تعمیراتی شعبے میں مردوں کو چیلنج کرنے والی خاتون ٹھیکے دار

10 سال سے کام کرنے والی شاہدہ خانم سمجھتی ہیں کہ انہیں مرد ٹھیکے داروں سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

شاہدہ خانم 55 سال کی تھیں جب انہیں اپنا مکان تعمیر کروانے کے دوران معلوم ہوا کہ انہیں اس کام سے کتنی دلچسپی ہے۔

پھر کیا تھا انہوں نے تعمیرات کے شعبے میں قدم رکھ دیے جس پر مردوں کی مکمل اجارہ داری ہے۔

شاہدہ نے لاہور میں اپنے ایک زیر تعمیر منصوبے کا سروے کرنے کے دوران عرب نیوز کو بتایا کہ ان کے شوہر سعودی عرب میں کام کرتے تھے جبکہ وہ بچوں کے ساتھ پاکستان میں رہتی تھیں۔

’میں نے پہلے اپنا مکان تعمیر کروایا، جس کی مجھے خوشی ہوئی۔ اس کے بعد میں نے باقاعدہ (ٹھیکے داری کا) کام شروع کر دیا اور اب تک میں سات سے آٹھ مکان تعمیر کروا چکی ہوں۔‘

انہیں اس کام کا شوق لاہور سے تقریباً 400 کلومیٹر دور بہاولپور بھی لے گیا، جہاں انہوں نے ایک وسیع و عریض مکان تعمیر کروایا۔

شاہدہ نے اس کام میں آنے کے بعد اپنے 74 سالہ شوہر خالد محمود کو راغب کیا کہ وہ بیرون ملک ملازمت چھوڑ کر پاکستان میں ان کے ساتھ مل کر کام سنبھالیں۔

خالد اپنی بیوی کو ایک کامیاب کاروباری شخصیت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب شاہدہ نے اس شعبے میں قدم رکھا تو انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ضرور کامیاب ہوں گی۔

تاہم قدامت پسند سوچ، مخصوص سماجی رویوں اور صنفی امتیاز رکھنے والے ملک میں شاہدہ کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔

’کام کے ساتھ ساتھ اپنا گھر اور بچے سنبھالنا مشکل کام ہے۔ آپ کو اس شعبے میں انتہائی محتاط رہنا پڑتا ہے اور تعمیراتی سامان کو چوری سے روکنا پڑتا ہے۔۔۔ میری عمر کی ایک خاتون کے لیے یہ بہت زیادہ مشکل کام ہے۔‘

65  سالہ شاہدہ کا ماننا ہے کہ انہیں اب بھی بطور ٹھیکے دار بہت کچھ سیکھنا ہے۔ اس شعبے میں 10 سال کا تجربہ رکھنے کے باوجود لوگ انہیں دھوکہ دے دیتے ہیں اور وہ دوسروں پر اعتماد کرنے کی اپنی عادت کو اس کا ذمہ دار ٹھراتی ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے تعمیراتی سامان فراہم کرنے والے دکان دار کو بھاری ادائیگی کی جس کے بعد  دکان دار نے  ان کا فون اٹھانا چھوڑ دیا۔

شاہدہ کے مطابق اگر وہ خاتون نہ ہوتیں تو باآسانی اس معاملے سے نمٹ لیتیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ تعمیراتی سامان فراہم کرنے والے اکثر انہیں ناتجربے کار سمجھتے ہوئے غیر معیاری سامان فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ایسے مسائل کی وجہ سے اکثر ان کے منصوبے بروقت مکمل نہیں ہو پاتے جس کی وجہ سے وہ انتہائی محتاط رویہ اپنانے پر مجبور ہیں۔

شاہدہ ان دنوں لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ایک ساڑھے پانچ ہزار مربع فٹ پر مشتمل مکان کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ اس کے بعد چار مزید منصوبے ان کے منتظر ہیں۔

’خاتون ہونے کی وجہ سے تعمیرات کا شعبہ یقیناً میرے لیے مردوں سے زیادہ مشکل ہے۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ میں مردوں سے زیادہ بہتر کام کرتی ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاہدہ کے ساتھ 2013 سے کام کرنے والے بڑھئی محمد محی الدین کے مطابق وہ مزدوروں کے ساتھ انتہائی دانش مندی کے ساتھ پیش آتی ہیں۔

’مرد ٹھیکے دار کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اپنے پیسے بچا لیں۔ البتہ آنٹی شاہدہ اپنی توجہ معیار پر مرکوز رکھتی ہیں۔‘

کنسٹریکشن ایسوسی ایشن پاکستان کے نائب چیئرمین چوہدری نعیم  اختر نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً دو لاکھ ٹھیکے دار ہیں، لیکن اب تک ان کا صرف دو خواتین ٹھیکے داروں سے تعارف ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ تعمیرات کا شعبہ بہت وسیع ہے اور خواتین اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا