پاکستانی خواتین ملازمت کے لیے سعودی عرب کو کیوں ترجیح دیتی ہیں؟

پاکستان کے سرکاری ادارے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2020 میں سب سے زیادہ ہنر مند پاکستانی خواتین سعودی عرب میں ملازمت کی غرض سے گئیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق 2020 میں سعودی عرب جانے والی پاکستانی خواتین میں سب سے زیادہ تعداد ڈاکٹروں کی تھی (اے ایف پی)

پاکستان کے سرکاری ادارے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ 2020 میں پاکستانی خواتین سب سے زیادہ سعودی عرب میں ملازمت کی غرض سے گئیں۔

اس ادارے کی بیرون ملک لیبر فورس کے حوالے سے حالیہ رپورٹ کے مطابق 2020 میں بیورو کے ساتھ مجموعی طور پر 1727 خواتین رجسٹر ہوئیں، جن میں سے 511 پاکستانی خواتین ایسی ہیں، جنھوں نے سعودی عرب میں ملازمت اختیار کی۔

ان ملازمین میں سب سے زیادہ تعداد ڈاکٹروں کی تھی، جس کی شرح 19 فیصد سے زائد ہے۔

اسی طرح 15 فیصد سے زائد گھروں میں کام کرنے والی خواتین، 12 فیصد سے زائد عام ورکرز، آٹھ فیصد سے زائد مینیجرز، چھ فیصد سے زائد نرسز، چھ فیصد سے زائد کلرک، تین فیصد سے زائد سیلز ویمن، تین فیصد سے زائد اساتذہ، دو فیصد سے زائد حجام، دو فیصد سے زائد انجینیئر جبکہ 17 فیصد سے زائد ایسی خواتین تھیں، جنھوں نے دیگر شعبوں میں ملازمت اختیار کی۔

دیگر ممالک کی فہرست پر اگر نظر دوڑائی جائے تو دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات، تیسرے پر برطانیہ، چوتھے پر بحرین، پانچویں پر کینیڈا اور چھٹے نمبر پر امریکہ شامل ہے، جہاں پاکستانی خواتین نے ملازمت اختیار کی۔

یاد رہے کہ اسی رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق مردوں کے مقابلے میں  ملازمت کے لیے سعودی عرب جانے والی خواتین زیادہ تر ہنر مند (skilled) تھیں جبکہ سعودی عرب جانے والے پاکستانی مرد زیادہ تر مزدوری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق صوبہ پنجاب سے سب سے زیادہ خواتین نے سعودی عرب میں ملازمت اختیار کی، جس کی شرح 53 فیصد سے زائد ہے۔

اسی طرح دوسرے نمبر (35 فیصد سے زائد) پر صوبہ سندھ جبکہ تیسرے نمبر (چھ فیصد سے زائد) پر اسلام آباد اور چوتھے نمبر پر خیبر پختونخوا کی شرح تقریباً تین فیصد ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تقریباً ایک فیصد خواتین، بلوچستان سے 0.35 فیصد اور گلگت بلتستان سے سعودی عرب  ملازمت کے لیے جانے والی خواتین کی شرح 0.06 فیصد ہے۔

رپورٹ کے تجزیے کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختونخوا سے زیادہ مردوں کی امیگریشن ہوئی کیونکہ خیبر پختونخوا سے سب سے زیادہ مرد بیرون ممالک ملازمت کے لیے جاتے ہیں اور اس کی ممکنہ وجہ صوبے میں خواتین کی ملازمت کے حوالے سے ثقافتی معاملات ہیں۔

پاکستان کے مجموعی امیگرینٹس کی تعداد کو دیکھا جائے تو رپورٹ کے مطابق 1971 سے 2020 تک ایک کروڑ 13 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک ملازمت کے لیے جا چکے ہیں، جس میں زیادہ تعداد یعنیٰ ایک کروڑ سے زائد افراد خلیجی ممالک گئے، جس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سر فہرست ہیں۔ یہ کُل تعداد کا تقریباً 96 فیصد ہے۔

اسی طرح حالیہ اعدادوشمار  کو اگر دیکھا جائے تو 2020 میں 22 لاکھ سے زائد امیگرنٹس بیرون ممالک گئے، جبکہ یہ تعداد 2019 میں 62 لاکھ سے زائد تھی۔

رپورٹ کے مطابق 2020 میں امیگرینٹس کی تعداد میں کمی کی وجہ کرونا کی وجہ سے پابندیاں تھی۔ سعودی عرب جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد میں 2019 کےمقابلے میں 2020 میں 64 فیصد کمی دیکھی گئی۔

تاہم اسی رپورٹ کے مطابق کرونا وبا کی پابندیوں کی وجہ سے ورکرز کی تعداد تو کم ہوگئی لیکن بیرون ملک سے پاکستان رقم بھیجنے میں اضافہ ہوا۔

2019-20 میں بیرون ملک سے 23 ارب ڈالرز سے زائد کی رقم پاکستان بھیجی گئی، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 21 ارب ڈالرز سے زائد تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جن ممالک سے سب سے زیادہ پیسے پاکستان بھیجے جاتے ہیں ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ سر فہرست ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 21-2020 کے ابتدائی چھ ماہ (جولائی 2020 سے دسمبر 2020) کے دوران بیرون ملک سے پیسے بھیجنے میں 24 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

پاکستان خواتین کے لیے سعودی عرب ترجیح کیوں؟

ورکرز کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی پاکستان میں نمائندہ منورہ سلطانہ نے اس سوال کے جواب میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ان خواتین میں زیادہ تعداد ڈاکٹروں کی ہے کیونکہ بیرون ممالک پاکستانی ڈاکٹر زیادہ پروفیشنل اور باصلاحیت مانے جاتے ہیں، اس لیے ان کی ڈیمانڈ سعودی عرب میں زیادہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے بتایا کہ دوسری وجہ تنخواہ بھی ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹروں کو وہ تنخواہ نہیں دی جاتی جو سعودی عرب میں ملتی ہے، اس لیے بھی ڈاکٹرز سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔

منورہ نے سعودی عرب میں ’اسلامی کلچر‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’سعودی عرب میں یہ خواتین خود کو محفوظ سمجھتی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا: ’یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستانی مسلم خواتین خود کو اسلامی تہذیب میں محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ ان کا کلچر اسلامی کلچر کے ساتھ جڑا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان خواتین کے اہل خانہ انہیں سعودی عرب جیسے ملک میں کام کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔'

منورہ نے مزید بتایا کہ ڈاکٹروں کے علاوہ سعودی عرب میں نرسز اور خواتین اساتذہ سمیت گھریلو خواتین کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اسی وجہ سے پاکستانی خواتین وہاں جا کر ملازمت اختیار کرتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین