کشمیر میں ’سٹرابیری کا گاؤں‘

سری نگر سے کچھ دور واقع ’سٹرابیری کے گاؤں‘ گسو میں کاشت کار اس کاروبار کو ترک کرنے لگے ہیں۔

دن بھر جاری رہنے والی شدید بارش کے بعد جب دھوپ نکلی تو منظور احمد ڈار نے اپنے اہل خانہ اور مزدوروں کے ساتھ مل کر کھیتوں سے سٹرابیری توڑنا شروع کر دی۔

ان کے کھیت بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سے 15 کلومیٹر دور ’گسو‘ نامی گاؤں میں ہیں۔

گسو کے لوگوں کی اکثریت سٹرابیری کا کام کرتی ہے جس کی وجہ سے اسے ’سٹرابیری کا گاؤں‘ بھی کہا جاتا ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہر سال دو سے ڈھائی ہزار میٹرک ٹن سٹرابیری پید اہوتی ہے، جس میں گسو گاؤں کا بڑا حصہ ہے۔

منظور احمد کے کھیتوں کے آس پاس درختوں کے پتوں کا رنگ سبز ہو چکا ہے جبکہ پس منظر میں پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے میں خاندان کا ہر فرد سٹرابیری توڑ کر اسے ٹوکری میں اکٹھا کرتا جاتا ہے۔ کشمیر کے سخت موسم سرما کے بعد یہ سیزن کی پہلی فصل ہے۔

منظور احمد تقریباً آٹھ سال سے سٹرابیری کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ان کے خاندان کی آمدن کا انحصار اسی کاروبار پر ہے۔

منظور بتاتے ہیں ’اگر ہم 2019 اور2020 کے لاک ڈاؤن کی بات کریں تو اس وقت ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ مارکیٹیں اور دکانیں بند ہیں۔

’سڑکوں پر ٹریفک نہیں اور گلی کوچوں میں سٹرابیری فروخت کرنے والے اسے سڑکوں پر نہیں بیچ سکتے۔ پھل کے خریداروں کی تعداد کم ہے۔ اس تمام صورت حال نے کشمیر میں سٹرابیری کے کاروبارکو متاثر کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ پودے سے الگ کرنے کے بعد سٹرابیری تھوڑے وقت تک کھانے کے قابل رہتی ہے لہٰذا اگر یہ بروقت مارکیٹ نہ پہنچے تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

منظور احمد نے بتایا کہ انہیں اس سال 50 فیصد نقصان ہوا۔ ’بارشوں کی وجہ سے ہماری فصل اچھی ہوئی تھی۔ صرف ایک مسئلہ ہے کہ اس سال ہمارے پاس گاہک نہیں جو سٹرابیری خریدیں۔ پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔‘

سٹرابیری کبھی پورے سری نگر اور دوسرے اضلاع میں فروخت ہوا کرتی تھی۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے بہت سے کاشت کاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پالیسی وضع کرے اور ان کی مدد کرے تاکہ وہ سٹرابیری کو بھارت کے دوسرے حصوں تک پہنچا سکیں۔

بہت سے خاندان پہلے ہی یہ کاروبار ترک کر چکے ہیں کیونکہ پھل فروخت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں نقصان اٹھانا پڑا جبکہ آمدن کے مقابلے میں پیداواری اخراجات بھی کہیں زیادہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا