہرتے اور کلکتہ آفس، جہاں اب وزارت دفاع کے دفاتر ہیں، وہاں ان کے اجلاس ہوا کرتے تھے۔

اسلام آباد میں قیام و طعام ایک بڑا مسئلہ تھا جس کا حل صدر ایوب نے پاکستان ہاؤس کو ہوٹل کی شکل دے کر نکالا۔ انہوں نے اس عمارت کو اپنے ایک خاندانی دوست اور کاروباری شخصیت حسن امین کو لیز پر دے دیا۔

راشدہ علوی، جو 1963 میں آبپارہ کے ہائی سکول کی پہلی سائنس ٹیچر تھیں، کی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب ’بستے بستے بستی ہے‘ 2003 میں سامنے آئی جس کے صفحہ 53 پر درج ہے کہ ’ہوٹل شہرزاد الف لیلہ کی شہزادی کے ہم نام مکمل ہونے والی پہلی بڑی عمارت تھی جس پر دل کھول کر پیسہ خرچ کیا گیا۔ شاہراہ دستور پر بیک وقت کئی عمارتیں زیر تعمیر تھیں جنہیں دیکھ کر دل فخر و انبساط سے بھر جاتا۔‘

شاہد مسعود پی ٹی وی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد آج کل بحریہ یونیورسٹی میں میڈیا سٹڈیز کے استاد ہیں۔ انہوں نے میٹرک کرنے کے بعد 1966 میں تین ماہ تک ہوٹل شہرزاد میں بطور ’بار ٹینڈر‘ کے کام کیا تھا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میں نے میٹرک کیا تو راولپنڈی سے ہوٹل دیکھنے چلا آیا۔ وہاں مجھے کیپٹن (ر) مظہر اللہ مل گئے جو قائداعظم کے آخری اے ڈی سی رہ چکے تھے۔ ان سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے مجھے ہوٹل میں نوکری کی پیشکش کر دی۔

’یہ ہوٹل حسن امین کے زیرنگرانی تھا جو میڈم نور جہاں کے ساتھ معاشقے کے سلسلے میں بھی مشہور تھے۔ اس زمانے میں تمام بڑی سرکاری تقریبات یہیں ہوا کرتی تھیں۔ یہاں مہدی حسن، استاد سلامت، استاد نزاکت، روشن آرا بیگم کے شو بھی ہوتے تھے۔

بھٹو صاحب جنہیں ان دنوں ایوب کی کابینہ سے نکال دیا گیا تھا، یہیں ٹھہرتے تھے۔ ہوٹل کی پانچ منزلیں تھیں۔ پہلی دو پر مختلف ملکوں کے سفارت کار اور ان کے خاندان مستقل بنیادوں پر رہائش پذیر تھے۔ دوسرے دو فلورز ہوٹل کے مہمانوں کے لیے اور آخری فلور ہوٹل کے ان ملازمین کے لیے تھا جنہیں بعض اوقات رات کے لیے رکنا پڑ جاتا تھا۔ یہاں ویک اینڈ پر شاندار محفلیں سجا کرتیں۔ رقص و سرود اور سرتال یہاں کی شاموں کا خاصا تھا۔

 حسن امین کے بیٹے تیمور حسن گالف کے نیشنل چیمپیئن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے شہر زاد ہوٹل کے بارے میں اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ’60 کی دہائی کی بات ہے، ہم راولپنڈی میں رہتے تھے کہ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل ورکس چوہدری عبدالحمید، جو میرے والد کے دوست تھے، انہوں نے ایک دن میرے والد کو کہا کہ میں نے ایف سکس میں دو ہزار گز کا پلاٹ 28 ہزار روپے میں آپ کے لیے خریدا ہے۔ جب ہم جگہ دیکھنے آئے تو میری والدہ رونا شروع ہو گئیں کہ آپ کہاں ویرانے میں گھر بنانے آ رہے ہیں۔

’اسی زمانے میں حکومت نے اشتہار دیا کہ وہ پاکستان ہاؤس کو ہوٹل کے لیے لیز پر دینا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپلائی کیا تو 1966 میں ہمیں 20 سال کی لیز پر ہوٹل مل گیا جس کو 10 سال مزید توسیع دی جا سکتی تھی۔ میرے والد کاروباری شخصیت تھے اور سملی ڈیم میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ جسے کنیڈین کمپنی نے لگایا تھا اس کے کنسلٹنٹ رہ چکے تھے۔

’اس وقت راولپنڈی میں انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل اور فلیش مینز ہوٹل ہوا کرتے تھے۔ انٹر کانٹی نینٹل کے کمرے کا ریٹ 45 روپے تھا جب ہم نے پاکستان ہاؤس کو ہوٹل کی شکل دی تو اس کے کمرے کا ریٹ 35 روپے رکھا تاکہ لوگ یہاں آئیں۔‘

’تین منزلیں ہوٹل کے لیے تھیں جبکہ دو منزلیں اقوام متحدہ اور کچھ سفارت خانوں کے لیے تھیں۔ پھر ہوٹل میں فلموں کی شوٹنگ شروع ہوئی اور فلم سٹار یہاں ٹھہرنا شروع ہوئے جن میں زیبا، محمد علی، شمیم آرا، وحید مراد وغیرہ آتے رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے ہوٹل میں چہل پہل ہو گئی۔

’تمام سرکاری تقریبات بھی یہاں ہوتی تھیں۔ ہوٹل کا ائیر کنڈیشنڈ پلانٹ اکثر خراب ہو جاتا تھا جسے ٹھیک کرنے لاہور سے مسٹر نیلسن آتے تھے۔ پھر ہم نے ایک الیکٹریکل انجینیئر عاشق کی خدمات حاصل کر لیں۔ عاشق نے بعد ازاں سیبرو ائیرکنڈیشن فیکٹری کی بنیاد رکھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میں ان دنوں گورڈن کالج میں پڑھتا تھا۔ میں نے سینیئر کیمبرج کے امتحان کی تیاری اسی ہوٹل کے کمرہ نمبر 150 میں بیٹھ کر کی تھی جبکہ میرے کمرے کے سامنے کمرہ نمبر 101 میرے والد کا سویٹ تھا۔ بھٹو صاحب کا یہ پسندیدہ ہوٹل تھا وہ یہیں ٹھہرا کرتے تھے۔

’بھٹو صاحب کے میرے والد صاحب سے اچھے تعلقات تھے۔ ان کے بچے شاہنواز اور مرتضیٰ ہمارے ساتھ سینٹ میری راولپنڈی اور پھر کانونٹ مری میں پڑھتے تھے۔ جنرل ایوب خان کی جگہ جنرل یحییٰ خان آ گئے۔

’ایوب خان کی بیٹی بیگم نسیم اورنگ زیب خان جو والی سوات کی بیوی تھیں، ان سے ہمارے خاندانی تعلقات تھے اس لیے جنرل یحییٰ سمجھتے تھے کہ ہمیں جنرل ایوب نے نوازا ہے، حالانکہ لیز ہمیں کھلی بولی میں ملی تھی۔ اس زمانے میں ہمارا ہوٹل ہی واحد مثال تھا جسے سیاسی نشانہ بنایا گیا تھا۔

’22 جولائی، 1972 کو ہوٹل ہم سے لے کر کسی اور کو دے دیا گیا۔ بعد ازاں بھٹو صاحب نے آ کر اسے ہوٹل کی بجائے فارن آفس بنا دیا۔ فارن آفس پہلے میلوڈی میں نیول ہیڈ کوارٹر کی جگہ ہوا کرتا تھا جہاں آج کل میونسپلٹی کے دفاتر ہیں۔‘

ڈاکٹر وحید رانا اپنے دور طالب علمی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ملک میں نفاذ اسلام کی تحریک چلی اور جلسے جلوس نکلنے لگے۔ راولپنڈی سے ایک جلوس اسلام آباد آیا، میلوڈی سینما کو جہاں نائٹ کلب اور بار بھی ہوا کرتا تھا، اسے نذر آتش کرتا ہوا شہرزاد ہوٹل کی جانب بڑھا۔ مظاہرین کا نشانہ تو ہوٹل کا بار روم تھا مگروہ کچن میں گھس گئے اور کھانے پر خوب ہاتھ صاف کیا اسی دوران پولیس مظاہرین کو ہوٹل سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔‘

پاکستان ہاؤس اور ہوٹل شہرزاد دونوں اسلام آباد کی تاریخ میں قصہ پارینہ ہیں مگر کبھی کبھی ان بھولی بسری کہانیوں کی ورق گردانی کر لینی چاہیے، اس سے پہلے کہ تاریخ ہمارا صفحہ بھی پلٹ دے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ