جب سنجیو کمار نے ایک ہی فلم میں نو مختلف کردار ادا کیے

سنجیو کمار کا تو نو مختلف کرداروں کی ادائیگی کا سوچ سوچ کر برا حال تھا۔ خیال آیا کہ معذرت کرلی جائے لیکن پھرارادہ کیا کہ یہ تجربہ بھی کر کے دیکھ لیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا ماننا تھا کہ سنجیو کمار نے فلم ’نیا دن نئی رات‘ میں اپنے ہر کردار کے ساتھ انصاف کیا (فلم پوسٹر/ آئی ایم ڈی بی)

جب ہدایت کار اے بھیم سنگھ نے سنجیو کمار کو بتایا کہ وہ اُن کو نئی فلم ’نیا دن نئی رات‘ میں کاسٹ کرنے جا رہے ہیں تو پہلے پہل انہوں نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔

تاہم جب ان کے علم میں آیا کہ اس کردار کی پیش کش پہلے دلیپ کمار کو ہوئی تھی  اور ان کے انکار اور سفارش پر انہیں اس فلم میں شامل کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے اپنے لیے اعزاز سمجھا کہ ان کی سفارش کسی اور نہیں بلکہ شہنشاہ جذبات دلیپ کمار نے کی۔

انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ اب انہیں بھرپور یکسوئی کے ساتھ اس کردار کے تقاضوں پر پورا اترنا ہے لیکن ابھی اُن پر حیرانی کے کچھ اور دلچسپ انکشافات ہونا باقی تھے۔

ذکر ہو رہا ہے 1974 کا، جب ہدایت کار اے بھیم سنگھ نے تامل اور پھر تیلگو زبان کی فلموں کا ہندی ورژن ’نیا دن نئی رات‘  بنانے کی ٹھانی۔

سنجیو کمار کی ہیروئن کے طور پر جیا بہادری کا انتخاب کیا گیا، جن کے ساتھ سنجیو کمار پریچے، کوشش اور انامیکا جیسی کامیاب فلموں میں نظر آچکے تھے۔

فلم کا سکرپٹ اب جو ان کے پاس آیا تو وہ گھبرا ہی گئے۔ بھیم سنگھ نے بتایا کہ انہیں ’نیا دن نئی رات‘  میں ایک، دو نہیں بلکہ نو مختلف کردار ادا کرنے ہیں اور سارے کے سارے متنوع اور انفرادیت سے بھرے ہیں۔

سنجیو کمار کے سامنے سکرپٹ تھا اور وہ سوچ رہے تھے کہ یہ سارے کردار وہ ایک ہی فلم میں کس طرح نبھائیں گے۔

کہیں اسی وجہ سے دلیپ کمار نے انکار تو نہیں کیا تھا لیکن ان کا یہ خیال اس وقت بے معنی ہوگیا جب ہدایت کار نے بتایا کہ چونکہ دلیپ کمار ان دنوں ’بیراگ‘ میں تین کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ایک کے بعد ایک جیسی فلم میں آئیں۔

سنجیو کمار کا تو نو مختلف کرداروں کی ادائیگی کا سوچ سوچ کر برا حال تھا۔ خیال آیا کہ ہدایت کار اور پروڈیوسر سے معذرت کرلی جائے لیکن پھرارادہ کیا کہ یہ تجربہ بھی کرکے دیکھ لیتے ہیں۔

سنجیو کمار نے سنجیدگی کے ساتھ ’نیا دن نئی رات‘ کی تیاری شروع کردی، جس میں ہر تھوڑے وقفے کے بعد ان کی اداکاری کے کئی نئے باب کھلنے جا رہے تھے۔

کہیں انہیں عمر رسیدہ شخص بننا تھا تو کہیں ڈاکو، کہیں سوامی، کہیں شکاری، کہیں مے نوش، کہیں کوڑھ کا مریض تو کہیں سٹیج فنکار، غرض ہر کردار ایک دوسرے کے مخالف تھا۔

سنجیو کمار کی ’نیا دن نئی رات‘ کی کہانی گھومتی ہے سشما نامی لڑکی کے گرد، جس کے دل کا راجا کوئی اور ہوتا ہے لیکن گھر والے اُس پر اپنی پسند تھوپتے ہیں، جس پر وہ گھر سے فرار ہوجاتی ہے۔

اس انجانے سفر کے دوران اس کا مختلف افراد سے پالا پڑتا ہے، جو کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں اور ہر مختصر سی ڈرامائی صورتحال میں سنجیو کمار مختلف کرداروں کے ساتھ سشما کے مقابل ہوتے ہیں۔

فلم کی ہیروئن مختلف منزلیں اور نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد واپس جب گھر لوٹتی ہے تو اُسے بتایا جاتا ہے کہ اُس کی شادی اس کے بوائے فرینڈ سے ہونے جا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم میں بوائے فرینڈ کا کردار بھی سنجیو کمار نے ہی ادا کیا۔ یوں فلم کے کلائمکس میں شادی کے مناظر میں سنجیو کمار کے چھ کرداروں کو یکجا کیا گیا۔

سنجیو کمار کی  ’نیا دن نئی رات‘ کے ہر کردار پر خاصی محنت کی گئی، میک اپ آرٹسٹ سروش مودی نے خاص طور پر سنجیو کمار کے چہرے کے نقش و نگار پر اپنی مہارت کا استعمال کیا۔

سروش کو صرف سنجیو کمار کے میک اپ کے لیے رکھا گیا تھا۔ سنجیو کمار کو بھی اس بات کا سہرہ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے کردار میں منفرد اور مختلف اداکاری  اور آواز کے تاثرات سے رنگ بھردیے۔

کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ ان کے اس نئے کردار میں پرانے کی کوئی جھلک مل رہی ہے۔

بڑی امیدوں اور توقعات کے ساتھ  10مئی، 1974 کو جب ’نیا دن نئی رات‘ سنیما گھروں کی زینت بنی تو فلم بینوں کے لیے یہ تجربہ خاصا خوشگوار رہا۔

یہ اپنی نوعیت کی انوکھی فلم تھی، جس میں کسی ہیرو نے آدھا درجن سے زائد کردار ادا کیے۔ فلم میں  محمد رفیع کا گانا ’میں وہی وہی بات‘ خاصا مشہور ہوا۔

فلم تجزیہ کاروں کا ماننا تھا کہ سنجیو کمار نے ہر کردار کے ساتھ انصاف کیا۔ بالخصوص چہرے کے اترتے چڑھتے تاثرات کے ساتھ باڈی لینگویج بھی مثالی رہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہر کردار ادائیگی کے اعتبار سے مشکل تھا لیکن سنجیو کمار نے کسی بھی مرحلے پر مایوس نہیں کیا۔

 بدقسمتی سے اس قدر اچھوتے کردار ادا کرنے کے باوجود ’نیا دن نئی رات‘ اور سنجیو کمار کو فلم فیئر ایوارڈز کی کسی کیٹگری میں کوئی ایک بھی نامزدگی نہ مل سکی۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ 1974میں روٹی کپڑا اور مکان، رجنی گندھا، کورا کاغذ، گرم ہوا، انکر، چور مچائے شور جیسی فلموں کے شور میں ’نیا دن نئی رات‘ بہت اچھا کاروبار نہ کرسکی۔

سنجیو کمار نے بعد میں کئی اور فلموں میں دہرے کردار ادا کیے، لیکن  ’نیا دن نئی رات‘  میں ان کے نو مختلف کرداروں کے بغیر ان کا فلمی سفر ادھورا تصور کیا جاتا ہے۔

ویسے سنجیو کمار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جنوبی بھارت کے سپر سٹار کمل ہاسن 2008 میں تامل زبان کی فلم ’داس واتھرم‘ میں 10مختلف کردار ادا کرکے سب کو حیران کرچکے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی فلم