طورخم: ٹرک ڈرائیوروں کے لیے چلتا پھرتا ہوٹل 

عنایت خان کے اس چلتے پھرتے ہوٹل سے ڈرائیور بھی خوش دکھائی دیے کیونکہ انہیں سڑک پر ہی بیٹھے بیٹھے سالن، گرم گرم روٹی اور ٹھنڈا پانی مل جاتا ہے۔ 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر وہ مقام ہے جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی ہے۔ 

چونکہ یہ بارڈر پشاور سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے اور شدت پسندی میں کمی، سکیورٹی حالات بہتر ہونے کی وجہ سے اس جانب سفر کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 

ان افراد میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو شدت پسندی کے قصے سننے کے بعد اب حالات بہتر ہونے پر ان علاقوں کی سیر کرنا چاہتے ہیں یا پھر اس پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔ 

ہم نے بھی کچھ اسی غرض سے اسلام آباد سے طورخم کا سفر کیا۔ ہم سے مراد میں اور میرے کچھ دوست ہیں۔ 

اصل میں جانا ان دوستوں نے تھا لیکن مجھے بطور گائیڈ ساتھ لے گئے حالانکہ مجھے خود اس علاقے کے بارے میں کچھ خاص معلومات نہیں بس صرف پشتو بول سکتا ہوں۔ 

خیر ہم جب پشاور سے خیبر ایجنسی میں داخل ہو رہے تھے اور کچھ فاصلے پر جب باب خیبر دکھائی دیا تو میرے ایک دوست نے پیچھے مڑ کر حیرانگی سے کہا ’یہ اصلی والا باب خیبر ہی ہے نا؟ تصاویر میں تو یہ بہت بڑا لگتا ہے۔‘ 

میرے پاس ان کے اس سوال کا جواب تو تھا نہیں اس لیے میں نے مسکراتے ہوئے اتنا ہی کہا کہ اب یہی باب خیبر ہے تصویر بنانی ہے تو بنا لیں۔ 

ارے رکیے رکیے۔ اس تحریر کا مقصد آپ کو اس سفر کی دستان سنانا نہیں بلکہ ایک شخص سے ملوانا ہے۔ 

 پشاور سے تقریباً 27 کلومیٹر طے کرنے کے بعد ہم شگئی قلع پہنچے جہاں سے مزید چند کلومیٹر دور ہی گئے تھے کہ اچانک ٹرکوں کی ایک طویل قطار نظر آئی۔ 

گاڑی روک کر ان ٹرک ڈرائیورز سے بات چیت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کی منزل بھی طورخم ہی ہے مگر اس مقام پر انہیں تین سے چار روز ہو چکے ہیں۔ 

ابھی ہم ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے یہ بات ہی کر رہے تھے کہ پشاور سے یہاں تک ان ڈرائورز کو اب تک سات روز ہو چکے ہیں اور ابھی مزید 27 کلومیٹر کا سفر باقی ہے کہ اچانک ایک شخص پر نظر پڑی۔ 

یہ عنایت خان ہیں جو شگئی سے طورخم کے درمیان کھڑے ٹرک ڈرائیورز کو کھانا پہنچاتے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سڑک کنارے کھڑے ٹرک ڈرائیوروں کو پلیٹ میں سالن روٹی دیتے ہوئے انتہائی خوش مزاج اور مہمان نواز طبیعت کے مالک عنایت خان نے بتایا کہ ان کا اپنا ہوٹل بھی ہے جس کا نام میر حمزہ شنواری ہوٹل ہے۔ 

سڑکوں پر دن رات گزارنے والے یہ ڈرائیور کھانے پینے کا کیا کرتے ہوں؟ 

یہی سوال جب عنایت خان کے ذہن میں آیا تو انہوں نے ایک سزوکی پک اپ پر کچھ اینٹوں سے چولہا بنایا، اس پر ہانڈیاں رکھیں، روٹیاں لیں اور نکل پڑے۔ 

وہ روز صبح نو بجے نکلتے ہیں اور دو سے تین بجے تک یہاں رہتے ہیں اور پھر دوبارہ شام کو آتے ہیں اور رات 11 بجے تک کھانا اور پانی لاتے ہیں۔ 

’اس طرح ہمیں بھی دس بیس روپے کی بچت ہو جاتی ہے اور ان کو (ڈرائیور) بھی سہولت ہو جاتی ہے۔‘ 

عنایت خان کے مطابق وہ روزانہ سبزی، پیس (مرغی کا سالن) اور دال لاتے ہیں اور اسی قیمت پر فروخت کرتے ہیں جو ریٹ ہوٹل کا ہے۔ 

انہوں نے ریٹ کے بارے میں سوال پر کہا کہ ’ہوٹل اور روڈ کا ریٹ ایک ہے۔‘ 

عنایت خان کے اس چلتے پھرتے ہوٹل سے ڈرائیور بھی خوش دکھائی دیے کیونکہ انہیں سڑک پر ہی بیٹھے سالن، گرم گرم روٹی اور ٹھنڈا پانی مل جاتا ہے۔ 

عنایت خان یقیناً ایک کاروبار ہی کر رہے ہیں لیکن ان کے اس کاروبار سے جہاں ان کو فائدہ ہو رہا ہے وہیں ان سڑکوں پر کئی کئی دن کھڑے رہنے والے ڈرائیوروں کا بھی بھلا ہو رہا ہے، جن میں سے اکثر تھک کر اپنے ٹرکوں کے نیچے ہی سو جاتے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا