مودی کی کشمیری رہنماؤں کے ساتھ بیٹھک ناٹک تھا: شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کشمیری رہنماؤں کے ساتھ گذشتہ روز بلائی گئی بیٹھک میں وزیر اعظم مودی نے اس بات کا اعتراف کر لیا کہ ’دلوں کی دوری ہے‘ اور وہ ’دلی کی دوری کم کرنا‘ چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بیٹھک میں’ کوئی بھی کام کی چیز سامنے نہیں آئی‘ (اے ایف پی فائل) 

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے گذشتہ روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کشمیر کے رہنماؤں کے ساتھ بیٹھک ’ایک ناٹک تھا۔‘

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ روز بلائی گئی اس میں وزیر اعظم مودی نے اس بات کا اعتراف کر لیا کہ ’دلوں کی دوری ہے‘ اور وہ ’دلی کی دوری کم کرنا‘ چاہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کے بقول یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ حالات نارمل نہیں ہوئے۔ ’ان کے ادا کیے گئے جملے ان کے سارے اقدامات کی نفی کر رہے ہیں۔‘

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جو گفتگو انہوں نے سنی اس کے مطابق مودی کی بیٹھک نشستند، گفتند، برخاستند تھی۔’ یہ ایک ناٹک تھا۔ نشست سے کوئی بھی کام کی چیز سامنے نہیں آئی۔‘

ان کے مطابق یہ بیٹھک چنے ہوئے لوگوں کی محفل تھی اور بھارت کا انٹرنیشنل امیج بحال کرنے کی کوشش تھی۔ ’جو قائدین وہاں گئے انہوں نے متفقہ طور پر پانچ اگست کے اقدامات کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان کا واضح طور پر موقف تھا کہ سب کچھ ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان راہنماؤں کے مطابق یہ اقدامات چیلنج کیے گئے اور پٹیشن سپریم کورٹ میں ہے۔ ’آخر وہ معترض تھے تو وہ سپریم کورٹ گئے۔ اگر وہ خوش دلی سے یہ فیصلہ قبول کرتے تو کبھی سپریم کورٹ  نہ جاتے۔ کل کی نشست میں انہیں کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا۔ یہ جو کہا گیا کہ ’سٹیٹ ہڈ بحال کر دیا جائے لیکن ایک مخصوص وقت میں‘ تو یہ کیا وضاحت تھی؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر خارجہ کے مطابق کشمیر کے مسئلے کا دیرپا حل صرف سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جو کچھ کیا گیا اس سے بھارت کی ساکھ متاثر ہوئی اور مودی کی شخصیت پر بھی بہت سوال اٹھائے گئے۔ ’کل کی نشست میں یہ سامنے آیا کہ کشمیری بہت غصے میں ہیں اور اپنی تضحیک محسوس کر رہے ہیں۔ ان کی سٹیٹ جموں اینڈ کشمیر کو بھارت نے ڈاؤن گریڈ کر دیا۔ راہنماؤں کی گفتگو سے یہ واضح لگتا ہے کہ انہیں اس امر کی تکلیف ہے۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ دو سالوں میں تاجروں، کسانوں، سیاحت اور دیگر طبقات کا جو استحصال ہوا، تو یہ کون سا تاثر ہے کہ اس اقدام سے وہاں خوشحالی آئی ہے۔ ’اس سب کے باوجود ہماری مصدقہ اطلاعات کے مطابق حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ بھارتی کشمیریوں کے عزم کو نیچا نہیں دکھا سکے۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق اس کانفرنس میں جو مطالبے کیے گئے، قابل غور بات یہ ہے کہ وہ سب کچھ پاکستان نہیں کہہ رہا تھا، بلکہ کشمیری قیادت کا وہ طبقہ کہہ رہا ہے جس کے مراسم دلی کے ساتھ رہے ہیں اور جو ماضی میں حکومت کرتا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میری نظر میں کل کی نشست ناکام اور بے سود تھی۔ اس سے کچھ حاصل وصول نہیں ہو گا۔ کشمیری آج بھی اپنے تشخص کی تلاش میں ہیں۔ وہ اپنے تمام حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں اور وہ اس کے لیے فکر مند ہیں۔‘

یاد رہے کہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی آئین میں خصوصی حیثیت ختم کرنے کے تقریباً دو سال بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے کل (جمعرات کو) جموں وکشمیر کے اہم سیاسی رہنماؤں کے ساتھ پہلی بار آمنے سامنے گفتگو کی۔ 

مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو یک طرفہ اقدام کے تحت خطے کی نیم خودمختار حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا جس کے بعد وادی میں سخت ترین پابندیاں اور لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا تھا جب کہ بھارت نواز رہنماؤں، سابق وزرائے اعلیٰ سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

جن سیاسی رہنماؤں کو مدعو کیا گیا، ان میں نیشنل کانفرنس سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے فرزند عمر عبداللہ، پی ڈی پی سے محبوبہ مفتی، کانگریس سے غلام نبی آزاد، تارا چند اور غلام احمد میر، پیپلز کانفرنس سے سجاد غنی لون اور مظفر حسین بیگ، اپنی پارٹی سے الطاف بخاری، بی جے پی سے رویندر رینہ، نرمل سنگھ اور کویندر گپتا، سی پی آئی (ایم) سے محمد یوسف تاریگامی اور نیشنل پنتھرس پارٹی سے پروفیسر بھیم سنگھ شامل تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان