تنخواہوں کا تنازع: لاہور سے گرفتار چار صحافی رہا

صحافیوں کا تعلق ملک کے بڑے میڈیا گروپ نوائے وقت اور دی نیشن سے ہے، جن کے خلاف ایف آئی اے میں درخواست چیف ایڈیٹر نے جمع کروائی تھی۔

دس مئی کی صبح صحافتی تنظیموں کی مداخلت کے بعد چاروں صحافیوں کی ضمانتیں ہوگئیں۔ تصویر: انڈپینڈنٹ اردو

صحافتی تنظیموں کے مطابق گذشتہ چھ ماہ میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں سے سینکڑوں صحافیوں کو بغیر کسی نوٹس کے نوکری سے برخاست کر دیا گیا جبکہ جن کی نوکریاں بچیں ان کو بھی بے روزگاری جیسے حالات کا ہی سامنا تھا کیونکہ ایک لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے صحافیوں کی تنخواہوں میں کٹوتی کردی گئی، مگر بات اب اس سے تھوڑی آگے بڑھ گئی ہے اور تنخواہوں اور واجبات کے مطالبے پر صحافیوں کی گرفتاریاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ 

نو مئی کی رات خبر سنی کہ چار سینئیر صحافیوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے حراست میں لے لیا ہے۔

مزید تفصیلات جاننے پر معلوم ہوا کہ چاروں صحافیوں کا تعلق ملک کے بڑے میڈیا گروپ نوائے وقت اور دی نیشن سے ہے، جن کے خلاف ایف آئی اے میں درخواست نوائے وقت کی چیف ایڈیٹر رمیزہ نظامی نے جمع کروائی تھی۔

اپنی درخواست میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فرخ سعید سمیت دیگر صحافی سوشل میڈیا، جس میں وٹس ایپ اور فیس بک شامل ہے، پر ان کی جعلی تصاویر شئیر کر رہے ہیں اور ان کی کردار کشی کی جارہی ہے جس سے وہ ہراساں اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔

ان صحافیوں میں نوائے وقت کے سابق چیف رپورٹر خواجہ فرخ سعید، نوائے وقت ورکرز یونین کے صدر نوید لطیف، ملک نعیم اور عبد الواجد شامل ہیں۔

صحافی برادری کی جانب سے اس خبر پر خاصے غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اور پھر دس مئی کی صبح صحافتی تنظیموں کی مداخلت کے بعد چاروں صحافیوں کی ضمانتیں بھی ہو گئیں۔

انڈپینڈینٹ اردو نے رمیزہ نظامی سے بات کرنے کے لیے ان سے کئی بار رابطہ کیا، انہیں پیغام بھی بھیجے کہ وہ اس معاملے پر اپنا اظہار خیال کریں مگر انہوں نے نہ ہی فون اٹھایا نہ ہی کسی پیغام کا جواب دیا۔

پھر جب دی نیشن کے چیف ایڈیٹر سلیم بخاری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس سارے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنا موقف دینے سے معذرت کرلی۔ 

دوسری جانب ایف آئی اے نے بھی اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کردیا کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے۔

ضمانت پر رہا ہونے والے سینئیر صحافی خواجہ فرخ سعید نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مجید نظامی صاحب کے وفات پا جانے کے بعد سے نوائے وقت گروپ پستی کا شکار ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے انکشاف کیا کہ ادارے میں گذشتہ ڈیرھ برس سے تنخواہیں تاخیر کا شکار ہو رہی تھیں اور اب تو حالات یہ ہیں کہ بہت سے ملازمین نے چھ ماہ سے تنخواہ کی شکل نہیں دیکھی اور تو اور جن صحافیوں کو نوکری سے نکالا یا جبری ریٹائر کیا گیا انہیں بھی کوئی واجبات نہیں دیے گئے اور یہ ادارے کے سینکڑوں ملازمین کی کہانی ہے۔

فرخ سعید کہتے ہیں کہ نوائے وقت گروپ کے تنخواہوں اور واجبات کی عدم ادائیگی کے 100 سے زائد مقدمات اس وقت امپلیمینٹیشن ٹربیونل فار نیوز پیپر ایمپلائیز میں زیر سماعت ہیں جن میں سے 33 کے حق میں فیصلہ ہوا اور ٹربیونل نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو حکم دیا کہ وہ واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔

اسی معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو نے روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر ایاز خان سے بھی رابطہ کیا، جو خود بھی 13 برس تک نوائے وقت گروپ سے منسلک رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’نظامی صاحب کے دور میں تنخواہ کم تھی مگر وقت پر ملتی تھی مگر مجید نظامی کے بعد اس ادارے کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ سمجھ سے باہر ہے، یہاں تک کہ وقت ٹی وی بند کرکے اس کے سینکڑوں ملازمین کو یک دم فارغ کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میڈیا کے حالات اس لیے خراب ہوئے کیونکہ  نئے دورِ حکومت کی طرف سے کچھ معاملات ایسے رہے جس پر صحافتی اداروں کو مصلحت سے کام لینا پڑا۔ ایک تو سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری صاحب نے ڈرا دیا کہ اخباری اور الیکٹرانک صحافت کے بس اب کچھ ہی سال رہ گئے ہیں۔ وہ ہمیں اپنا موبائل فون دکھایا کرتے تھے کہ اب تو اس کا دور آنے والا ہے اور وہ میڈیا مالکان کے لیے ایک پینک بٹن (Panic Button) تھا۔‘

ایاز خان کہتے ہیں کہ فرخ سعید کی گرفتاری سورج کی پہلی کرن ہے، اس کے بعد ان کے خیال میں صحافی اپنی جنگ لڑنے ضرور باہر نکلیں گے۔

لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے بھی سینئیر صحافیوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے غم و غصہ کا اظہار کیا اور کہا کہ صحافیوں کی اظہار رائے پر قدغن منظور نہیں۔

سوشل میڈیا پر اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کا نتیجہ جیل کی صورت میں بھگتنے کا یہ پہلا واقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی لاہور میں ایک نجی نیوز چینل کی خاتون پروڈیوسر کو سوشل میڈیا پر اپنے حقوق مانگنے کی پاداش میں بیک جنبشِ قلم نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت