طورخم: ’پہلے وردی والے اور اب طالبان سکیورٹی پر کھڑے ہیں‘

انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے طورخم باڈر کا دورہ کیا ہے اور وہاں کے حالات معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔

افغان طالبان نے صوبہ ننگرہار پر قبضے کے بعد اتوار کو پاکستان کے ساتھ متصل طورخم بارڈر کا کنٹرول بھی سنبھا لیا ہے اور اب افغانستان کی جانب سے سکیورٹی کے فرائض طالبان کے جنگجو سر انجام دے رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے طورخم باڈر کا دورہ کیا ہے اور وہاں کے حالات معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس دورے کی صورتحال ہماری ٹیم نے یوں بیان کی ہے۔

پشاور سے نکل کر راستے میں ہمیں کہا گیا تھا کہ ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں طورخم بارڈر پر پہنچنے سے قبل  آخری چیک پوسٹ پر پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے لیکن ہماری ٹیم کے پہنچنے تک سڑک کو کھول دیا گیا تھا اور ٹریفک میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں تھی۔

طورخم بارڈر کے احاطے میں داخل ہوتے ہی سکیورٹی فورسز کے جوان سرحد پر چوکس کھڑے تھے جبکہ افغانستان کی جانب سرحد کی حفاظت پر سادہ لباس میں ملبوس طالبان جنگجو موجود تھے۔

طورخم بارڈر کو حکام کے مطابق دن کو کچھ وقفے کے لیے بند کیا گیا تھا لیکن بعد میں سرحد کو معمول کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ بارڈر پر موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ سرحد پر آپریشنز میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔

اہلکار نے بتایا: ’بارڈر پر بس اتنی تبدیلی آئی ہے کہ پہلے افغانستان کی جانب سکیورٹی والے وردی میں تھے اب بغیر وردی کے طالبان کے جنگجو کھڑے ہیں۔‘

طورخم بارڈ کے قریب پاکستان سے افغانستان سامان لے جانے والی گاڑیوں کی لمبی قطار نظر آرہی تھی جو کلیئرنس کے لیے بنی ہوئی تھی۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے ٹرانزٹ گاڑیوں کو ابھی نہیں چھوڑا جا رہا ہے لیکن  طورخم میں لوڈ ہونے والی گاڑیوں کے افغانستان جانے کی اجازت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بارڈر پر افغانستان کی جانب سے ہر ایک گاڑی جو پاکستان میں داخل ہوتی تھی اس کی باقاعدہ چیکنگ اور انٹری کی جاتی تھی۔ زیادہ تر گاڑیاں پھلوں اور سبزیوں کی تھیں۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ چونکہ پھلوں اور سبزیوں سے سے بھری گاڑیوں میں سامان خراب ہونے کا خدشہ تھا تو اس کو فوری بنیادوں پر پاکستان میں داخلے کی اجازت مل گئ تھی۔ 

بارڈر پر مسافروں کے لئے بناہے سیکشن میں سناٹا تھا کیونکہ طورخم بارڈر گذشتہ کئی ہفتوں سے کرونا کی وبا کے خطرے کی پیش نظر بند ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بارڈر پر عام لوگوں کی آمدورفت نہیں تھی۔

بارڈر پر قبضے کا آنکھوں دیکھا حال

بارڈر پر موجود ایک شہری اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رات گئے ہمیں اندازہ ہوا تھا کہ طالبان ننگرہار پہنچنے کے بعد بارڈر پر قبضہ کریں گے اور ایسا ہی ہوا کہ صبح سویرے وہ بارڈر تک پہنچ گئے۔

انھوں نے بتایا کہ بارڈر پر پہنچنتے ہی طالبان کے جنگجوؤں نے بارڈر پر موجود افغانستان کی سکیورٹی فورسز کو بتایا کہ یا تو آپ لوگ اپنی مرضی سے ہتھیار ڈال دیں اور اگر مزاحمت کی تو پھر لڑائی ہوگی۔

اہلکار نے بتایا: ’سکیورٹی فورسز نے اپنی مرضی سے سرینڈر کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنا اسلحہ طالبان کے حوالے کیا اور یوں طالبان کے جنگجوؤں نے بارڈر پر قبضہ کر لیا۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان