فائزر کا اینٹی وائرل گولی کے کرونا کے خلاف 89 فیصد موثر ہونے کا دعویٰ

امریکی دوا ساز کمپنی فائزر نے کرونا (کورونا) کے لیے بنائی گئی اینٹی وائرل گولی کے ٹرائل کو قبل از وقت روک دیا گیا ہے جس کے بارے میں کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے استعمال سے ہسپتال میں داخل ہونے یا موت کے امکانات میں 89 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔

فائزر کے ٹرائل میں ایک ہزار 219 مریضوں پر اس نئی گولی کا تجربہ کیا گیا (روئٹرز)

امریکی دوا ساز کمپنی فائزر نے کرونا (کورونا) کے لیے بنائی گئی اینٹی وائرل گولی کے ٹرائل کو قبل از وقت روک دیا گیا ہے جس کے بارے میں کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے استعمال سے ہسپتال میں داخل ہونے یا موت کے امکانات میں 89 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔

فائزر پِلز کے یہ نتائج مرک اینڈ کو کی اسی طرح کی گولی ’مولنوپیراویر‘ کو بھی پیچھے چھوڑتے دکھائی دیتے ہیں جس کے بارے میں گذشتہ روز دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ گولی سنگین بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار بالغ افراد کے مرنے یا ہسپتال میں داخل ہونے کے امکانات کو 50 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔

تاہم ان دونوں ہی کمپنیوں کے ٹرائلز کا مکمل ڈیٹا ابھی تک دستیاب نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فائزر کی جانب سے کیے گئے اس اعلان کے بعد کمپنی کے حصص 13 فیصد بڑھ کر 49.47 ڈالر جبکہ مرک اینڈ کو کے حصص چھ فیصد گر کر 84.69 ڈالر ہو گئے۔

فائزر نے جمعے جاری ایک بیان کہا کہ کمپنی اپنی نئی گولی کے لیے کیے گئے ٹرائل کے عبوری نتائج امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے ہنگامی استعمال کی درخواست اکتوبر میں دی گئی تھی۔

اس نئی گولی کو ریٹوناویر نامی پرانے اینٹی وائرل کے ساتھ دیا جاتا ہے۔

اس کمبینیشن ٹریٹمنٹ کے برانڈ کو  ’پیکسلووڈ‘ (Paxlovid) کا نام دیا گیا ہے جس میں تین گولیوں پر مشتمل خوراک کو دن میں دو بار دیا جائے گا۔

فائزر کے ٹرائل میں ایک ہزار 219 مریضوں پر اس نئی گولی کا تجربہ کیا گیا جن میں موٹاپا یا بڑی عمر جیسی سنگین بیماری کے خطرے کا کم از کم ایک عنصر موجود تھا۔

مطالعے میں پتہ چلا کہ علامات ظاہر ہونے کے تین دن کے اندر فائزر کی دوائی دی جانے والے صرف 0.8 فیصد افراد کو ہی ہسپتال میں داخل کرانا پڑا اور علاج کے بعد 28 دنوں تک کسی بھی مریض کی موت واقع نہیں ہوئی۔ اس کے مقابلے میں پلیسبو گروپ کے مریضوں کی ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح سات فیصد رہی۔ پلیسبو گروپ میں سات اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔

علامات کے پانچ دنوں کے اندر علاج کیے جانے والے مریضوں کے لیے یہ شرح یکساں تھیں۔

اس دوا کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے لیے اسے انفیکشن کے زور پکڑنے سے پہلے جتنا جلدی ممکن ہو سکے، دینے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فائزر پروگرام کی سربراہ اینالیزا اینڈرسن نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اب ہمارے پاس لوگوں کے علاج کے لیے وقت ہے اور یہ صحت عامہ کے نقطہ نظر سے واقعتاً فائدہ مند ہے۔‘

تاہم کمپنی نے اس علاج کے سائیڈ ایفیکٹس کی تفصیل نہیں بتائی لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس دوا سے علاج کرانے والے اور پلیسیبو دونوں ہی گروپس کے مریضوں میں سے تقریباً 20 فیصد میں منفی اثرات رونما ہوئے۔

فائزر کے چیف ایگزیکٹیو البرٹ بورلا نے ایک بیان میں کہا: ’یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہماری اورل اینٹی وائرل پِلز میں، اگر ریگولیٹری اتھارٹیز کی طرف سے منظوری دی جاتی ہے، تو مریضوں کی زندگیاں بچانے، کرونا انفیکشن کی شدت کو کم کرنے اور دس میں سے نو مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے کے امکان کو ختم کرنے کی صلاحیت ہے۔‘

فائزر نے کہا کہ کمپنی ان پلز کے 2021 کے آخر تک 180,000 سے زیادہ ڈبے اور 2022 کے آخر تک کم از کم پانچ کروڑ ڈبے تیار کرنے کی توقع کرتی ہے جن میں سے دو کروڑ سے زیادہ ڈبے آئندہ سال کی پہلی ششماہی میں تیار کیے جائیں گے۔

کمپنی نے کہا: ’ہم اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں اور ہم آنے والے ہفتوں میں ان نمبروں کو اپ ڈیٹ کرنے کے منتظر ہیں۔‘

متعدی امراض کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ویکسین کا وسیع استعمال ہی کرونا وبا پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے لیکن صرف 58 فیصد امریکیوں کو مکمل طور پر ویکسین لگائی گئی ہے اور دنیا کے کئی حصوں میں اس کی رسائی انتہائی محدود ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو برطانیہ اینٹی کووڈ کے خلاف منھ سے کھائے جانے والی ادویات کی منظوری دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔

برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا کہ آج ہمارے ملک کے لیے ایک تاریخی دن ہے کیونکہ برطانیہ اب دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے ایک اینٹی وائرل گولی کی منظوری دی ہے جو کووڈ 19 کے لیے گھر پر ہی لی جا سکتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ کمزور اور کم قوت مدافعت کے حامل افراد کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گی جو جلد ہی یہ طریقہ علاج حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ نے مولنوپیراویر اینٹی وائرل گولی کی منظوری دی ہے جو وائرس کی افزائش کی صلاحیت کو کم کرتی ہے اس طرح یہ بیماری کی شدت کو کم کر دیتی ہے۔

برطانوی ادارے ’میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی‘ (ایم ایچ آر اے) نے کہا کہ اس دوا کے ٹرائلز سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ کرونا کے مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے اور موت کے خطرے کے امکان کو کم کرنے کے لیے محفوظ اور موثر ہے۔

کلینیکل ٹرائل کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ دوا سب سے زیادہ اس وقت موثر ہوتی ہے جب اسے انفیکشن کے ابتدائی مراحل کے دوران لیا جائے۔ ایم ایچ آر اے تجویز کرتا ہے کہ علامات ظاہر ہونے کے پانچ دنوں کے اندر اسے استعمال کیا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت