ہٹلر سے موازنے، سنائپر کے وار، کرونا پر سرگرم سائنس دانوں پر کیا گزری؟

سائنس دانوں کے ایک سروے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کرونا ویکسین اور دواؤں پر کام کرنے والے محققین کو قتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔

متعدی امراض سے متعلق امریکی حکومت کے معروف ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی جون میں امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے صحت میں گواہی دیتے ہوئے (اے ایف پی)

ایک سائنسی جریدے کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ کووڈ 19 اور کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی وبا کے بارے میں کھل کر بات کرنے والے سائنس دان موت کی دھمکیوں اور بعض اوقات جسمانی تشدد کا شکار بنے ہیں۔

’نیچر‘ جریدے نے 321 سائنس دانوں سے بات کی اور دریافت کیا کہ عوامی طور پر اس وبا کے بارے میں اظہار خیال کرنے والے درجنوں سائنس دان بدسلوکی کا نشانہ بنے۔ یہ سروے بدھ کو شائع ہوا تھا۔

جائزے سے پتہ چلا کہ سروے میں شامل بیشتر سائنس دانوں نے میڈیا پر آنے کے بعد کسی نہ کسی طرح برے سلوک کا سامنا کیا۔

مجموعی طور پر 189 (59 فیصد) سائنس دانوں نے کہا کہ ان کی ساکھ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے کچھ کم یعنی 134 (42 فیصد) سائنس دانوں نے انکشاف کیا کہ وہ جذباتی یا نفسیاتی تکلیف سے گزرے ہیں۔ 72 (22 فیصد) سائنس دانوں کو جنسی یا جسمانی تشدد کی دھمکیاں ملیں جب کہ 47 (15 فیصد) کو موت کی دھمکیاں ملی ہیں۔ 321 سائنس دانوں میں سے چھ (دو فیصد) نے باقاعدہ جسمانی حملوں کی رپورٹ کی۔

چند سائنس دانوں نے جریدے کو بتایا کہ کووڈ 19 کی کچھ ادویات، خاص طور پر سیاست کی نظر ہوگئی ہیں، جیسے ویکسین یا آئیورمیکٹن (اینٹی پاراسائٹک) دوا جو کرونا کے خلاف موثر ثابت نہیں ہوئی۔

آسٹریلیا کی وولونگونگ یونیورسٹی میں وبائی امراض کے ماہر گیڈین میرووٹز کاٹز نے ’نیچر‘ کو بتایا: ’جب بھی آپ ویکسین کے بارے میں لکھیں گے تو آپ کو موت کی مبہم دھمکیوں اور نہ ختم ہونے والی نفرت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ویکسین کے بارے میں بات کرنے والا ہر کوئی آپ کو یہی کہانی سنائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میرے خیال میں ماضی میں کیے گئے کسی بھی کام کے برعکس آئیورمیکٹن دوا کی وجہ سے مجھے موت کی زیادہ دھمکیاں ملی ہیں۔ گمنام لوگ مجھے عجیب اکاؤنٹس سے ای میل کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ مجھے مر جانا چاہیے یا اگر میں ان کی پہنچ میں ہوتا تو وہ مجھے گولی مار دیتے۔‘

متعدی امراض سے متعلق امریکی حکومت کے معروف ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ لوگوں نے ان کا موازنہ ایڈولف ہٹلر سے کیا ہے اور ان کے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھیجی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر فاؤچی نے پوڈ کاسٹ سوے پر کہا: ’جو چیز آپ کو سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے وہ آپ کے خاندان پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ میرا مطلب ہے جان سے مارنے کی دھمکیاں اور اپنی بیٹیوں اور بیوی کو فحش نوٹس ملنا۔ نوٹس کے ذریعے دھمکیاں ملنا مذاق نہیں ہے۔ لہذا میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ صورت حال مجھے پریشان نہیں کرتی۔ میرا مطلب ہے اس میں وہ جتنی زیادہ شدت لائیں گے اس سے اتنا ہی زیادہ یقین پختہ ہو گا کہ یہ سب سیاست ہے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا: ’فاؤچی ہٹلر کی طرح ہے۔ فاؤچی کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں۔ کیا یہ سب مذاق ہے؟ میرا مطلب ہے کوئی بھی غیر جانبدار اس بارے میں سوچے تو اسے کہنا پڑے گا وہ لوگ کیا بات کر رہے ہیں؟ وہ ایسا شخص ہے جس کی اپنی پوری زندگی لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے وقف کر دی اور اب آپ مجھے بتا رہے ہیں کہ وہ ہٹلر کی طرح ہے؟ چلو حقیقت پسند بن جاؤ۔‘

برازیل کے محقق مارکس لاسیرڈا نے رواں سال اپریل میں ’نیچر میڈیسن‘ کو بتایا کہ اپنی تحقیق شائع کرنے کے بعد انہیں بندوق بردار محافظوں کی ضرورت پڑ گئی تھی کیوں کہ انہوں نے اس نظریہ کو غلط قرار دیا کہ اینٹی ملیریا دوا کلوروکین کو کووڈ 19 کےعلاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ .

اسی طرح انتہائی دائیں بازو کے سنائپر کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد بیلجیئم کے وبائی امراض کے ماہر مارک وان رانسٹ کو بھی رواں سال کے اوائل میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ تین ہفتوں کے لیے ایجنٹس کی حفاظت میں ایک سیف ہاؤس میں پناہ لینا پڑی تھی۔

جون میں بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جورجن کوننگز نامی سنائپر جو سابق فوجی تھے، لاک ڈاؤن جیسی کووڈ پابندیوں کے باعث وائرالوجسٹ سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ 

18 مئی کو اپنے خاندان کے ساتھ سیف ہاؤس منتقل ہونے والے پروفیسر نے وہاں سے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’دھمکی بہت حقیقی تھی۔ بھاری ہتھیاروں سے لیس سابق فوجی میرے گھر کے سامنے تین گھنٹے تک میری گلی میں میرے دفتر سے گھر پہنچنے کا انتظار کر رہا تھا۔‘

اس دن پروفیسر وان رینسٹ جلد گھر پہنچ گئے تھے اور پہلے ہی گھر پر موجود تھے۔

ان کے بقول: ’بدقسمتی سے وہ ایک تربیت یافتہ سنائپر ہے جو بھاری فوجی ہتھیاروں سے لیس بھی ہے لہذا آپ ایسے لوگوں کے ہاتھوں شکار نہیں ہونا چاہیں گے۔‘

پروفیسر نے مزید کہا: ’ہم خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ ہم محتاط ہیں۔ اور میرے 12 سالہ بیٹے مائیلو نے اس حوالے سے کافی بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ کافی عجیب صورت حال ہے لیکن جاننا نہ جاننے سے بہتر ہے کیونکہ کم از کم میں یہ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتا ہوں۔ مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ میرا بیٹا تین ہفتوں سے ایک بند گھر میں محصور ہے۔ یہ میرے لیے قابل نفرت صورت حال ہے۔‘

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی مورخ ہائیڈی ٹووریک نے صحت کے معاملات پر بات کرنے والے ماہرین کو درپیش آن لائن بدسلوکی کا مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے ’نیچر‘ کو بتایا کہ خواتین اور پسماندہ گروہوں کے لوگوں کو ایسی صورت حال کا زیادہ سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا: ’اس بدسلوکی میں آپ کی ذاتی زندگی کو زیادہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس