چیئرمین نیب سکینڈل: مسلم لیگ ن آخر چاہتی کیا ہے؟

جسٹس (ر) جاوید اقبال کے مبینہ ویڈیو سکینڈل کے  حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے مختلف بیانات سامنے آرہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید پارٹی رہنما خود ہی کنفیوژن کا شکار ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید پارٹی رہنما خود ہی کنفیوژن کا شکار ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے مبینہ ویڈیو سکینڈل کے  حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے مختلف بیانات سامنے آرہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید پارٹی رہنما خود ہی کنفیوژن کا شکار ہیں۔

پارٹی کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی بات کریں تو انہوں نے اپنا موقف ٹوئٹر پر بیان کیا اور واضح طور پر لکھا کہ ’پاکستان مسلم لیگ ن، چئیرمین نیب کے معاملے سے باہر رہے۔ نیب کے حوالے سے ہمارا نقطہ نظر اصول پر مبنی ہے، جو فطرت میں قانونی ہے اور ہم تمام فورموں پر اپنی تشویش جاری رکھیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان مسلم لیگ ن کا کسی کی ذاتی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں، ہم اپنے سیاسی اور قانونی بیانیے پر قائم ہیں۔‘

پارٹی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی شہباز شریف کے اس موقف کی تائید کی گئی۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی چیئرمین نیب سے متعلق واضح موقف بیان کر چکے ہیں کہ اس حوالے سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سارے معاملے کی تحقیق کرے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’چیئرمین نیب کے حوالے سے کافی چیزیں سامنے آرہی تھیں۔ ان کے رویے کے حوالے سے بھی شکایات تھیں اور اب یہ سکینڈل منظر عام پر آگیا۔ اس حوالے سے ہم نے ایک تحریک پیش کرنے کا ارادہ کیا ہے، جس میں ایوان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے اور جو بھی حقائق سامنے آئیں اس کی روشنی میں حکومت چیئرمین نیب کے حوالے سے فیصلہ کرے۔‘

اسی حوالے سے انہوں نے جمعے کے روز ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی، جس میں اعلان کیا گیا کہ قائد حزب اختلاف نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف پیر کو اسمبلی میں تحریک پیش کریں گے کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس سارے معاملے کی تفتیش اور تحقیق کرکے حقائق قوم کے سامنے لائے۔

شاہد خاقان عباسی کا یہ بھی کہنا تھا: ’ہمارا فرض ہے کہ ان کا جرم سامنے لائیں اور کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ ان کا جرم کیا ہے لیکن اگر وہ کمیٹی سے بھاگے تو ثابت ہوجائے گا کہ دال میں ضرور کالا ہے لیکن حکومت کا اب تک کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ دال بالکل کالی ہے۔‘

مزید پڑھیے: چیئرمین نیب ویڈیو سکینڈل کی خاتون اپنے الزام پر قائم

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ملک محمد احمد خان بھی ایک بیان دے کر اُس وقت خبروں کی زینت بنے، جب انہوں نے چیئرمین نیب کے استعفے کا مطالبہ اور ان کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان بھی کر ڈالا، مگر پارٹی نے ان کے اس اعلان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا اور پارٹی کے آفیشل ٹوئٹر پیج پر مسلم لیگ ن کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کے حوالے سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ ملک محمد احمد خان صاحب کا چیئرمین نیب کے استعفے کا مطالبہ اور مقدمہ درج کرنے کا اعلان ان کی ذاتی رائے ہے اور یہ پارٹی موقف نہیں ہے۔

بات کریں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی تو ہفتے کے روز نیب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیب چیئرمین کے سکینڈل کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اٹھایا جانا چاہیے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات اور رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں چیئرمین نیب کے معاملے پر قومی اسمبلی میں پارلیمانی کمیٹی بنانے کے مطالبے کی قرارداد جمع کروا دی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ قومی اسمبلی کے رول 244کے تحت ایک کمیٹی بنائی جائے جو تمام معاملات کی جانچ پڑتال کرے جبکہ چیئرمین نیب اور وزیراعظم کو پارلیمانی کمیٹی میں پیش ہوکر اپنی وضاحت دینی چاہیے۔

قرارداد کے متن کے مطابق: ’حکومت اپوزیشن کو دبانے کے لیے نیب کو استعمال کر رہی ہے۔ چیئرمین نیب کے معاملے میں جو ویڈیو ریلیز ہوئی وہ وزیر اعظم کے اہم دوست کے نیوز چینل سے ریلیز ہوئی، حکومت چیئرمین نیب کو ہٹا کر اپنے تمام کیسز ختم کرانا چاہتی ہے اور چیئرمین نیب کےخلاف جو سازش کی گئی اس کے تانے بانے وزیر اعظم ہاﺅس سے ملتے ہیں۔‘

قرارداد میں مزید کہا گیا: ’عمومی تاثر ہے کہ حکومت اپنے اور اپنے اتحادیوں کے کیس ختم کرانے کے لیے چیئرمین نیب پر دباﺅ ڈال رہی ہے اور چیئرمین نیب یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ نیب اگر حکومت کے اتحادیوں کے کیس اٹھانا شروع کردے تو حکومت گر جائے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے: چیئرمین نیب کی متنازع ویڈیو پروپیگینڈا ہے: نیب ترجمان

نیب چیئرمین سکینڈل کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی جانب سے سامنے آنے والے مختلف بیانات کے حوالے سے سیاسی تجزیہ کار نجم سیٹھی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جو مختلف بیانات آرہے ہیں یہ تھوڑے سے کنفیوژنگ ہیں، لیکن ایک چیز واضح ہے کہ میاں شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کے حق میں نہیں ہیں۔‘

نجم سیٹھی کے مطابق ’اس وقت چیئرمین نیب کو اسٹیبلشمنٹ پروٹیکٹ کر رہی تھی جبکہ عمران خان موجودہ چیئرمین نیب سے شدید ناخوش تھے اور ان پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے خلاف احتسابی عمل کو تیز کریں اور کوئی چھوٹ نہ دیں اور اسی دوران یہ سکینڈل آیا جو چیئرمین نیب کو بیک فٹ پر لے گیا اور چئیرمین نیب نے حکومت کو یقین دلایا کہ وہ عید کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں گے اور لمبی چوڑی گرفتاریاں ہوں گی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو اس بات کی خبر ہوگئی جس کے بعد آصف علی زرداری اور میاں محمد نواز شریف نے فیصلہ کیا کہ موجودہ چیئرمین نیب کو ان کے عہدے سے ہٹوایا جائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’عمران خان کا حسین اصغر کو ڈپٹی چیئرمین نیب لگانے  کا مقصد بھی حزب اختلاف کو ٹف ٹائم دینا تھا لیکن آصف زرداری اور نواز شریف نے سوچا کہ حسین اصغر کی تعیناتی کو کورٹ میں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے اور سٹے آرڈر بھی لیا جاسکتا ہے۔ حسین اصغر ان کے لیے کوئی زیادہ بڑا خطرہ نہیں ہوں گے، اس لیے مسلم لیگ ن کے اراکین چیئرمین نیب کے استعفے کا مطالبہ اور ان کے خلاف اسمبلیوں میں تحریک لا رہے ہیں۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست