'محکمہ زراعت' سے شہزاد اکبر کی مراد کیا تھی؟

پریس کانفرنس منعقدہ لاہور میں کل وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے محکمہ زراعت کا ذکر بھی کیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تبصروں سامنے آئے، بعد ازاں انہوں نے اپنی ٹویٹ میں اس کی وضاحت کر دی۔

(فائل فوٹو- اے ایف پی)

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت ختم ہوچکی،اب ان کا سٹیٹس مفرور کا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھاکہ نواز شریف کو علاج کے لیے آٹھ ہفتے بیرون ملک رہنے کی اجازت دی گئی تھی، انہیں اس دوران ایک ٹیکا بھی نہيں لگا نہ کوئی علاج ہوا۔

ان کے مطابق حکومت کی جانب سے نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں محکمہ زراعت کا ذکر بھی کیا جس پر سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تبصروں کے بعد انہوں نے اپنی ٹویٹ میں اس کی وضاحت کر دی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ محکمہ زراعت سے ان کی مراد وہ محکمہ تھا جو ن لیگ کے ڈاکٹر، شہباز شریف اور مریم نواز پر مشتمل تھا۔ اور جس محکمے نے اپنی مہارت سے قوم کو نواز شریف کی بیماری کا یقین دلایا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ این آر او کسی صورت نہیں دیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ نواز شریف سزا یافتہ مجرم ہیں، جن کا لندن کی سڑکوں پر گھومنا پاکستان کے نظامِ انصاف کے ساتھ مذاق اور اس کے منہ پر طمانچہ ہے۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہم نیب سے کہیں گے نواز شریف کو بطور سزا یافتہ مجرم وطن واپس لانے کےلیے کارروائی شروع کی جائےاور ان کے ضمانتی شہباز شریف سے بھی پوچھا جائے گا۔

 شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت ٹھیک ہے، انہیں واپس آکر اپنی سزا پوری کرنی چاہیے۔ پاکستان میں دہرا معیار نہیں ہوسکتا کہ باقی سزا یافتہ لوگوں کو پیرول نہ ملے۔ پیرول پر رہائی محدود مدت کے لیے ہوتی ہے۔ نوازشریف دو کیسز میں سزا یافتہ ہیں اور وہ لندن کی سڑکوں پر مزے سے گھوم رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 شہزاد اکبر کے مطابق23 دسمبر 2019 کو نوازشریف آٹھ ہفتوں کی ضمانت کی مدت ختم ہو گئی تھی۔ ضمانت دیتے وقت اسلام آباد ہائی کورٹ نے شرط رکھی تھی کہ ضمانت کی مدت بڑھانے کے لیے پنجاب حکومت سے درخواست کی جائے گی۔ جبکہ میڈیکل بورڈ نے کہا تھا کہ طبی بنیادوں پر ضمانت میں توسیع کے لیے فراہم کردہ تفصیل کافی نہیں۔ جس پر حکومت کی جانب سے دو مارچ 2020 کو برطانوی حکومت کو خط لکھا گیا ۔ خط میں برطانوی حکومت کو آگاہ کیا گیا کہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہیں ہوئی اب ان کا سٹیٹس مفرور کا ہے۔

واضح رہے کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر ہو گئی ہے، نواز شریف کی سزا بڑھانے کے لیے بھی نیب کی اپیل سماعت کے لیے مقرر ہو گئی، اس کے علاوہ فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کے خلاف اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر ہو گئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ یکم ستمبر کو اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس( ایف اے ٹی ایف) کی ہدایات کی روشنی میں ہمیں اپنے منی لانڈرنگ کے قوانین میں ترمیم کرنی ہے۔ قانون تو ہم ہر صورت پاس کروائیں گے اور کسی بھی صورت بلیک میل نہیں ہوں گے، حکومت اپوزیشن کو این آر او پلس کسی صورت دینے کو تیار نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل