ویکسین نہیں لگوائی تو کسی اور سے علاج کروالیں: امریکی ڈاکٹر کی مہم

ڈاکٹر جیسن ویلنٹائن نے کہا: ’کووڈ مرنے کا ایک برا طریقہ ہے اور میں انہیں اس طرح مرتے نہیں دیکھ سکتا۔‘

ڈاکٹر جیسن ویلنٹائن  اپنے دروازے پر لگے نوٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جس پر درج ہے کہ جن افراد نے ویکسین نہیں لگوائی، ان کا علاج نہیں کیا جائے گا (فوٹو: جیسن ویلنٹائن)

امریکی ریاست الاباما کے ایک ڈاکٹر نے کرونا (کورونا) وائرس کی ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایسے مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ڈاکٹر جیسن ویلنٹائن کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست کے ہسپتالوں میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر ویلنٹائن ڈائیگنوزٹک اینڈ میڈیکل کلینک انفرمری ہیلتھ میں معالج ہیں، جنہوں نے اپنے دفتر کے دروازے پر لٹکے سائن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے فیس بک پوسٹ میں یہ غیرمعمولی اعلان کیا۔

سائن نوٹ پر درج ہے: ’یکم اکتوبر 2021 سے موثر، ڈاکٹر ویلنٹائن اب ایسے مریضوں کو نہیں دیکھیں گے، جنہوں نے کووڈ 19 کی ویکسین نہیں لگوائی۔‘

نیوز ویب سائٹ اے ایل ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق فیس بک پوسٹ، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، میں ڈاکٹر کی جانب سے ویکسین لگوانت میں ہچکچاہٹ پر مایوسی کا اظہار کیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ ان کے اس موقف کے سامنے آنے کے فوری بعد اس کے (مثبت) نتائج دیکھے گئے۔

پوسٹ میں ڈاکٹر نے مزید لکھا: ’میرے کمرے میں یہ سائن لگنے کے بعد پہلے ہی دن اپائنٹمنٹ لینے والے تین اَن ویکسینیٹڈ مریضوں نے پوچھا کہ وہ آج ہی اپنی ویکسین کہاں سے لگوا سکتے ہیں۔ یہ کوئی سازشی مفروضہ نہیں ہے، اس لیے اس کے لیے کوئی بہانہ نہیں۔ بس یہ کہ یہ کہاں سے ملے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر مریض ان سے پوچھیں کہ انہیں ویکسین کی ضرورت کیوں ہے؟ تو وہ انہیں بتائیں گے کہ ’کووڈ مرنے کا ایک برا طریقہ ہے اور میں انہیں اس طرح مرتے نہیں دیکھ سکتا۔‘

الاباما ریاست ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ بھارت سے شروع ہونے والے ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز میں ہوشربا اضافے کی لپیٹ میں ہے لیکن امریکہ میں الاباما سب سے کم ویکسینیشن شرح والی ریاست ہے کیونکہ اب تک اس کی صرف 36 فیصد آبادی کو ویکسین دی جا سکی ہے۔ ریاست میں کووڈ انفیکشن کے ساتھ ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد دو ہزار 900 تک پہنچ گئی ہے اور یہ شرح تمام ریاستوں میں پانچویں نمبر پر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر ویلنٹائن نے اپنے فیصلے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کووڈ 19 کی سنگین حالت کے لیے ابھی تک کوئی علاج  موجود نہیں ہے لیکن اس سے بچا جا سکتا ہے۔

ان کے بقول: ’بدقسمتی سے بہت سے لوگوں نے ویکسین لینے سے انکار کر دیا ہے جن میں سے کچھ شدید بیمار یا مر جاتے ہیں۔ میں کسی کو ویکسین لینے پر مجبور نہیں کر سکتا اور نہ کروں گا لیکن میں اپنے مریضوں کو ایک قابلِ علاج بیماری سے مرتے نہیں دیکھ سکتا۔‘

انہوں نے یہ کہتے ہوئے بات ختم کی کہ ’اگر مریض ان سے علاج کروانا چاہتے ہیں تو انہیں ویکسین لگوانی ہوگی یا پھر وہ کسی دوسرے ڈاکٹر کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمیں آپ کا (میڈیکل) ریکارڈ (کسی دوسرے ڈاکٹرکو) منتقل کرکے خوشی ہوگی۔‘

الاباما ہسپتال ایسوسی ایشن کے مطابق ریاست کی موجودہ کووڈ صورت حال نے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے جہاں آئی سی یو میں بستروں کی دستیابی ختم ہو رہی ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر ڈان ولیمسن نے ڈبلیو ایس ایف اے کو بتایا کہ منگل کو کرونا کے ایک ہزار 568 مریض تھے، جنہیں آئی سی یو بستروں کی ضرورت تھی لیکن پوری ریاست میں صرف 1557 آئی سی یو بستر دستیاب تھے۔

ولیمسن نے مزید بتایا: ’آج کل ہسپتال آنے والے مریضوں میں صرف 12 فیصد کو مکمل ویکسین لگ چکی ہے۔ اگر ہم ویکسینیشن کی تعداد کو بڑھا دیں تو اسے روکا جا سکتا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت