’وزیر اعظم اور شہزاد اکبر کے فون کا فرانزک کیا جائے سب پتہ چل جائے گا‘

شوگر کمیشن کے رکن اور ایف آئی اے کے معطل افسر سجاد مصطفیٰ باجوہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم، پرنسپل سیکرٹری اور شہزاد اکبر کے فونز کا فرانزک کرایا جائے پتہ چل جائے گا کس کس کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔

شوگر کمیشن کے رکن ایف آئی اے کے معطل افسر سجاد مصطفیٰ باجوہ کہتے ہیں کہ جب انہیں شوگر انکوائری سونپی گئی تو انہوں نے معلوم کیا کہ ایف بی آر اور دیگر اداروں کی جانب سے دس بڑی شوگر ملوں کو ’ٹیکس چوری‘ اور ’قیمتوں میں اضافے‘ کی چھوٹ دی جا رہی ہے۔

سجاد مصطفیٰ نے کہا کہ انہوں نے اس بارے میں چھان بین کر کے ڈی جی ایف آئی اے سمیت متعلقہ اداروں کو فوری خطوط لکھے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں سجاد مصطفیٰ نے اعلیٰ عہدیداروں پر الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ جو قوانین 2015 میں بنے ان پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا تھا۔

’شوگر، سیمنٹ اور کھاد کی انڈسٹری سے متعلق بننے والے قوانین کے مطابق الیکٹرانک سرویلنس، سوفٹ ویئر ڈویلپ، سی سی ٹی وی کیمرے ملز کے گیٹ اور گودام میں نصب ہونا تھے جس کی رسائی صرف ایف بی آر کو ہونا تھا مگر ان میں سے کسی شرط کو پانچ سال میں پورا نہیں کیا گیا۔‘

جب ان سے قوانین پر عمل نہ کرنے والی ملوں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ مانگی تو ایف بی آر کے ممبر کمیشن ڈی جی انٹیلیجنس نے ’مجھے دھمکی دی کہ آپ نے یہ معاملہ تحریری طور پر کیوں لکھا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جو چینی ایکسپورٹ ہو رہی تھی دیکھا کہ ملیں 70 فیصد چینی افغانستان بھیج رہی تھی جبکہ 70 فیصد چینی باہر جا ہی نہیں سکتی۔‘

 

انہوں نے الزام لگایا کہ ایف آئی اے کے ایک افسر ابوبکر خدا بخش سے وزیر اعظم اور شہزاد اکبر سے قریبی تعلق ہے۔ ہر بڑے معاملہ کی انکوائری ان کو ہی دی جا رہی ہے۔

’جب مجھے معطل کیا گیا تو اس وقت بھی ڈی جی ایف آئی اے کو لکھا کہ ایف بی آر سے پوچھا جائے انہوں نے جو اقدامات کرنے تھے وہ کیوں نہ کیے؟ اس کے بغیر ٹیکس چوری روکنا یا قیمتوں کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔‘

سجاد باجوہ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں چینی کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ بھی حکومت نے جان بوجھ کر لٹکایا۔ ’اس کے پیچھے ملز مالکان کو تحفظ دینا مقصود تھا۔‘

’سب ملے ہوئے ہیں مال بنا رہے ہیں گوجر خان جاکر پتہ کیا جائے کہ مرزا دال چاول کی ریڑھی لگانے والا کون تھا تو اتنی جائیداد اور پیسہ کہاں سے آگیا؟‘

ان سے پوچھا گیا کہ شوگر ملز، سیمنٹ اور کھاد فیکٹری مالکان کو کون فائدہ پہنچا رہا ہے؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ’وزیر اعظم عمران خان، پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور شہزاد اکبر سمیت شوگر کمیشن ممبران کے ٹیلی فونز کا فرانزک کرایا جائے سب معلوم ہو جائے گا کون کس کی سرپرستی یا فائدہ پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ موبائل کمپنیاں اور پی ٹی اے ان کے موبائل کا ڈیٹا محفوظ کر لے کیونکہ وہ اس معاملے کو عدالت سمیت ہر جگہ اٹھائیں گے۔ ’وہاں اس ڈیٹا کی درخواست کروں گا۔ یہ نہ ہو انکوائری چلے نمبر تبدیل یا پرانا ہونے پر ڈیٹا ختم ہو جائے۔‘

’اپنی بحالی کے ساتھ جس جس نے مال بنایا، جو پچپن روپے سے ایک سو بیس روپے تک چینی کی قیمت پہنچنے کی وجہ بنے ان کے خلاف بھی قانونی چارا جوئی کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود کہا تھا کہ انہیں بلیک میل کیا گیا۔ وہ بتائیں کہ کون سا شوگر مل مالک آیا اور انہیں بلیک میل کیا جس پر چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی؟

جہانگیر ترین سمیت شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی سنجیدہ ہو رہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں سجاد باجوہ نے جواب دیا کہ تمام انکوائریز ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ابوبکر خدا بخش کی زیر نگرانی ہو رہی ہیں۔

’ابوبکر خدا بخش شہزاد اکبر کی ہدایت پر چلتے ہیں مقدمے درج کرنے کا مقصد کیا ہے؟ ایک ہی دن میں انکوائری کے بغیر مقدمہ درج ہو گیا اس کے پیچھے کیا ہے سب سامنے آجائے گا۔ بعض معلومات ابھی نہیں بتانا چاہتا لیکن جلد سب کو معلوم ہو جائے گا کہ سب دکھاوا ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ سوچنے کی بعد یہ ہے کہ ستر سالوں میں چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو سے کم رہی لیکن گذشتہ دو سالوں میں دوگنا سے بھی بڑھ گئی اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہو کیا رہاہ ے؟

سجاد باجوہ کہتے ہیں کہ ’عدالت اختیار دے تو چینی کی قیمت 70 روپے فی کلو سے نیچے نہ لایا تو جو مرضی سزا دیں، میں یہ 1996 میں کر کے دکھا چکا ہوں۔ چینی کی قیمتیں شوگر ملز کی انکوائریوں کے ذریعے کم کرائی تھیں۔‘

ہر بڑی انکوائری کے بعد ٹرانسفر

شریف خاندان کے خلاف بھی سجاد باجوہ نے ایک انکوائری کی تھی۔ ان کے مطابق 2014-15 میں کمرشل بینک انکوائری کی اور پنجاب بینک میں اربوں کے گھپلے پکڑے، سی ای او کو ذمہ دار ٹھہرایا تو لاہور سے فیصل آباد ٹرانسفر کر دیا گیا۔

’وہاں جاکر ریجنل دفتر سے کرپشن ختم کی اور فیسکو کا سکینڈل پکڑا جس میں 12 ارب روپے کا فائدہ ایک انڈسٹری گروپ کو دیا گیا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) حکام کے خلاف اغوا کے مقدمہ کی انکوائری میں انہیں ذمہ دار قرار دیا۔ اس معاملہ پر دو جے آئی ٹی بنی، انہوں نے بھی مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی جو آج تک نہیں ہوا لیکن انہیں لاہور سائیبر کرائم ونگ میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔

’جہاں دو ارب کا میگا سکینڈل پکڑا اور ملزمان گرفتار کیے تو واہگہ سرکل ٹرانسفر کر دیا جہاں ایک سال تک نوکری کی مگر جب اسلام آباد ایئر پورٹ پر خواتین سے بد تمیزی کے واقعات عام ہوئے تو اس وقت کے ڈی جی ایف آئی اے احمد لطیف نے خود فون کر کے کہا کہ آپ اسلام آباد ایئر پورٹ پر ڈیوٹی کریں جب وہاں گیا تو معلوم ہوا ایک بہت بڑا مافیا ایف آئی کے فسران سے مل کر کام کر رہا ہے انہیں پکڑا۔ جس میں آئی جی پنجاب انعام غنی کا بھی نام تھا۔ اس بارے ایف آئی اے میں ایڈیشنل ڈی جی ایمیگریشن تعینات واجد ضیا کے پاس گیا اور معاملہ بتایا۔ سابق ڈی جی بشیر میمن کو بتایا تو انہوں نے ایف آئی اے کے 35 افسران کو او ایس ڈی بنا کر ان کے خلاف مقدمات بحال کیے۔‘

سجاد باجوہ کہتے ہیں کہ ’یہ پہلی بار نہیں کہ میں نے کسی کے خلاف لکھا ہر جگہ ہر بار پریشر کے باوجود اپنی ذمہ داری پوری کی پہلے ٹرانسفر کیا جاتاوتھا اب بھی کوئی مسئلہ تھا تو ٹرانسفر کرودیتے لیکن موجودہ حکومت کہتی ہے ان کوعبرت کا نشان بنانا ہے، مجھ جیسے ایماندار افسران کے خلاف تو کارروائی کر رہی ہے مگر واجد ضیا کی سربراہی میں جن انکوائریوں میں 62,63 کرپٹ افسران قرار پائے ایجینسیوں نے متفقہ رپورٹس دیں کہ یہ کرپٹ لوگ ہیں انہیں عہدوں سے نوازا جا رہا ہے۔‘

سجاد باجوہ کا کہنا ہے وہ ابھی بھی خوفزدہ یا پریشان نہیں انہیں یقین ہے کہ وہ دوبارہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان