چین کا کرونا کے خلاف جارحانہ رویہ

یہ کسی فلم کا پلاٹ یا ہمارے ذہن میں آنے والا کوئی اوٹ پٹانگ خیال نہیں بلکہ ایک حقیقی واقعہ ہے جو اتوار کے روز چین کے شہر شنگھائی میں ڈزنی لینڈ اور ڈزنی ٹاؤن میں پیش آیا۔

یکم نومبر 2021 کو بیجنگ میں کرونا کی بوسٹر شاٹ لگانے کے لیے لوگ باری کا انتظار کر رہے ہیں (فوٹو:اے ایف پی) 

فرض کریں آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ شہر کے سب سے بڑے پارک کی سیر کرنے آئے ہیں اور آپ کے علاوہ وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔

سب کی تفریح کے لیے طرح طرح کی سرگرمیاں ہیں۔ جھولے، سینیما، تھیئٹر، لائیو شو، عجائب گھر، جادوئی جنگل اور بھی جانے کیا کیا۔

ہر جگہ لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ لوگ صبر کے ساتھ اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

آپ بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک بڑے سے جھولے کی قطار میں لگے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

اچانک لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہوتا ہے کہ پارک کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں، کوئی پارک سے باہر نہیں جا سکتا۔

گذشتہ روز کوئی پارک میں آیا تھا، جس کا آج کرونا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

حکومت آج، ابھی اور اسی وقت ایکشن لیتے ہوئے پارک کے اندر موجود لوگوں کا کرونا کا ٹیسٹ کرنے کا انتظام کر رہی ہے تاکہ اگر پارک میں کہیں وائرس موجود ہے اور لوگوں کو متاثر کر رہا ہے تو اس پر قابو پایا جا سکے۔

آپ کی اس وقت ذہنی حالت کیا ہو گی؟

آپ اسے کسی فلم کا پلاٹ یا ہمارے ذہن میں آنے والا کوئی اوٹ پٹانگ خیال تو نہیں سمجھ رہے؟

یہ ایک حقیقی واقعہ ہے جو اتوار کے روز چین کے شہر شنگھائی میں ڈزنی لینڈ اور ڈزنی ٹاؤن کی سیر کے لیے آئے ہوئے 34 ہزار افراد کے ساتھ پیش آیا۔

چینی میڈیا کے مطابق ہفتے کو ڈزنی لینڈ کی سیر کو آنے والی ایک خاتون کا اتوار کو شنگھائی کے قریب ایک شہر ہانگچو میں کرونا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

چینی حکومت نے فوراً ڈزنی لینڈ اور ڈزنی ٹاؤن کے دروازے بند کروا دیے تاکہ اگر انہیں وائرس وہاں سے لگا ہے یا وہ وہاں وائرس پھیلا آئی ہیں تو اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

کچھ ہی دیر میں سیاحوں کی ٹیسٹنگ شروع ہوگئی جو رات 12 بجے تک جاری رہی۔

کل ساڑھے 33 ہزار کے لگ بھگ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔ علاوہ ازیں، ڈزنی لینڈ اور ڈزنی ٹاؤن سے ساڑھے نو سو اشیا سے نمونے بھی اکٹھے کیے گئے۔ انہیں بھی جانچا گیا۔

اگلے روز صبح آٹھ بجے نتائج آئے۔ سب نیگیٹو۔

سیاحوں کو پھر بھی کہا گیا کہ وہ گھر جا کر قرنطینہ کریں اور 24 گھنٹوں کے بعد دوبارہ اپنا ٹیسٹ کروائیں۔

ساتھ ہی ساتھ ڈزنی لینڈ اور ڈزنی ٹاؤن کو بھی دو روز کے لیے بند کر دیا گیا۔

چین میں وسط اکتوبر سے کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی حکومت جلد از جلد ان کیسز پر قابو پانا چاہتی ہے۔ چین میں ویکسینیشن کا عمل بھی زور و شور سے جاری ہے۔ پچھلے ہفتے تک چین کی 80 فیصد آبادی کو ویکسین لگ چکی ہے۔

جنہیں ویکسین لگے چھ ماہ ہو چکے ہیں انہیں بوسٹر شاٹ لگائے جا رہے ہیں۔ 

چین اب تک کرونا کے معاملے میں سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ اگلے سال فروری میں ہونے والے بیجنگ سرمائی اولمپکس ہیں جو چین ہر حال میں کامیابی کے ساتھ منعقد کرنا چاہتا ہے۔

 

ان اولمپکس کے بعد بیجنگ گرمائی اولمپکس اور سرمائی اولمپکس کی میزبانی کرنے والا دنیا کا پہلا شہر بن جائے گا۔ چین نے 2008 میں اپنے دارالحکومت بیجنگ میں گرمائی اولمپکس کی میزبانی کی تھی۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چین کو کوئی ریکارڈ بنانے کا موقع ملے اور وہ اس موقعے کو اپنے ہاتھ سے جانے دے۔

شنگھائی کے ڈزنی لینڈ والے واقعے کے بعد بیجنگ میں مزید سختی کر دی گئی ہے۔ کرونا کے کیسز ملک کے کسی بھی حصے میں ظاہر ہوں، شامت بیجنگ اور اس میں مقیم افراد کی آتی ہے۔

یونیورسٹیوں نے طالب علموں کو بلا ضرورت کیمپس سے باہر جانا بھی منع کر دیا ہے۔

انہیں باہر جانے سے پہلے ایک درخواست جمع کروانی پڑتی ہے۔ اس کے بعد انہیں اپنی ضرورت کے حساب سے ایک مخصوص دورانیے کے لیے باہر جانے کی اجازت ملتی ہے۔

جو لوگ رہائشی علاقوں میں رہ رہے ہیں، انہیں بھی اپنی نقل و حرکت محدود رکھنے کا کہا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چینی حکومت نے سرمائی اولمپکس میں آنے والے کھلاڑیوں کے لیے بھی سخت اصولوں کا اعلان کیا ہے۔

ان اصولوں کے مطابق چین میں اولمپکس کے لیے آنے والے کھلاڑیوں کو کم از کم 14 دن پہلے عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ ویکسین لگوانی ہو گی۔

چین آنے کے بعد ہر کھلاڑی اور فرد کو کلوزڈ لوپ مینیجمنٹ کے تحت مخصوص علاقوں تک محدود رہنا ہوگا۔ وہ ان علاقوں سے باہر صرف اپنے کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے جا سکیں گے۔

اسی طرح میڈیا کو بھی ایک مخصوص جگہ رکھا جائے گا۔

ویکسین نہ لگوانے والے کھلاڑیوں کو چین آنے کے بعد 21 دن کا قرنطینہ کرنا ہوگا۔ اولمپکس کے بعد بیرونِ ملک سے آئے ہوئے کھلاڑیوں، میڈیا اور لوگوں کو 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر چین چھوڑنا ہوگا۔

جبکہ چینی کھلاڑی اولمپکس کے بعد تین ہفتوں کے قرنطینہ کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔

تو دوستو، چین کرونا سے کچھ ایسے نمٹ رہا ہے۔ ایک کیس آنے پر ہزاروں افراد کی ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے۔ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے تاکہ وہ بیمار نہ ہوں اور دوسروں کو بیمار نہ کریں۔

ہم سب ایک وبا کے ساتھ جی رہے ہیں۔ اسے سنجیدگی سے لیں۔ ماسک پہنیں۔ سوشل ڈسٹنسنگ قائم رکھیں اور ویکسین لگوائیں۔

اب یہی نیو نارمل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ