یکم سے 14 اگست، وائسرائے کے دفتر میں کیا ہوتا رہا؟

ہندوستان کے تاریخ ساز دو ہفتے جن کے دوران ایسے واقعات پیش آئے جن کی گونج آج پون صدی کے بعد بھی سنائی دے رہی ہے۔

محمد علی جناح لارڈ اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ (پبلک ڈومین)

لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے آخری وائسرائے تھے جن کے ہاتھوں سے تقسیم کا عمل رونما ہوا۔ ان کا تعلق برطانوی شاہی خاندان سے تھا اور اس سے قبل دوسری جنگ عظیم میں وہ شاہی نیوی میں اہم ذمہ داریاں ادا کر چکے تھے۔

18 دسمبر 1946 کو انہیں برطانوی وزیراعظم ایٹلی نے ویول کی جگہ انڈیا کا وائسرائے بنانے کے لیے نامزد کیا۔ شروع میں وہ اس عہدے کے لیے تیارنہیں تھے مگر بعد ازاں انہوں نے یہ عہدہ منظور کر لیا۔ 22 مارچ 1947 کو وہ آخری وائسرائے کی حیثیت سے ہندوستان پہنچے اور اگلے ساڑھے چار ماہ میں انہوں نے ہندوستان کو تقسیم کر دیا اگرچہ اس مقصد کے لیے انہیں جو وقت دیا گیا تھا وہ جون 1948 تک کا تھا کہ اس عرصے تک برطانیہ کو ہر صورت ہندوستان چھوڑنا ہے مگر انہوں نے یہ کارنامہ مقررہ وقت سے پہلے ہی کر دکھایا۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پریس اتاشی ایلن کیمبل جانسن تھے۔ یہ عہدہ ان کے لیے بطور خاص تخلیق کیا گیا تھا حالانکہ اس سے پہلے ہندوستان کے جتنے وائسرائے رہے ان میں سے کسی کا پریس اتاشی نہیں تھا۔ ایلن کیمبل جانسن بیک وقت ایک لکھاری، صحافی، سیاستدان اور تعلقات عامہ کے ماہر تھے۔ ہندوستان آنے سے پہلے وہ دوسری جنگ عظیم میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ تعلقات عامہ کے آفیسر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے چکے تھے۔ ایلن کیمبل جانسن نے عہد لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اپنی ڈائری میں روزانہ کی بنیاد پر قلم بند کیا ہے۔ یہ کتاب 1951 میں ’مشن ود ماؤنٹ بیٹن‘ کے نام سے چھپی تھی۔ جس کا اردو ترجمہ 2020 میں بک کارنر جہلم نے چھاپا ہے۔ یوں تو کتاب کئی دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان کی تقسیم کے آخری دو ہفتوں میں وائسرائے آفس میں کیا ہو رہا تھا اور وہاں کون سے امور زیر بحث تھے۔

  • یکم اگست بروز جمعہ کو وائسرائے آفس میں والیان ریاست کو مدعو کیا گیا۔ پٹیالہ اور بیکانیر کے مہاراجے نے سند الحاق کے بارے میں نفی میں جواب دیا۔ حیدر آباد اور کشمیر کے مسائل مخصوص نوعیت کے ہیں۔ نواب آف بھوپال اور اندور کے مہاراجہ بھی الحاق کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ان کی ریاست میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اس لیے وہ پاکستان جا کر وہاں کی سیاست میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

    مزید پڑھ

    اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

     

  • 3 اگست کو وائسرائے آفس میں کراچی اور دہلی میں ہونے والی آزادی کی تقریبات کا منصوبہ بنایا جانا ہے۔ قائداعظم نے 13 اگست کو کراچی میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی آمد پر واضح کیا ہے کہ وہ وائسرائے کی حیثیت سے آئیں گے اور دستور ساز اسمبلی کے اجلا س میں نہیں بیٹھیں گے۔ مہاراج رانا آف دھولپور آئے تو انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی نئی مملکت پنپ نہیں سکتی۔
  • 4 اگست کو دہلی کے کمشنر مسٹر خورشید نے یوم آزادی کے انتظامات کے بارے میں بتایا کہ پرانی دلی کے روشن آرا کلب میں میونسپلٹی کی جانب سے پانچ ہزار بچوں کو پارٹی دینے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ان انتظامات میں برطانوی جاہ و جلال کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے اور لارڈ ماؤنٹ اس فضا سے خوب لطف اندوز ہوں گے۔
  • 5 اگست کو ماؤنٹ بیٹن نے پارٹیشن کونسل اور مشترکہ دفاعی کونسل کے اجلاسوں کے بعد جناح اور لیاقت سے ملاقات کی اور بتایا کہ یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر جناح کو قتل کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ جناح نے تارا سنگھ اور دوسرے سکھ لیڈروں کی گرفتاری کا مطالبہ پیش کیا لیکن پٹیل نے اس کی مخالفت کی۔ ماؤنٹ بیٹن نے مشرقی اور مغربی پنجاب کے نامزد گورنروں سے رابطے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان سے مشورہ کریں کہ 15 اگست سے پہلے تارا سنگھ اور ان کے تند مزاج رفقا کو گرفتار کرنا مناسب ہو گا۔
  • 7 اگست کو وسطی صوبہ کے نامزد گورنر مسٹر منگل داس پکواسا کو 12 کے بجائے 14 اگست کو گورنر کا عہدہ سنبھالنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کر دیا کہ یہ تاریخ علم جوتش کے لحاظ سے ٹھیک نہیں۔ وائسرائے نے کہا کہ میرے سٹاف میں علم جوتش کا ایک بھی مشیر نہیں جو اس حوالے سے مشورہ دے سکے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ آج سے تمہیں پریس اتاشی کے ساتھ جوتشی کا اعزاز ی عہدہ بھی دے رہے ہیں۔ اس کے بعد پٹیل کی طرف سے دی گئی پارٹی میں شامل ہوا۔ نہرو اور پٹیل آزادی کے بعد اہم کردار ادا کریں گے۔ پٹیل کے پاس انتظامی صلاحیتیں ہیں مگر نہرو جیسی عالمگیر شہرت حاصل نہیں مگر انہیں اطلاعات، داخلی سلامتی، پولیس اور ہندوستانی ریاستوں پر مکمل کنٹرول ہے۔ تخلیق پاکستان سے ہندوستان کی آبادی میں جو جو فرق پڑا ہے وہ ان کی الحاق کی پالیسی سے نہ صرف پورا ہو جائے گا بلکہ کچھ اور اضافہ ہو جائے گا کیونکہ ساری ریاستوں کی آبادی نو کروڑ افراد پر مشتمل ہے جو پاکستان کی آبادی سے کچھ زیادہ ہی ہے۔
  • 8 اگست امریکہ نے جاپان پر فتح کی دوسری سالگرہ منائی اس موقع پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو دورہ امریکہ کی دعوت دی گئی مگر گوناں گوں مصروفیات کی وجہ سے وہ نہیں جا سکے اس لیے انہوں نے تقریر ریکارڈ کروائی جو میں نے لکھی تھی۔ یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو سے ہوتی ہوئی بی بی سی کے ذریعے امریکہ میں سنی گئی۔ انہوں نے کہا "آج سے دو سال پہلے کی بات ہے میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں بیٹھا تھا کہ جاپانیوں کے ہتھیار ڈالنے کی اطلاع سنی گئی۔ آج میں دہلی سے آپ کو مخاطب ہوں۔ یہاں ہم ایسے واقعے کا جشن منا رہے ہیں جو دنیا کے مستقبل کے لیے کسی صورت غیر اہم نہیں۔ معاہدہ اوقیانوس میں ہم برطانیہ اور امریکہ کے لوگوں نے حق خود اختیاری اور قوموں کی آزادی کے لیے جنگ کا حلف اٹھایا تھا۔ تلخ تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ جنگ پر فتح پانا سہل کام ہے لیکن جنگ کے مقصد کو حاصل کرنا آسان نہیں۔ لہٰذا آج 15 اگست کو یعنی وکٹری ڈے کو ذہن نشین رکھنا چاہیے صرف اس لیے نہیں کہ جشن فتح منانا ہے بلکہ وعدہ کی تکمیل بھی کرنی ہے۔‘
  • 9 اگست کو وائسرائے کو بتایا گیا کہ حد بندی کی فضا نازک ہے، ریڈ کلف سے نہ ہندو خوش ہیں نہ مسلمان۔ انہوں نے حد بندی میں وائسرائے سے مشورہ نہیں کیا لیکن اس کے اعلان کی ذمہ داری وائسرائے پر ڈال دی ہے۔ ماؤنٹ بیٹن نے سٹاف کو ہدایت کر رکھی تھی کہ وہ ریڈ کلف سے کسی نوعیت کا رابطہ نہ کریں۔ ایوارڈ کے اعلان کے بارے میں دو رائے ہیں ایک یہ کہ اسے جلد منظر عام پر لایا جائے تاکہ جو علاقے متاثرہ ہیں وہاں جلد فوجوں کی نقل و حرکت شروع ہو جائے جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ اس کا اعلان 14 اگست کو ہی کیا جائے۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ اسے یوم آزادی تک التوا میں ہی رکھا جائے کیونکہ نفسیاتی لحاظ سے دونوں مملکتوں کے اندر اس کی وجہ سے غم و اندوہ کی فضا پیدا ہو جائے گی میں نہیں چاہتا کہ کسی وجہ سے بھی یوم آزادی کی مسرتیں غم واندوہ میں بدل جائیں۔ ماؤنٹ بیٹن کو بتایا گیا کہ گورنروں نے سکھ لیڈروں کی گرفتاری کی مخالف کر دی ہے جس پر ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ وہ 14 اگست کو خود جناح کے ساتھ سرکاری جلوس میں شریک ہوں گے۔
  • 11 اگست کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے سٹاف کو اعزازات و خطابات سے نوازاکیونکہ انڈین سول سروس کے بہت سے اراکین 15 اگست کو چلے جائیں گے۔
  • 12 اگست وائسرائے آفس میں آخری سٹاف میٹنگ ہوئی جس میں ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ ریڈ کلف سے پوچھیں کہ ایوارڈ کب تک ان کے ہاتھوں میں آ جائے گا۔ ہمارے رابطے پر انہوں نے کہا کہ پنجاب اور بنگال کے تو تیار ہیں لیکن سلہٹ کا ایوارڈ ہنوز تیار نہیں ہوا۔
  • 13 اگست کو وائسرائے کراچی پہنچ گئے جہاں وہ اپنے آخری فرائض سر انجام دیں گے۔ وہ پرچم کشائی کی تقریب کے موقع پر اپنی اور برطانیہ کی جانب سے تہنیتی پیغامات ساتھ لائے ہیں۔ جب وہ گورنمنٹ ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے تو جناح کے ملٹری سیکرٹری کرنل برنی نے ماؤنٹ بیٹن سے کہا کہ مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ کل سرکاری تقریبات میں جناح پر بم سے حملہ کیا جائے گا۔ لہٰذا اس شر انگیز منصوبے کے پیش نظر یا تو جلوس کی رسم کو کینسل کر دیا جائے یا پھر جلوس کو متبادل رستوں سے گزارا جائے۔ کرنل برنی نے کہا کہ جناح نے یہ مسئلہ آپ کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے جس پر ماؤنٹ بیٹن نے کہاکہ جو انتظامات پہلے کر لیے گئے ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ جناح اور مس فاطمہ جناح ماؤنٹ بیٹن کے لیے چشم براہ تھے۔ ہال کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے سامنے ہالی ووڈ کی فلم کا سیٹ لگا ہو۔ چاروں طرف روشنیوں کے فواروں سے آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔ حکومت پاکستان کے انفارمیشن آفیسر کرنل مجید ملک کے ساتھ پیلس ہوٹل میں صحافیوں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے یہاں تک کہا کہ قائد اعظم نے ہوائی اڈے پر ماؤنٹ بیٹن کا استقبال نہ کر کے ان کی توہین کی ہے لیکن میں نے فوراً کہا کہ یہ بات میں نے ماؤنٹ بیٹن سے تو نہیں سنی۔ رات کے جشن میں قائد اعظم نے لکھی ہوئی تقریر کی جس میں انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے آئندہ تعلقات اور پاکستان کی تخلیق میں ماؤنٹ بیٹن کی کوششوں کو سراہا۔ ڈنر کے بعد ہلکی پھلکی موسیقی کا اہتمام تھا سارے مہمان خوب محظوظ ہوئے لیکن جناح الگ تھلگ نظر آئے۔ انہوں نے چند ہی مہمانوں سے گفتگو کی۔ میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ جس شخص کو اتنی عظیم الشان فتح نصیب ہوئی ہو وہ اپنے پیروکاروں میں اکیلا اور تنہا نظر آئے۔
  • 14 اگست کو دستور ساز اسمبلی میں ماؤنٹ بیٹن اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کا استقبال اسی جوش وخروش سے کیا گیا جس طرح جناح اور فاطمہ جناح کا کیا گیا تھا۔ جناح اور ماؤنٹ بیٹن کی تقریریں اپنی اثر آفرینی کے لحاظ سے بے مثال تھیں۔ اگر ایک طرف جناح کی شخصیت میں سرد مہری ہے تو دوسری جانب اس میں جاذبیت اور کشش بھی ہے۔ قیادت کا احساس ان پر حاوی ہے۔ گورنر جنرل کے عہدے کے لیے اپنا نام پیش کرنے کے ساتھ انہوں نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ ایکٹ 1935 کے حصہ دوم کے بجائے گوشوارہ نمبر9 کے تحت زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کر لیے، نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے ہاتھ میں آمرانہ اختیارت آ گئے جو آج تک کسی آئینی گورنر جنرل کو جو شاہ انگلستان کی نمائندگی کر رہا ہو نہیں ملے۔

کارروائی ایک گھنٹہ کے اندر اندر ختم ہو گئی۔ جناح اور ماؤنٹ بیٹن کا جلوس بڑے طمطراق سے نکلا۔ پاکستان کے خوش پوش ملاحوں اور خوش وخرم بچوں کے علاوہ عوام بہت کم نظرآئے۔ جونہی دونوں شخصیات کی سواری پھاٹک میں داخل ہوئی تو جناح نے ماؤنٹ بیٹن کے گھٹنے پر اپنا ہاتھ رکھا اور بولے ’خدا کا شکر ہے میں آپ کو زندہ سلامت واپس لے آیا۔‘ دوپہر ہوتے ہی ہم دہلی کے لیے نکلے۔ فاطمہ جناح، لیڈی ماؤنٹ بیٹن سے بغلگیر ہوئیں اور جناح نے ماؤنٹ بیٹن کو اپنی دوستی کا یقین دلایا۔

ہم پنجاب کی حد بندی والے علاقہ سے گزرے تو سینکڑوں میل تک ہماری آنکھوں نے چاروں طرف بلند ہوتے ہوئے آگ کے شعلے دیکھے۔

  • 15 اگست کو نامہ ناگاروں نے اطلاع دی کہ دہلی کی سڑکوں پر لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم ہے جس کی وجہ سے نہرو اور پرساد کی آمد میں غیر معمولی تاخیر ہو گی۔ اسمبلی کی کارروائی میں نہرو نے کہا کہ دستور ساز اسمبلی نے فیصلہ کیا ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو گورنر جنرل کے عہدے کی پیشکش کی جائے۔ جس پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ یہ عزت افزائی میرے لیے قابل ِ فخر ہے۔

جونہی ماؤنٹ بیٹن کی سواری وائسرائے ہاؤس سے نکل کر کونسل ہاؤس کی جانب بڑھی سوا لاکھ لوگوں کے ہجوم میں ماؤنٹ بیٹن گھر گئے لوگ ماؤنٹ بیٹن اور ان کی مسز سے مصافحہ کرنا چاہتے تھے۔ اسمبلی میں پہنچ کر ماؤنٹ بیٹن نے شاہ انگلستان کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے نہرو اور پٹیل کی قیادت کی تعریف کی لیکن جب گاندھی کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا تو فضا بہت دیر تک تالیوں سے گونجتی رہی۔ تقریروں کے بعد کونسل ہال پر پرچم کشائی کی تقریب ہوئی۔ پرنسز پارک میں بچوں کے ساتھ تقریب میں 30 ہزار کے مجمعے کی امید تھی مگر مجمع تین لاکھ کا ہو گیا۔ آج کی آخری تقریب سرکاری ضیافت تھی جس میں کابینہ کے اراکین، فوجی افسر اور غیر ملکی سفیر شامل تھے۔

والیان ریاست تشریف نہیں لائے تھے کیونکہ وہ نئی حکومت کے دوش بدوش بیٹھنا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ تقریب رات تین بجے تک جاری رہی۔ صبح تک خوشیوں اور مسرتوں کے جام چھلکتے رہے۔ ماؤنٹ بیٹن کی تقریر پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن کے ایم منشی کا تبصرہ مجھے زیادہ پسند آیا انہوں نے لکھا، ’’برطانیہ عظمیٰ کے علاوہ تاریخ میں کسی حکومت نے بھی ایسی شان دلربائی سے آزادی نہیں دی ہو گی اور یہ ہندوستان ہی ہے جس نے اس حسن و خوبی سے اس قرض کو قبول کیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ