امریکی خاتون جو کرونا ویکسین لگوا کر لکھ پتی بن گئی

امریکی ریاست مشی گن کے علاقے بلوم فیلڈ ٹاؤن شپ کی رہائشی کرسٹین ڈوول نے’شاٹ ٹو وِن سویپ سٹیکس‘کے نام سے متعارف کروائی گئی لاٹری میں 20 لاکھ ڈالر کی رقم جیتی۔

کرسٹین ڈوول  کو  اپریل میں ویکسین لگوائی گئی تھی (فوٹو: اے پی)

مشی گن کی رہائشی ایک خاتون ریاست کی طرف سے متعارف کروائی لاٹری میں حصہ لے کر لکھ پتی بن گئیں۔ یہ لاٹری ان لوگوں کے لیے تھی جو کرونا (کورونا) وائرس کی ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگوا چکے تھے۔

امریکی ریاست مشی گن کے علاقے بلوم فیلڈ ٹاؤن شپ کی رہائشی کرسٹین ڈوول نے’شاٹ ٹو وِن سویپ سٹیکس‘کے نام سے متعارف کروائی گئی لاٹری میں پپر کو 20 لاکھ ڈالر (15 لاکھ پاؤنڈ) کی رقم جیتی۔

ریاست کا پروٹیکٹ مشی گن کمیش جو لوگوں کو کووڈ ویکسینز کے بارے میں آگاہی دینے اور ویکسین لگوانے سے گریز سے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جنوری میں قائم کیا گیا تھا، نے اعلان کیا ہے کہ کرسٹین ڈوول نے بڑا انعام جیت لیا ہے اور بہت سے نوجوانوں کو کالج میں تعلیم کے لیے سکالر شپس دی گئی ہیں۔

ڈوول جو خاوند اور تین بچوں کے ساتھ 13 سال سے مشی گن میں رہائش پذیر ہیں، انہیں اپریل میں ویکسین لگوائی گئی تھی۔ لاٹری جیتے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انہیں جو رقم ملی ہے اس سے انہیں ’اپنے تمام خواب پورے کرنے میں مدد ملے گی۔‘وہ اس رقم کو کالج میں بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے اور گھر کی آرائش کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ جیتی گئی رقم کا کچھ حصہ دماغی امراض میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال کے لیے عطیہ کریں گی۔ ڈوول کے بقول: ’ہم واقعی خوش قسمت ہیں اور چاہتے کہ جواب میں انہیں کچھ دیں جو ضرورت مند ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’وبا ہر کسی کے لیے سخت تھی اور ہمارا ماننا ہے کہ دماغی صحت کی مثبت انداز میں دیکھ بھال کو فروغ دینے والی خدمات کی جتنی زیادہ ضرورت اس وقت ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی جیتی ہوئی رقم کا کچھ حصہ اپنے علاقے میں دماغی صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے عطیہ کریں گے۔ یہ وہ مقصد ہے جو میرے دل کے بہت قریب ہے۔‘

لاٹری کے انداز میں متعارف کروائی گئی انعامی سکیم کا مقصد مشی گن میں زیادہ لوگوں کو کووڈ 19 کی ویکسین لگوانے کی ترغیب دینا تھا۔ سکیم میں تقریباً 50 لاکھ ڈالر (36 لاکھ پاؤنڈ) کے نقد اور سکالر شپ کے انعامات شامل ہیں۔ یہ انعامات کرونا وائرس کی وبا میں ریاست کے لیے وفاقی سطح پر مختص کیے گئے امدادی فنڈ کا کچھ حصہ استعمال میں لاتے ہوئے دیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشی گن کے وہ بالغ رہائشی جو کرونا وائرس ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگوا چکے تھے جولائی میں ہونے والی قرعہ انداز میں حصہ لینے کے اہل تھے اور وہ 20 لاکھ اور 10 لاکھ ڈالر کے کے انعامات جیتنے کے لیے قرعہ اندازی میں شامل ہوئے۔ وہ لوگ جنہوں نے جولائی کے مہینے کے دوران ویکسین کی پہلی خوراک لگوائی وہ 50 ہزار ڈالر کا انعام جیتنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی قرعہ انداز میں شامل ہوئے۔

12 سے 17 سال کی عمر کی افراد کی بھی قرعہ اندازی میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ان کے لیے کالج میں چار سال تک تعلیم کے لیے نو سکالرشپس رکھی گئی تھیں جن میں ہر سکالر کی مالیت 55 ہزار ڈالر تھی۔ لاٹری کا حتمی مقصد یہ تھا کہ مشی گن کے 70 فیصد رہائشیوں کو کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کا ریاستی ہدف حاصل کیا جائے۔ ریاست میں ویکسین کا مقررہ ہدف پورا نہیں ہو سکا اور 65 فیصد لوگوں نے ویکسین لگوائی۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ انعامی سکیم موسم گرما کے دوران ویکسینیشن میں تیزی لانے میں کامیاب رہی۔

 مشی گن کی گورنر گریچن وٹمر نے نے پیر کو پریس کانفرنس میں کہا: ’میں کوششیں کرنے والے اتنے زیادہ لوگوں اور ویکسین لگوانے والے مشی گن کے ہر رہائشی کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ انعامی سکیم کامیاب رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’عوامی صحت کا ہر ماہر آپ کو بتائے گا کہ سال کے کسی دوسرے موسم کے مقابلے میں موسم گرما میں ویکسین لگوانے کی شرح کم ہو جاتی ہے، خواہ وہ چیچک ہو خسرہ یا پھر کووڈ 19۔ مثال کے طور پر جون میں  ہم نے دیکھا کہ ہر ہفتے ویکسین لگوانے کی تعداد میں کمی آئی ہے، لیکن انعامی سکیم سے مشی گن کو یہ رجحان کو ختم کرنے میں مدد ملی۔‘

جولائی میں ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے والوں میں بتدریج اضافہ ہوا اور جولائی کے پہلے ہفتے میں 28 ہزار 770 افراد سے بڑھ کر یہ تعداد آخری ہفتے میں 41 ہزار 150 ہو گئی۔ اس تعداد میں ہر ہفتے کم از کم پانچ فیصد کے تناسب سے اضافہ ہوا۔

وٹمر کا کہنا تھا کہ ’لوگ جہاں پر بھی ہیں ہم ان تک پہنچنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ان کے سوالات کا جواب دینے اور ویکسین لگوانے میں ان کی مدد کی جائے گی۔ ہماری لاٹری صرف ایک حکمت عملی تھی جسے ہم نے ویکسینیشن کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ اب بھی زیادہ مشکل کام باقی ہے لیکن ہم وہاں تک پہنچیں گے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ