طورخم سرحد: 'افغانستان سے زیادہ پاکستان میں مسائل ہیں'

پاکستان حکام کی جانب سے طورخم سرحد پر سامان سے لدے سینکڑوں کنٹینرز کو  'بلاجواز' روکے رکھنے کے خلاف ٹرانسپورٹرز کا احتجاج تاحال جاری۔

آل طورخم ٹرانسپورٹ یونین کے صدر نکے مطابق ب تک ان کے مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں  (تصویر: آل طورخم ٹرانسپورٹ یونین)

پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد طورخم پر سامان سے لدے سینکڑوں کنٹینرز کو پچھلے آٹھ روز سے روکے رکھنے کے خلاف ٹرانسپورٹرز کا احتجاج تاحال جاری ہے۔

تاجروں اور کنٹینرز مالکان نے الزام لگایا ہے کہ چیک پوسٹوں پر ’رشوت‘ کی خاطر ان کا مال آگے نہیں جانے دیا جا رہا، جس کی وجہ سے نہ صرف انہیں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ ڈرائیور بھی اس صورتحال میں بدحالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

آل طورخم ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی عظیم اللہ شنواری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’غیر ضروری چیکنگ اور دوسرے تاخیری حربوں سے تاجروں کا وقت تو ضائع ہو ہی رہا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں پہلے سے متاثرہ دو طرفہ تجارت میں بھی مزید کمی آئی ہے۔تختہ بیگ سے طورخم تک ہر چیک پوسٹ پر ڈرائیوروں کو روک کر تنگ کیا جاتا ہے، جو پیسے دیتا ہے اس کو اپنی باری کا انتظار کیے بغیر آگے جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم ٹیکس نہیں دیتے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’فی کلو کے حساب سے ٹیکس دیا جاتا ہے اور ہر کنٹینر میں 10 فی صد سکریننگ بھی ہم مانتے ہیں، لیکن لگتا ہے حکام کی پالیسیاں کچھ اور ہیں۔‘ عظیم اللہ نے مزید بتایا کہ افغانستان کے برعکس پاکستان کی جانب سے مال بردار گاڑیاں لے جانے میں زیادہ مسائل اور مشکلات درپیش ہیں۔

’چیک پوسٹس پر رشوت کے علاوہ سرحد پر سکریننگ کے ایک ہزار روپے الگ وصول کیے جاتے ہیں۔ سکریننگ کا آلہ بھی چھوٹا یعنی موٹرکاروں والا ہے جس سے کام سست روی کا شکار رہتا ہے۔ ہمارا مال یورپ تو لیتا نہیں، اگر افغانستان کے ساتھ بھی ایکسپورٹ نہیں کریں گے تو کہاں جائیں گے ہم؟‘

آل طورخم ٹرانسپورٹ یونین کے صدر نے کہا کہ جب تک ان کے مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے کامٹریڈ، جو بین الاقوامی تجارت پر نظر رکھتا ہے، کے اعدادوشمار کے مطابق 2019 میں پاکستان  افغانستان کے درمیان 1.18 بلین ڈالرز کی تجارت ہوئی، جب کہ مالی سال 2006 میں یہ حجم 0.83 بلین امریکی ڈالرز سے بڑھ کر مالی سال 2013 میں 2.1 بلین ڈالرز تک پہنچ گیا تھا۔

ایسے میں جب امن مذاکرات چل رہے ہیں اور دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان  بھی پاک افغان تجارت کو فروغ دینے کے لیے مسائل حل کرنے اور سرحد 24 گھنٹے کھلا رکھنے پر زور دیتے رہے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ 2013 کے مقابلے میں 2019 میں اس حجم میں بہتری دکھائی دیتی۔

کئی برسوں سے پاکستان سے کابل مختلف قسم کا مال اپنے ذاتی ٹرک میں لے جانے کا کام کرنے والے ڈرائیور خالد افغان نے موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ پچھلے کئی دن سے قطار میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس سے پہلے کئی کئی ہفتے اور مہینے بھی سڑک پر گزار چکے ہیں۔ ’ہم تو اس ناانصافی کا سامنا کرتے کرتے اب انتظار کے عادی ہو چکےہیں۔ نیند تو ویسے بھی ہماری قسمت میں نہیں ہے۔ میرے اہل خانہ لوگر میں میرے بوڑھے والد کے سپرد ہیں جب کہ میں روزی روٹی کی تلاش میں سڑکوں پر خوار ہوتا رہتا ہوں۔‘

خالد افغان نے بتایا کہ جب انہیں سرحد بند ہونے کی وجہ سے سڑک پر رکنا پڑجاتا ہے تو کھانے پینے اور دوسری ضروری اشیا خریدنے پر ان کا یومیہ ایک ہزار سے 1500 خرچ الگ ہوتا ہے۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت ہندوستان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جب کہ افغانستان سب سے زیادہ تجارت پاکستان کے ساتھ کرتا آ رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب، پاکستان کے بعد ہندوستان افغانستان کے ساتھ سرحد نہ رکھنے کے باوجود 24 فی صد تجارت کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہندوستان، ایران کے ساتھ مل کر چابہار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کو تجارتی سامان مہیا کرتا ہے، اور اسی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کے لیے دنیا کی منڈیوں تک رسائی ممکن بنائی گئی ہے۔

مالی سال 2011 کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم کافی کم پڑ گیا اور اس کے اسباب افغانستان کے نامساعد سیاسی حالات، نیٹو رسد کے لیے پاکستانی راستوں کا بند ہونا اور کسٹمز نظام میں جدت کی کمی بتائی گئی۔

تاہم دونوں ممالک کے کاروباری حضرات اور تجارت کے ماہرین کا خیال ہے کہ 2010 کے پاک افغان معاہدے پر دونوں ممالک کی طرف سے خاطر خواہ عملدرآمد بھی نہیں ہوا ہے اور نہ ہی تجارت کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک دونوں ممالک پیسوں کی ادائیگی، تجارتی مال کے لیے انشورنس کا طریقہ کار، ویزا اجرا، ٹیکس وصولی، تجارتی فنانسگ اور تجارتی دستاویزات کی آسانی کے ساتھ  فراہمی کو ممکن نہیں بناتے تجارت کا حجم کم ہوتا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان