سی ٹی سکین کے 50 سال : طب میں انقلاب لانے والی مشین کیسے بنی؟

50 سال قبل بیٹلز میوزک گروپ کے ریکارڈ بیچنے والی کمپنی کے ایک غیرمعمولی انجینیئر نے ایک ایسی مشین ایجاد کی جس کی مدد سے ڈاکٹر انسانی کھوپڑی کے اندر دیکھنے کے قابل ہو سکے۔

امریکہ میں  ہر سال آٹھ کروڑ سے زائد سی ٹی سکین ہوتے ہیں (پکسابے)

خفیہ تہہ خانوں میں خزانہ چھپا ہونے کا امکان انسانی تخیل کے لیے مہمیز کا کام کر سکتا ہے۔ 1960 کی دہائی کے وسط میں برطانوی انجینیئر گاڈفری ہاؤنزفیلڈ نے ان خطوط پر سوچنا شروع کیا کہ کیا اہرام مصر کے اندر چھپے ان دیکھے تہہ خانوں کا سراغ کائناتی شعاعوں (cosmic rays) کی مدد سے لگا سکتا ہیں یا نہیں۔

(یاد رہے کہ کائناتی شعاعیں وہ ایٹمی ذرات ہیں جو نظام شمسی کے باہر سے روشنی کی رفتار سے زمین کے ہر حصے سے ہر وقت ٹکراتے رہتے ہیں۔)

وہ کئی برسوں تک خاموشی سے اس خیال کے خد و خال واضح کرنے میں لگے رہے جسے ہم دوسروں الفاظ میں یوں بیان کر سکتے ہیں ’کھولے بغیر کسی ڈبے کو اندر سے دیکھنا۔‘ بالآخر وہ یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے کہ انتہائی طاقتور شعاعوں کو کس طرح استعمال کر کے ایسے گوشوں کو دیکھا جا سکتا ہے جو ویسے عام مشاہدے میں مخفی رہتے ہیں۔ اسی اصول کو آگے بڑھا کر انہوں نے انسان کی کھوپڑی کے اندر جھانکنے اور ملائم دماغ کی تصویر لینے کا طریقہ ایجاد کیا۔

انسانی دماغ کا پہلا سی ٹی سکین یا computed tomography image آج سے 50 سال قبل یکم اکتوبر 1971 کو کیا گیا تھا۔ ہاؤنزفیلڈ مصر تو کبھی نہیں جا سکے لیکن ان کی ایجاد انہیں سویڈن کے شہر سٹاک ہوم اور لندن کے بکنگم پیلس تک ضرور لے گئی۔

ایک انجینئیر کی ایجاد

گاڈفری ہاؤنزفیلڈ کے بچپن سے نہیں لگتا تھا کہ وہ اس قدر بڑا کارنامہ سر انجام دیں گے۔ وہ کوئی بہت لائق فائق طالب علم نہیں تھے۔ دور طالب علمی میں اساتذہ انہیں ’موٹے دماغ والا‘ کہتے تھے۔

 دوسری عالمی جنگ کے ابتدائی عرصے میں وہ برطانوی شاہی فضائیہ میں بھرتی تو ہو گئے لیکن کہیں سے بھی سپاہی نہیں لگتے تھے۔ البتہ برقی مشینری بالخصوص اس دور میں نئے نئے ایجاد ہونے والے ریڈار کے وہ ماہر تھے جو اگر خراب ہو جاتا تو وہ اسے جلدی سے ٹھیک کر کے جہازوں میں فٹ کر دیتے تاکہ ہوا باز بادلوں بھری اندھیری راتوں میں آسانی سے اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں۔

جنگ ختم ہونے کے بعد ہاؤنزفیلڈ نے اپنے کمانڈر کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے انجنیئیرنگ کی ڈگری حاصل کر لی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی ہنرمندی ای ایم آئی (EMI) نامی مشہور کمپنی میں آزمائی۔ ویسے تو یہ کمپنی بعد میں شہرۂ آفاق میوزک بینڈ ’بیٹلز‘ کے البم بیچنے کی وجہ سے مشہور ہوئی لیکن اس نے اپنا آغاز الیکڑک اینڈ میوزک انڈسٹریز کے نام سے کیا تھا جس کی زیادہ توجہ الیکٹرانکس اور الیکٹریکل انجینیئرنگ کی طرف تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہاؤنزفیلڈ کی قدرتی صلاحیتوں نے انہیں برطانیہ میں اس وقت کا جدید ترین مین فریم کمپیوٹر تیار کرنے والی ٹیم کی قیادت کا موقع فراہم کیا۔ لیکن 60 کی دہائی میں ای ایم آئی کمپیوٹر کی مسابقتی منڈی سے دامن چھڑانا چاہتی تھی اور اب اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اپنے غیر معمولی ذہین انجینیئر سے کیا کام لے۔

ہاؤنزفیلڈ کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا تاکہ وہ اپنے مستقبل اور کمپنی کے لیے جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس پر خوب غور و فکر کر لیں۔ انہی دنوں ہاؤنزفیلڈ کی ملاقات ایک ڈاکٹر سے ہوئی جو دماغ کے ایکسرے کے برے معیار کی شکایت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سادہ ایکسرے ہڈیوں کی تفصیل کو تو خوب واضح کرتا ہے جب دماغ کا ایکسرے لیا جاتا ہے تو چونکہ دماغ ٹھوس ہڈیوں کی بجائے نرم بافتوں پر مشتمل ایک لجلجا سا عضو ہے، اس لیے جب اس کا ایکسرے لیا جاتا تو ایک دھند سی نظر آتی ہے۔ اس سے ایک بار پھر ہاؤنزفیلڈ کی توجہ اپنے پرانے خیال کی طرف لوٹ گئی کہ ڈبہ کھولے بغیر خفیہ گوشوں کو دیکھا جا سکے۔

خفیہ گوشے واضح کرنے والی نئی تکنیک

کھوپڑی کے اندر جو کچھ ہے اس کی عکاسی کے لیے ہاؤنزفیلڈ نے ایک نیا طریقہ کار اختیار کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے پہلے خیالی طور پر دماغ کو ٹکڑوں میں کاٹا جیسے ڈبل روٹی کے ایک ٹکڑے سے سلائس بنائے جاتے ہیں۔ پھر انہوں نے ہر تہہ میں سے ایکس رے شعاعیں گزارنے کی منصوبہ بندی کی اس کے بعد انہوں نے ہر تہہ میں سے الگ الگ ایکس رے شعاعیں گزاریں، اور یہی عمل نصف دائرے کی ہر ڈگری کے لیے دہرایا (دائرے میں کل 360 ڈگریز ہوتی ہیں، اس لیے نصف دائرے میں 180 ڈگریز بنتی ہیں)۔

ہر شعاع جب دماغ کے مخالف سمت سے نکلتی تو اس کی طاقت کو ناپا جاتا۔ جو شعاع زیادہ طاقتور ہوتی، اس کا مطلب لیا جاتا کہ وہ کم ٹھوس مواد سے گزری ہے۔

لیکن سب سے زیادہ ذہانت ہاؤزفیلڈ نے وہ الگوردھم تیار کرنے میں دکھائی جس سے تمام دماغ کی تصویر ان چھوٹی چھوٹی تہوں کی مدد سے تیار کی جا سکتی تھی۔ اپنے دور کے طاقتور ترین کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہوئے اور آگے سے پیچھے کی طرف کام کرتے ہوئے انہوں نے دماغ کی ہر تہہ کے ہر خانے کی قدر معلوم کر لی۔ یہ ارشمیدس کی طرح ان کے لیے کامیابی کا یوریکا لمحہ تھا!

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کی ای ایم آئی میڈیکل مارکیٹ کا حصہ نہ تھی اور نہ ہی وہ میڈیکل مارکیٹ میں شامل ہونے کی کوئی خواہش رکھتی تھی۔

بہرحال کمپنی نے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہاؤنزفیلڈ کو اپنی دریافت پر کام کرنے کی اجازت دے دی۔ تحقیق اور ایجاد کے لیے درکار وسائل کی قلت تھی، اس لیے ہاؤزفیلڈ کمپنی کے کباڑ خانوں میں موجود بچے کھچے اوزار استعمال کرنے پر مجبور تھے۔ لیکن انہوں نے کسی نہ کسی طرح مختلف پرزے جوڑ جاڑ کر ایک سکینگ مشین تیار کر لی جو اتنی چھوٹی تھی کہ کھانے کی میز پر سما سکتی تھی۔

مشین تیار ہونے کے بعد اس کے تجربات شروع ہو گئے۔ ہاؤزفیلڈ نے گائے کے دماغ کا سکین کیا، حتیٰ کہ بےجان چیزوں کے بھی سکین تیار کیے، مگر ان کے افسران ٹس سے مس نہ ہوئے۔

انسانی دماغ کا کامیاب سکین کرنے کے لیے ہاؤزفیلڈ کو کمپنی کی حدوں سے باہر نکل کر مالی تعاون تلاش کرنے کی ضرورت تھی۔

ہاؤنزفیلڈ ایک انتہائی ذہین اور فطری موجد تھے لیکن مؤثر انداز میں بات چیت کرنے کے ہنر سے ناآشنا۔ خوش قسمتی سے انہیں ایک ہمدرد باس بل انگم مل گئے جنہوں نے ہاؤنزفیلڈ کے مجوزہ منصوبے کی قدر پہچانی اور ای ایم آئی کو مطلوبہ مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے قائل کرنے کی ذمہ داری اٹھا لی۔

ہاؤزفیلڈ کو پتہ تھا کہ فوری طور پر کسی بڑی مالی پیشکش کا حصول تو ممکن نہیں لیکن پھر بھی انہیں امید تھی کہ برطانیہ کا شعبہ صحت و سماجی تحفظ ہسپتالوں کے لیے یہ مشینیں خرید لے گا۔ معجزانہ طور پر انگم نے چار سکینر تیار ہونے سے پہلے ہی بیچ لیے۔ اس طرح ہاؤنزفیلڈ نے اپنی ٹیم تشکیل دی اور وہ ایک قابل اعتماد اور موثر انسانی سکینر تیار کرنے میں جت گئے۔

اس دوران ہاؤنزفیلڈ کو ایسے مریضوں کی ضرورت پڑی جن پر وہ اپنی مشین آزما سکیں۔ انہی دنوں ان کی ملاقات ایک نیورولوجسٹ سے ہوئی جس نے ابتدا میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا لیکن پھر تعاون کے لیے تیار ہو گیا۔ ٹیم نے لندن کے ایٹکنز مورلے ہسپتال میں ایک بڑا سا سکینر نصب کر دیا اور یکم اکتوبر 1971 کو اپنے پہلے مریض کی سکینگ کر ڈالی۔ یہ درمیانی عمر کی ایک خاتون تھیں جنہیں برین ٹیومر کی علامات تھیں۔

پہلا انسانی سی ٹی سکین آسان نہیں تھا۔

یہ سب کچھ بہت تیزی سے مکمل نہیں ہوا بلکہ 30 منٹ سکیننگ یعنی مقناطیسی فیتوں کا لمبا چکر، اڑھائی گھنٹے تک ای ایم آئی کے مرکزی کمپیوٹر پر مواد کی ترتیب سازی اور پولرایئڈ کیمرے پر اس کی تصویر بننے کے بعد واپس ہسپتال پہنچانا۔

اب سب کچھ واضح تھا، اس عورت کے دماغ کے بائیں جانب والے بالائی حصے میں تقریباً آلوبخارے کے سائز کا لوتھڑا بڑھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دماغ کی تصویر لینے کا ہر دوسرا طریقہ منسوخ ہو گیا۔

ہر سال کروڑوں سی ٹی سکین

دیکھتے ہی دیکھتے طبی شعبے سے بالکل نابلد میوزک کمپنی ای ایم آئی کی ایسی مشین پر اجارہ داری قائم ہو گئی جس کی مانگ بہت زیادہ تھی۔ وہ یہ مشینیں تیار کرنے کے میدان میں کود پڑی اور ابتدا میں نہایت کامیابی سے سکینرز بیچے۔ لیکن پانچ سالوں میں ہی جنرل الیکٹرک اور سیمنز جیسی بڑی اور زیادہ تجربہ کار کمپنیاں بہتر تحقیقاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بہتر سکینرز تیار کر کے بیچنے لگیں۔ بالآخر ای ایم آئی میڈیکل مارکیٹ سے کنارہ کش ہو گئی اور ایک کیس سٹڈی بن گئی کہ کسی نئے شعبے میں تنہا قدم رکھنے کے بجائے کسی بڑی کمپنی کے ساتھ ساجھے داری کرنا کیوں زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

ہاؤنزفیلڈ کی ایجاد نے شعبہ طب کی دنیا بدل کر رکھ دی۔ یہی وجہ ہے کہ 1979 میں شعبہ طب میں انہیں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ 1981 میں ملکہ برطانیہ نے انہیں سر کا خطاب عطا کیا۔

2004 میں 84 سال کی عمر میں موت کو گلے لگانے تک وہ مختلف ایجادات میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔

1973 میں امریکی شہری رابرٹ لیڈلی نے پورے جسم کی سکیننگ کرنے والا سکینر تیار کیا جو دماغ کے علاوہ جسم کے دیگر اعضا، خون کی نالیوں اور ہڈیوں کی تصاویر لے سکتا تھا۔ جدید سی ٹی سکینرز تیز رفتار، صاف نتائج کے حامل اور سب سے اہم چیز یہ کہ تصویر سازی کے لیے تابکاری کم مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اب تو موبائل سکینرز بھی مارکیٹ میں آ چکے ہیں۔

2020 تک امریکہ میں تکنیکی ماہرین ہر سال آٹھ کروڑ سے زائد سی ٹی سکین کر رہے تھے اگرچہ کچھ ماہرین کے مطابق ان میں سے ایک تہائی سی ٹی سکین کی ضرورت نہیں ہوتی اور ڈاکٹر بلاوجہ ہی مریض کا سکین کروا دیتے ہیں۔

ممکن ہے ان کی بات درست ہو بہرحال سی ٹی سکین نے مریضوں میں رسولیوں کی شناخت اور سرجری کے ضروری ہونے یا نہ ہونے کے تعین سے دنیا بھر کے بے شمار مریضوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ سی ٹی سکین ایمرجنسی روم میں حادثات کے بعد اندرونی چوٹوں کی فوری تلاش کے لیے خاص طور پر بےحد مفید ہے۔

اوپر ہم نے ذکر کیا تھا کہ ہاؤنزفیلڈ نے اہرامِ مصر سے سکینر کا خیال سوجھا تھا۔ 1970 میں سائنس دانوں نے خفرع نامی ایک ہرم کے سب سے نچلے ایوانوں میں کائناتی شعاعوں کا سراغ لگانے والا آلہ نصب کر کے اس کا سکین کیا۔ اس سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اہرام میں کوئی خفیہ ایوان نہیں ہے۔

 2017 میں ایک اور ٹیم نے جیزہ کے عظیم الشان ہرم میں کائناتی شعاعوں کا سراغ لگانے والے آلات نصب کیے۔ اس سے انہیں ایسے خفیہ کمروں کی نشان دہی ہوئی جو موجود تو ہیں لیکن ان تک رسائی ممکن نہیں۔ اس تک بہت جلد رسائی کا امکان نظر بھی نہیں آتا۔

 

یہ مضمون پہلے دا کنورسیشن پر چھپا تھا

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی