خیبر پختونخوا اسمبلی ارکان کا شکوہ: ’کام ایک جیسا، تنخواہ میں فرق کیوں؟‘

خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے ارکان کا شکوہ ہے کہ ملک کی تمام اسمبلیوں کے ارکان کے کام کی نوعیت اور ذمہ داریاں ایک جیسی ہیں مگر ان کی تنخواہوں میں ’فرق‘ ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک رکن صوبائی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 53ہزار 800 جب کہ ایک وزیر کی تنخواہ دو لاکھ 65ہزار ہے(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے دیگر شعبوں کی طرح صوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے حکومتی و اپوزیشن ارکان نے بھی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ باقی صوبوں کے مقابلے میں ان کے ساتھ ’امتیازی‘ سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

ارکان کا شکوہ ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ملک کی تمام اسمبلیوں کے ارکان کے کام کی نوعیت اور ذمہ داریاں ایک جیسی ہیں ان کی تنخواہوں میں ’فرق‘ ہے۔

رواں ہفتے منگل کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی و اپوزیشن اراکین کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے بحث کے بعد اس بات پر اتفاق ہوا کہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا کے وزرا و اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے، جس کے بعد سپیکر اسمبلی مشتاق غنی نے دو کمیٹیاں تشکیل دینے کی منظوری دی جو آئندہ دس دنوں میں اپنی سفارشات پیش کریں گی۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی سراج الدین خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’صرف خیبر پختونخوا کی اسمبلی ہی نہیں بلکہ اس صوبے کے ہر شعبے کو پنجاب و سندھ کے مقابلے میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب کام کی نوعیت ایک جیسی ہے تو پھر تنخواہوں میں اتنا فرق کیوں؟ اس وقت مطالبہ یہ ہے کہ اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہیں ڈیڑھ لاکھ سے تین لاکھ تک بڑھا دی جائیں۔‘

سراج الدین خان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر تمام اسمبلیوں کے اراکین کی تنخواہیں یکساں ہو جائیں تو احساس کمتری کی یہ فضا ختم ہو جائے گی۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی نگہت اورکزئی کے مطابق ایک رکن صوبائی اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 80 ہزار روپے ہے جو مراعات شامل کرنے کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’قومی اسمبلی اور سینیٹ اراکین محض اپنے حلقوں کی نمائندگی پر بڑی تنخواہوں کے حقدار بنے بیٹھے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب صوبائی اسمبلیوں کے اراکین تمام حلقوں کی نمائندگی اور قانون سازی کرتے ہوئے بھی کم تنخواہوں پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’گورنر خیبر پختونخوا نے اپنی تنخواہ 80 ہزار سے آٹھ لاکھ تک پہنچا دی ہے۔ جبکہ ایک ایم پی اے کے اتنے اخراجات کے باوجود اس کی بنیادی تنخواہ 80 ہزار اور صحت انشورنش صرف ساڑھے چار ہزار روپے ہے۔ ان حالات میں ایک رکن اسمبلی ناجائز کاموں کی جانب راغب ہوگا۔ وہ کبھی پوسٹ بیچے گا اور کبھی ترقیاتی فنڈ میں خردبرد کرے گا۔‘

نگہت اورکزئی  کے مطابق ’رولز آف بزنس کے تحت ایک رکن صوبائی اسمبلی کا عہدہ گریڈ 20 افسر کے برابر ہوتا ہے تاہم تمام حکومتوں نے رولز آف بزنس کو نظرانداز کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کو گریڈ 20 افسران جتنی تنخواہیں اور مراعات نہیں دیں۔‘

نگہت اورکزئی نے مزید کہا کہ صوبائی اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں آخری مرتبہ اضافہ 2017 میں ہوا تھا اور اس طرح تنخواہیں 30 ہزار سے بڑھا کر 80 ہزار روپے کر دی گئی تھی۔

’سال 2002 سے 2010 تک ہماری کل تنخواہ 18 ہزار تھی، جس میں 2010 میں وزیر اعلیٰ حیدر خان ہوتی نے مزید 12 ہزار روپے کا اضافہ منظور کرتے ہوئے مراعات کے ساتھ کل تنخواہ 30 ہزار تک بڑھا دی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’سال 2017 میں دوبارہ یہ معاملہ اٹھایا گیا اور حکومتی اراکین وزیر خزانہ سراج الحق اور سکندر شیرپاؤ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جب تمام صوبوں کا جائزہ لیا گیا تو خیبر پختونخوا اسمبلی پاکستان میں سب سے کم تنخواہیں لینے والا صوبہ ثابت ہوا، جس کے بعد ہماری بنیادی تنخواہیں 80 ہزار روپے تک بڑھا دی گئیں۔‘

 ’رواں ہفتے 29 جون کو تنخواہوں میں اضافے کی بات خود حکومتی رکن صوبائی اسمبلی عاطف خان نے کی تھی۔‘

تاہم جب انڈپینڈنٹ اردو نے عاطف خان سے اس بابت ان کی رائے لینے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

آن لائن دستیاب 2019 کے اعداد وشمار کے مطابق، صوبہ پنجاب کے رکن صوبائی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 95 ہزار، جبکہ ایک وزیر کی تنخواہ دو لاکھ 75 ہزار ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح صوبہ سندھ میں ایک رکن صوبائی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 45 ہزار جب کہ ایک وزیر کی تنخواہ ایک لاکھ 50 ہزار ہے۔ صوبہ بلوچستان کے ایک ایم پی اے کی تنخواہ چار لاکھ 40 ہزار، جبکہ ایک وزیر کی تنخواہ پانچ لاکھ 50 ہزار مقرر ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک رکن صوبائی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 53 ہزار آٹھ سو جب کہ ایک وزیر کی تنخواہ دو لاکھ 65 ہزار ہے۔

تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کس صوبائی اسمبلی میں اراکین کی تعداد کتنی ہے۔ اس لحاظ سے صوبہ پنجاب کے اراکین اسمبلی کی تعداد 368، صوبہ سندھ 168، صوبہ بلوچستان 65 اور صوبہ خیبر پختونخوا کے اراکین کی تعداد 145 ہے۔

اس سوال پر کہ کیا واقعی وزرا و ایم پی ایز کا ان تنخواہوں میں اضافہ مشکل ہے اور اس حال میں کیا تمام اراکین کو سٹینڈنگ کمیٹی اور اسمبلی اجلاسوں میں بھی مراعات دی جاتی ہیں، کے جواب میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اسمبلی اور سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاسوں کا اراکین کو صرف ہزار، 12 سو روپے ملتے ہیں تاہم جن ارکان کو رہائش دی گئی ہے ان کو یہ الاؤنس نہیں ملتا۔‘

متعلقہ افسر نے مزید بتایا کہ تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ زیر غور ہے تاہم اس پر تاحال کمیٹیاں تشکیل نہیں ہو پائی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں کا جائزہ لینے کے لیے اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں کی رسیدیں منگوائی گئی ہیں جو پیر تک موصول ہو جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست