تعمیراتی کام کے دوران مجسمہ توڑنے والے گرفتار

مردان پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث چاروں ملزمان گرفتار کر لیے گئے اور توڑے گئے مجسمے کے ٹکڑے بھی برآمد کیے جا چکے ہیں۔

(سکرین گریب)

سوشل میڈیا پر تخت بھائی کے علاقے میں تعمیراتی کام کے دوران ایک مجسمے کو توڑے جانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس جرم میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

 خیبرپختونخوا کے محکمہ آثارقدیمہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد نےانڈپینڈنٹ اردو کو بتایاکہ 'ویڈیو میں نظر آنے والے مجسمہ جسے وہاں موجود چند لوگ توڑ رہے ہیں یہ قانون کی رو سے ایک جرم ہے اور اس قابل مذمت کام کی سزا دس سال قید تک ہو سکتی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'محکمہ آثارقدیمہ کے اہلکاروں نے اس علاقے کا پتہ چلایا، یہ مردان کی تحصیل تخت بھائی کا گاؤں ساز دین ہے اور وہاں ایک گھرکی تعمیر کے لیے کھدائی کے دوران یہ تاریخی مجسمہ نکل آیاتھا جسے توڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجسمے کو توڑنے والے افراد کے خلاف بہت جلد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مجسمے کو توڑتے وقت وہاں موجود لوگ ویڈیو میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ ایک خاتون کا مجسمہ تھا اور مجسمے میں صاف نقش کی گئی انسانی ناف اور کپڑوں کا ڈیزائن دکھاتےہیں۔

گوتم بدھ کے وقت کا یہ مجسمہ جو کہ صحیح سلامت تھا، اسے توڑنے پر مبارک باد دیتے بھی نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 مردان پولیس نے سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد واقعے کی جگہ اورملزمان کو ٹریس کرلیا۔

واقعے میں ملوث چاروں ملزمان گرفتار کر لیے گئے اور توڑے گئے مجسمے کے ٹکڑے بھی برآمد کیے جا چکے ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق اس واقعے کا ڈی پی او ڈاکٹر زاہداللہ نے نوٹس لیا اور اس میں ملوث عناصر تک رسائی کے لئے احکامات جاری کیے جس پر کاروائی کرتے ہوئے تھانہ ساڑوشاہ پولیس نے واقعے کی جگہ کامران خان کلے جمال باغ اورملوث ملزمان تک رسائی حاصل کرلی۔

گرفتارملزمان کے خلاف تھانہ ساڑوشاہ میں نوادرات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ