پاکستانی عیشہ شیخ فوربز کی نیکسٹ 1000 فہرست میں شامل

عیشہ شیخ نے صحت سے متعلق ایک ایپ تیار کی ہے جو ہر فرد کو اس کی صحت کے بارے میں مسلسل معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

(انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستانی نوجوان خاتون عیشہ شیخ کو بین الاقوامی شہرت یافتہ میگزین فوربز نے اپنی 2021 کی نیکسٹ 1000 فہرست میں شامل کرلیا ہے۔

عیشہ شیخ نے صحت سے متعلق ایک ایپ تیار کی ہے جو ہر فرد کو اس کی صحت کے بارے میں مسلسل معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

فوربز میں اگلے 1000 کاروباری افراد کی فہرست میں شامل ہونے والی عیشہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ میگزین میں نام شامل ہونا ہر انسان کا خواب ہوتا ہے اور وہ اس بات پر بہت شکر گزار ہیں کہ وہ دو مرتبہ فوربز فہرست کا حصہ بنی ہیں۔

 

اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں فوربز کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں ان کے اور ان کی کمپنی کے بارے میں کچھ سوالات تھے اور کچھ دیگر معلومات درکار تھیں جنہیں فراہم کرنے کے بعد ایک دن انہیں تہنیتی ای میل موصول ہوئی کہ ان کا نام اس فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

اپنی ایپ ’پلے پال‘ کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو صحت سے متعلق مختلف اسمارٹ اشیا جیسے سمارٹ واچ، سمارٹ شوز، سمارٹ ٹی شرٹ کی معلومات کو ایک جگہ جمع کرلیتا ہے اور ان معلومات کو مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جامع معلومات میں تبدیل کرتا ہے۔‘

بقول عیشہ: ’یہ ایپ ہر شخص کی صحت کو انفرادی طور پر دیکھے گی اور اسے جسمانی اور جینیاتی طور پر خاندان میں موجود بیماریوں کے تناظر پرکھا جائے گا۔‘

عیشہ نے بتایا کہ عام آدمی کو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اسے مسلسل معلوم ہوتا رہے گا کہ اسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں یہاں تک کہ کون سی اشیا ایک ساتھ نہیں کھانی چاہییں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کہ لوگ بیمار ہوکر علاج نہ کروائیں بلکہ بیماری کو ہونے سے پہلے ہی روک لیا کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عیشہ نے مزید بتایا کہ تمام افراد کی صحت کے بارے میں نجی معلومات مکمل طور پر محفوظ ہوں گی اور اس ضمن میں امریکی اور یورپی معیار کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایپ کا ایک حصہ (اس کی ڈیویلپمنٹ) پاکستان میں تیار کیا گیا ہے جبکہ اس کا ڈھانچہ امریکہ میں تیار کیا گیا ہے۔

عیشہ نے مزید بتایا کہ لوگوں کو اس سے مالی فائدہ بھی ہوگا، جیسے کسی نے یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کی تو پوائنٹس ملیں گے، اپنی معلومات اس میں درج کرنے کے پوائنٹس، ایپ کی ہدایات پر عمل کرنے سے پوائنٹس ملیں گے، چلنے پھرنے کی جو ہدایات ملیں گی اس پر بھی پوائنٹس ملیں گے اور پھر ان سب کو جمع کر کے ای سٹور پر جاکر چیزیں خریدی جاسکتی ہیں۔

عیشہ کے مطابق فوربز میں آنے سے کسی حد تک تو فائدہ ہوتا ہے مگر جیسے کوئی ایوارڈ جیتنے سے امتحان میں نمبر بڑھ جاتے ہیں، ویسے ہی اس کا بھی معاملہ ہے۔ ’فوربز میں نام آنا بحیثیتِ پاکستانی اور ایک خاتون بڑی بات ہے مگر اس سے سرمایہ نہیں ملتا کیونکہ وہ صرف میرٹ پر ملتا ہے۔‘

عیشہ شیخ نے اس ضمن میں 20 لاکھ ڈالر جمع کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 2017 سے کام کر رہی ہیں اور انہیں امید ہے کہ اب دوسرے مرحلے میں وہ مزید سرمایہ کاری حاصل کرسکیں گی۔

عیشہ نے بتایا کہ چونکہ امریکہ میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ مربوط ہے اس لیے سب سے پہلے ’پلے پال‘ کو وہاں جاری کیا جائے گا، جس کے بعد اگلے دو سے تین  سالوں میں پاکستان میں بھی اس کا پاکستانیوں کے حساب سے ایک ورژن متعارف کروادیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل