ایسا لگا جیسے میں سارے فارن آفس کو برا کہہ رہا ہوں: عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے بیرون ملک پاکستانی سفیروں سے متعلق اپنے ریمارکس کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سفارت خانوں اور دفتر خارجہ نے سفارت کاری کے میدان میں بہت اچھا کام کیا ہے جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو بہت فائدہ ہوا۔

(سری لنکا کے دورے میں وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کے دوران بنائی گئی تصویر: روئٹرز)

وزیر اعظم عمران خان نے بیرون ملک پاکستانی سفیروں سے متعلق اپنے ریمارکس کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سفارت خانوں اور دفتر خارجہ نے سفارت کاری کے میدان میں بہت اچھا کام کیا ہے جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو بہت فائدہ ہوا۔ 

منگل کو عوام کی ٹیلیفون کالز کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ایسا لگا جیسے میں سارے فارن آفس کو برا بھلا کہہ رہا ہوں، جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔‘ 

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفرا سے ورچوئل خطاب میں بعض سفارت خانوں، خصوصا سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کی کارکردگی پر تنقید کی، جس پر ریٹائرڈ اور موجودہ سفیروں اور فارن آفس کے اہلکاروں نے مختلف انداز میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ 

ٹیلیفون کالز کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا: ’وہ (سفیروں سے خطاب کا) پروگرام براہ راست نہیں دکھایا جانا چاہیے تھا بلکہ اس کے مخصوص حصے دکھائے جانا چاہیے تھے۔‘ 

انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دفتر خارجہ اور سفیروں بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور اسی کام کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر ہوا۔ 

’ایسا لگا جیسے مین سارے فارن آفس کو برا بھلا کہہ رہا ہوں ایسا نہیں ہے۔‘ 

وزیراعظم عمران خان نے کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر سے متعلق پانچ اگست کا اقدام واپس لینے تک بھارت سے کوئی بات نہیں ہوگی۔

منگل کو عام لوگوں کی ٹیلیفون کالز کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے جس کی وہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔ ’5 اگست کے فیصلے کی واپسی تک بھارت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی۔‘

کشمیر میں بھارتی مظالم اور عالمی برادری کی خاموشی سے متعلق ایک شہری کے سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ مغربی ممالک انسانی حقوق سے متعلق خلاف ورزی کو اپنی خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک نے بھارت کو چین کے خلاف معاشی محاذ پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’بھارت اگر چین کے سامنے کھڑا ہوگا تو اپنی تباہی کرے گا۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک نواز شریف جیسے جمہوری رہنما نے ڈنڈوں سےججز پر حملہ کیا یہ مافیاز ہیں، کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے مافیاز ہیں، کرپٹ مافیا نہیں چاہتا کہ قانون کی بالادستی ہو۔ ’ہماری حکومت عدلیہ کے نظام میں کوئی مداخلت نہیں کرتی کیونکہ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم سٹیٹس کو اور مافیاز سے لڑ رہےہیں، قوم میرے ساتھ کھڑی ہو، آپ لوگوں کو مافیازسے جیت کر دکھاؤں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ میں حکومت میں ہوں یا نہیں میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ ملک کا پیسہ واپس نہیں کرتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزرا کی کارکردگی سے متعلق سوال پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں ٹیم کا ہر کھلاڑی سپر سٹار ہو، وزرا بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور جو اچھا کام نہیں کرے گا وہ  گھر جائے گا۔

وزیراعظم نے مہنگائی کے خاتمے سے متعلق ایک شہری کے سوال کا جواب بہت تفصیل سے دیا اور کہا کہ طاقت ور مل کر کارٹیل بناتے ہیں جیسے چینی کا معاملہ ہے وہ مل بیٹھ کر چینی کی قیمت طے کرتے تھے پہلی دفعہ حکومت نے قیمت طے کی ہے تو نیچے آگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کو صرف دو وجوہات پر لے کر آئے ہیں کہ وہ مہنگائی کو روکیں اور دوسرا شرح نمو بڑھائیں تاکہ لوگوں کو نوکریاں ملیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں پیٹرول امریکہ اور بھارت سے بھی سستا رکھا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے، مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ کووڈ کی وجہ سے دنیا بھر میں مہنگائی ہوئی ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ مہنگائی کے بارے میں ٹی وی پر بڑی باتیں ہوتی ہیں اور لوگ مجھے بتا رہے ہوتے ہیں، اپوزیشن کا کام تو یہ باتیں کرنا ہے۔

میڈیا کو مخاطب کر کے انہوں نے کہا کہ جب ’آپ کہتے ہیں ملک تباہ ہوگیا، یہ بھی غلط اور پوری دنیامیں مہنگائی ہے لیکن ہم مہنگائی پر کنٹرول کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان