12 خواتین کھلاڑیوں کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں 12 خواتین کرکٹرز کو شامل کیا ہے جبکہ تمام کٹیگریز کے ماہوار وظیفے میں 10 فیصد اضافہ بھی کیا ہے۔

پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم 19 نومبر 2010 کو گوانگ ژو میں 16 ویں ایشین گیمز میں خواتین کے محدود اوورز کے کرکٹ فائنلز کی میڈلز تقریب کے دوران پوڈیم پر جشن منا رہی ہیں۔ پاکستان نے سونے کا، بنگلہ دیش نے چاندی اور جاپان نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا(فائل فوٹو/اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ویمنز سینٹرل کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 کا اعلان کر دیا ہے۔ گذشتہ برس کی نو کے مقابلے میں رواں سال 12 خواتین کرکٹرز کو کنٹریکٹ سے نوازا گیا ہے۔

کرکٹ بورڈ کے اعلان کے مطابق ان تمام کھلاڑیوں کے لیے اعلان کردہ کنٹریکٹ یکم جولائی سے لاگو ہوں گے۔ ان کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی اے ،بی اور سی کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایمرجنگ کنٹریکٹ کی لسٹ میں بھی آٹھ کھلاڑی شامل ہیں۔

ویمنز سنٹرل کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021:

کٹیگری اے۔ بسمہ معروف اور جویریہ خان

کٹیگری بی۔ عالیہ ریاض،ڈیانا بیگ اور ندا ڈار

کٹیگری سی: انعم امین، فاطمہ ثنا، کائنات امتیاز، ناہیدہ خان، نشرہ سندھو ،عمیمہ سہیل اور سدرہ نواز

ایمرجنگ ویمنز کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021:

عائشہ نسیم، کائنات حفیظ، منیبہ علی صدیقی، نجیہہ علوی،رامین شمیم، صباء نذیر ،سعدیہ اقبال اور سیدہ عروب شاہ

انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں گذشتہ ایک سالہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دیئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ  ڈومیسٹک کرکٹ اور مستقبل میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی مصروفیات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔

قومی خواتین کرکٹ کو دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد اب دو ٹی ٹونٹی اور تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے لیے اکتوبر میں انگلینڈ کی میزبانی کرنی ہے۔ قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو دسمبر میں آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ کوالیفائر میں شرکت کرنی ہے۔ آئندہ سال پاکستان کو آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ اور کامن ویلتھ گیمز میں  بھی شرکت کرنی ہے۔

قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے جنوری 2021 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا، جہاں سے سکواڈ  زمبابوے روانہ ہوا تھا تاہم کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث وہ دورہ مکمل نہ کیا جاسکا۔ علاوہ ازیں، سیزن 21-2020 میں پی سی بی نے قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی ویمنز چیمپئن شپ کا بھی انعقاد کیا تھا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز میں دو نصف سنچریاں سکور کرنے والی واحد کرکٹر ندا ڈار کو سینٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری سی سے بی میں ترقی دی گئی ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز  میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی دوسری کھلاڑی تھیں۔

گذشتہ سال پی سی بی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والی  فاطمہ ثنا کو سی کٹیگری میں ترقی مل گئی ہے۔ وہ اس سے قبل ایمرجنگ کٹیگری کا حصہ تھیں۔ 19سالہ کرکٹر نے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین میچوں میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس دوران انہوں نے تین اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 95 رنز بھی بنائے تھے۔

اس ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی قرار پانے والی کائنات امتیاز کو بھی موجودہ کنٹریکٹ کی سی کٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کی  چار اننگز میں 111 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ تین کھلاڑیوں کو بھی پویلین کی راہ دکھائی تھی۔ 

نشرہ سندھو کو بھی کٹیگری سی کا کنٹریکٹ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نےڈیانا بیگ (9 وکٹیں ) کے بعد گزشتہ سیزن میں پاکستان کی جانب سے ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ (6 وکٹیں) حاصل کی تھیں۔

جنوبی افریقہ میں پاکستان کی قیادت کرنے والی جویریہ خان  ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 جون سے شروع ہونے والی سیریز میں بھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کریں گی۔  تین ٹی ٹونٹی اور پانچ ون ڈےانٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والی جویریہ خان کو سینٹرل کنٹریکٹ کی  ٹاپ(اے) کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔ ان کے ساتھ بسمہ معروف بھی اسی کٹیگری کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فاطمہ ثنا کے علاوہ گذشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کھلاڑیوں کو اس کٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔ ادھر وکٹ کیپر سدرہ نواز کی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی ہوگئی ہے۔

چیئرآف نیشنل ویمنز سلیکشن کمیٹی عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ وہ سیزن 22-2021 کے لیے ویمنز  کنٹریکٹ پانے والی تمام  کھلاڑیوں کو مبارک باد پیش کرنا چاہتی ہیں ، رواں سال 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی۔

انہوں نے کہا کہ عمدہ کارکردگی کی بدولت فاطمہ ثنا کو ایمرجنگ سے ترقی دے کر سی کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے تاہم ایمرجنگ کٹیگری میں شامل باقی آٹھوں کھلاڑیوں کو رواں سال بھی ایمرجنگ کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کھلاڑیوں کو  سنٹرل کنٹریکٹ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں۔ عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے گزشتہ سال دنیا کے لیے ایک چیلنج تھا مگر پی سی بی نےاس دوران بھی خواتین کرکٹرز کے لیے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کا اہتمام کیے رکھا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ندا ڈار نے جنوبی افریقہ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث انہیں سی سے بی کٹیگری میں ترقی دی گئی۔ وہ پر امید ہیں کہ ندا ڈار ایک سینئر ممبر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری نبھاتی رہیں گی اور اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو میچز جتوانے کی کوشش کرتی رہیں گی۔

عروج ممتاز نے کہا کہ وہ  کائنات امتیاز اور نشرہ سندھو کو بھی مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں کہ جو بین الاقوامی اور ڈومیسٹک دونوں طرز کی کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کو متاثر کرنے میں کامیاب رہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں ہم نے چند کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ میں ترقی دی ہے تو وہیں  ہم نے غیرتسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر سدرہ نوازکی کٹیگری بی سے سی  میں تنزلی کردی ہے۔

عروج ممتاز نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی چھ ماہ بعد کنٹریکٹ کی اس فہرست کا دوبارہ جائزہ لے گی اور اگر ضرورت پڑی تو اس پر نظرثانی بھی کی جائے گی تاہم ہمیں یقین ہے کہ یہ تمام کھلاڑی ہمارے اعتماد پر پورا اتریں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ