افغان فوج ریت کی دیوار کیوں ثابت ہوئی؟ چار بڑی وجوہات

افغانستان کی سرکاری فوج کی تربیت پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اس کے اچانک ڈھیر ہو جانے پر پینٹاگون کی جانب سے 20 سالوں میں کی جانے والی غلطیاں پوری طرح سے سامنے آ گئی ہیں۔

15 اگست میں افغان فوجی پنج شیر صوبے میں (اے ایف پی)

افغانستان کی سرکاری فوج کی تربیت پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اس کے اچانک ڈھیر ہو جانے پر پینٹاگون کی جانب سے 20 سالوں میں کی جانے والی غلطیاں پوری طرح سے سامنے آ گئی ہیں۔

ان میں سے چار اہم غلطیوں کی تفصیلات ہم اپنے قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

1: غلط فوجی ساز و سامان

امریکہ نے 83 ارب ڈالر خرچ کر کے افغان فوج کی تربیت اپنی فوج کے ماڈل پر کی۔ امریکہ فوج فضائیہ اور جدید ترین مواصلاتی نظام کے نیٹ ورک پر بےتحاشا انحصار کرتی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا ایک ایسے ملک میں چلنا ممکن نہیں تھا جہاں صرف 30 فیصد آبادی کو بجلی کی مستقل سہولت میسر ہے۔

طیارے، ہیلی کاپٹر، ڈرون، بکتر بند طیارے، رات کو دیکھنے والے چشمے: امریکہ نے افغان فوج کو کیل کانٹے سے لیس کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اس نے حال ہی میں اسے جدید ترین بلیک ہاک جنگی ہیلی کاپٹر بھی مہیا کیے۔

لیکن افغان فوجیوں کی بڑی اکثریت ان پڑھ ہے، اور افغانستان ایسا ملک ہے جہاں اس جدید ترین فوجی ساز و سامان کو چلانے کے لیے انفراسٹرکچر ہی موجود نہیں، اس لیے وہ سادہ ہتھیاروں سے لیس اور اپنے سے کم تعداد والے طالبان جنگجوؤں کے سامنے مزاحمت کرنے سے قاصر رہے۔

امریکہ کے افغانستان کی تعمیرِ نو کے خصوصی انسپیکٹر جنرل جان سوپکو کے مطابق امریکہ نے افغان فوجیوں کی صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ افغان فوج کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے کوئی ٹیسٹ لینے کی کوشش کرتے، ’امریکی فوج ’گول پوسٹ‘ ہی بدل دیتی (یعنی ٹیسٹ میں کامیاب ہونے کا طریقۂ کار ہی بدل دیتی)، تاکہ وہ آسانی سے پاس ہو سکیں۔ اور جب یہ بھی ممکن نہ رہا تو انہوں نے امتحانی نتائج کو خفیہ کر دیا۔ اس لیے انہیں پتہ تھا کہ افغان فوج کتنی خراب ہے۔‘

سوپکو کے دفتر نے گذشتہ ہفتے ہی کانگریس کو رپورٹ پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جدید ترین ہتھیاروں کا نظام، گاڑیاں اور نقل و حرکت کی سہولیات، جو مغربی ملکوں کی فوجیں استعمال کرتی ہیں، وہ افغان فوج کی صلاحیتوں سے باہر تھیں کیوں کہ ان کی بڑی تعداد ان پڑھ ہے۔‘

2: غلط تعداد

کئی ماہ تک پینٹاگون کے حکام اصرار کرتے رہے ہیں کہ افغان فوج کو طالبان پر عددی برتری حاصل ہے۔ ان کے مطابق افغان فوجیوں کی تعداد تین لاکھ ہے جب کہ طالبان 70 ہزار ہیں۔

لیکن نیویارک میں واقع امریکہ کی ممتاز فوجی اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ کے مرکز برائے انسدادِ دہشت گردی کے مطابق یہ تعداد مبالغے پر مبنی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جولائی 2020 تک اس ادارے کے تخمینے کے مطابق محکمۂ دفاع کے تحت ایک لاکھ 85 ہزار فوجی تھے، جب کہ بقیہ تعداد پولیس کی اور دوسرے سکیورٹی اداروں کے ارکان کی تھی۔

ویسٹ پوائنٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق ان میں سے بھی صرف 60 فیصد افغان فوجی تربیت یافتہ جنگجو تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ لڑنے والے فوجیوں کی تعداد صرف 96 ہزار تھی۔

افغانستان کی تعمیرِ نو کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغان فوجی میں بھگوڑوں کا مسئلہ ہمیشہ ہی سے بڑا دردِ سر رہا ہے۔ 2020 میں اسے ادارے کو معلوم ہوا کہ افغان فوج ہر سال 25 فیصد نئے فوجی بھرتی کرتی ہے، کیوں کہ بڑی تعداد میں فوجی بھاگ جاتے ہیں۔

3: بےدلی سے کیے گئے وعدے

امریکی حکام بار بار کہتے رہے ہیں کہ وہ 31 اگست کو اپنے مکمل انخلا کے بعد بھی افغان فوج کی مدد کرتے رہیں گے۔ لیکن انہوں نے کبھی اس کی وضاحت نہیں کی کہ عملی طور پر یہ کام ہو گا کیسے۔

کابل میں اپنے آخری دورے کے موقعے امریکی وزیرِ دفاع لوئڈ آسٹن نے کہا کہ افغان فوج کی فضائیہ کے ذریعے مدد کی جائے گی۔

اس کے علاوہ اس میں زوم کے ذریعے آن لائن تربیت بھی شامل تھی۔ لیکن وہ یہ نظر انداز کر گئے کہ افغانوں کی بڑی تعداد کے پاس نہ کمپیوٹر ہیں نہ سمارٹ فون اور نہ ہی اچھی وائی فائی۔

کابل میں سابق امریکی سفیر رونلڈ نیومین سمجھتے ہیں کہ امریکی فوج کو انخلا میں مزید وقت لگانا چاہتے تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے تحت امریکہ کو 11 ستمبر کو افغانستان سے نکلنا تھا۔

ٹرمپ کے جانشین جو بائیڈن نے اس تاریخ کو بدل کر 31 اگست کر دیا۔

لیکن اس کے ساتھ انہوں نے افغانستان سے امریکی شہریوں کو بھی نکالنے کا فیصلہ کیا، جن میں وہ کنٹریکٹر بھی شامل تھے جو وہاں امریکی لاجسٹکس میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

سابق صدر جارج بش کے دور میں افغانستان میں سفیر نیومین نے این پی آر ریڈیو کو بتایا، ’ہم نے ایئر فورس بنائی جس کی دیکھ بھال کا انحصار کنٹریکٹروں پر تھا۔ پھر ہم نے کنٹریکٹروں کا پتہ صاف کر دیا۔‘

4: نہ تنخواہ نہ کھانا

اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ افغان فوجیوں کو پینٹاگون سے سالہاسال سے تنخواہیں ہی نہیں دیں۔ لیکن جب سے امریکی فوج نے افغانستان سے نکلنے کا اعلان کیا، تنخواہیں دینے کی ذمہ داری افغان حکومت کے کندھوں پر آ گئی۔

بہت سے افغان فوجیوں نے سوشل میڈیا پر آ کر کہا کہ انہیں کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، بہت سی جگہوں پر ایسا بھی ہوا کہ ان کے یونٹ کو خوراک نہیں پہنچی، بلکہ اسلحہ تک نہیں ملا۔

امریکی فوج کا وقت سے پہلے انخلا تابوت کی آخری کیل ثابت ہوا۔

نیومین نے کہا، ’ہم نے امریکی فوج کو جلدبازی میں نکال کر اور فضائی مدد ختم کر کے افغان فوج اور اس کے مورال کو زبردست دھچکہ پہنچا دیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا