آئینہ غور سے دیکھ

اچھا ہوا شہزاد اکبر کو احساس ہو گیا کہ الفاظ سے لگائے ہوئے زخم ذہنی کوفت میں ہی مبتلا نہیں کرتے بلکہ ان کے بھیانک حقیقی نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔

شہزاد اکبر کیوں تمام تر طاقت رکھنے کے باوجود خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں؟(اے ایف پی)

وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ نذیر چوہان نے ایک مذموم سازش کے تحت نہ صرف ان پر جھوٹے الزام لگائے بلکہ الزامات کی تردید کے باوجود پنجاب کی اسمبلی کے اس ممبر نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں جس سے نہ صرف مذہبی منافرت پھیلی بلکہ ان کی اور ان کے اہل و عیال کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا۔

اپنے ٹوئٹس میں شہزاد اکبر نے لکھا کہ ان کو انصاف کی قوی امید ہے اور ساتھ یہ بھی تحریر کیا کہ ہر شہری کو اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا ہو گا تاکہ شدت پسند عناصر کو شکست ہو۔

یاد رہے کہ چوہان صاحب نے شہزاد اکبر کے عقائد کے بارے میں بات کی تھی اور اب عدالت سے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کے بعد وہ مقدمات بھگت رہے ہیں جبکہ ایک اور مقدمہ کارسرکار میں مداخلت کا علیحدہ درج کر دیا گیا ہے۔

نذیر چوہان اس گروپ کا حصہ ہیں جو جہانگیر خان ترین کے ساتھ کھڑا ہو کر پی ٹی آئی کے اندر فارورڈ بلاک بنوانے میں کامیاب ہو گیا جس کے باعث جماعت اور اس کی قیادت کو خفت اور پریشانی اٹھانی پڑی۔

 ہمیں شہزاد اکبر سے یقینا ہمدردی کرنی چاہیے کیوں کہ تمام تر طاقت رکھنے کے باوجود دو جملوں نے ایک عام شہری کی طرح ان کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا اور ان کے اپنے بیان کے مطابق ان کو جان کے لالے پڑ گئے۔

وہ تو شکر ہے کہ ان کا اثر و رسوخ کئی درجن سیاست دانوں پر بھاری ہے اور اسی وجہ سے نذیر چوہان کو چوہدری پرویز الہٰی کی ہدایات کے باوجود اسمبلی کے سیشن کے لیے پیش نہ کیا جا سکا۔

گجرات کے بےتاج بادشاہ اس پر کافی نالاں ہوئے اور پنجاب کی افسر شاہی کو اپنے مخصوص انداز میں تنبیہ بھی کی۔ مگر کہاں شہزاد اکبر اور کہاں چوہدری پرویز الہٰی؟ دونوں کی اہمیت میں بڑا فرق ہے۔

یہ بھی اچھا ہوا کہ شہزاد اکبر کو ایہ احساس ہو گیا کہ کس طرح الفاظ سے لگائے ہوئے زخم ذہنی کوفت میں مبتلا نہیں کرتے بلکہ ان کے بھیانک حقیقی نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔

وہ وزیر اعظم عمران خان کے احتسابی دستے کے سپہ سالار ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ ہوں ہوں یا جہانگیر ترین، نذیر چوہان ہوں یا ناپسندیدہ صحافی، سیاست دان یا کاروباری حلقے سب ان کے احتسابی بیانیے کی زد میں کسی وقت بھی آ سکتے ہیں۔

وہ خود اپنے دوسرے وزرا کے ساتھ مل کر مخالفین پر احتسابی ڈرون سے تاک تاک کر نشانے لگاتے ہیں۔ چور، ڈاکو، لٹیرا، بھگوڑا، ملک دشمن، ننگ قوم، ننگ وطن، رہزن اور پاکستان کے خلاف سازشوں کا مرکز یہ وہ میزائل ہیں جو مخالفین پر سالہاسال سے داغے گئے ہیں۔

دوسرے نمائندگان ان حملوں کو مزاحیہ انداز سے بیان کرتے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان راج کماری، کنیز وغیرہ کی اصطلاحیں استعمال کر کے یہ باور کرواتی ہیں کہ ان کے سیاسی مخالفین بے وقعت اور واجب التذلیل ہیں۔ ان کو جیلوں میں سڑنا چاہیے یا عوامی انصاف کے نام پر چوکوں میں لٹکا دینا چاہیے۔

 ظاہر ہے چور ڈاکو بدترین سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ جو ملک کے خلاف سازش کرتا ہے اس کی گردن کاٹ دینا جائز سمجھا جاتا ہے۔

جب کسی کو اقلیتی مذاہب یا تہذیبوں کی اصطلاحات سے پرکھا جانے لگے تو اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوتا ہے جیسے اس لڑکے کا جس کو سندھ میں روک کر اپنے بھگوان کو گالی دینے پر مجبور کیا گیا۔

سیاسی طور پر دیے گئے بیانات نذیر چوہان کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں مگر ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔

ان کو سیاسی طور پر 'حلال' قرار دے کر کر مسلسل دہرایا جاتا ہے۔ مذہبی عقائد کے بارے میں بھی اس نظام نے اپنے مخالفین کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔

موجودہ انقلاب کے نظریاتی بانی اور جز وقتی انقلابی حضرت مولانا طاہر القادری کی دھرنے کے دوران تقاریر کو سن لیں تو یاد تازہ ہو جائے گی کہ کیسے مقدس حوالوں کو فساد و قتال پر اکسانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اسی انقلاب کے اگلے مرحلے میں ایک اور مذہبی و دینی جماعت نے اسلام آباد کا گھیراؤ کیا، انتظامیہ کو چت کیا اور سیاست دانوں کو فتووں کے ذریعے زیر کرنے کے بعد سینہ ٹھونک کر اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا۔

اس وقت شہزاد اکبر کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تقریبا تمام وزرا ہنسی خوشی اس ماحول کو پاکستان میں آنے والی بڑی تبدیلی کے ایک خوشنما تصویر کے طور پر پیش کر رہے تھے۔

ذرائع ابلاغ پر تعریفیں کرتے ہوئے ان کے منہ سوکھ رہے تھے۔ اسی جماعت نے ایک مرتبہ پھر اپنا لائحہ عمل دہرایا اور ایک اور فتح کا باب تحریر کیا۔

اس وقت مخالفین کے خلاف دیے گئے بیانات نے بعض کو گھر، کچھ کو کاروبار اور ایک آدھ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان کی تاریخ مذہب کو سیاست میں استعمال کرنے کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمیں یاد ہے کہ کس طرح میاں محمد نواز شریف آئینی تبدیلیوں کے ذریعے ایک جمہوری خلافت قائم کرنا چاہتے تھے۔ اسی طرح ہر دور میں ایسے معاملات کو استعمال کر کے مقاصد حاصل کیے گئے۔

مگر پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ بچے بچے کی زبان سے متعارف کیے گئے منافرت کے نعرے سہولت کے ساتھ سنے گئے۔

ایسا ماحول نہ پہلے دیکھا گیا نہ ہم وطنوں کے خلاف دشمنی کی ایسی داستانیں سنی گئیں۔ اور تو اور اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے تنازعوں کو بھی انہی خطرناک زاویوں سے طول دیا گیا۔

یہ وہ ماحول ہے جس میں شہزاد اکبر تمام تر طاقت رکھنے کے باوجود خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

اللہ خیر رکھے مگر یہ حالات نذیر چوہان کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے سے درست نہیں ہوں گے۔ جو بگاڑ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پیدا کیا گیا ہے وہ سب کے گلے پڑے گا اور ابھی تو طاقت قائم ہے جب کرسی جائے گی تب کیا ہو گا؟

مخالفین کو لٹکانے کے چکروں میں ایسے پھندے بنا دیے گئے ہیں جس میں کوئی بھی گردن پھنس سکتی ہے۔

کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید
آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ