برطانوی ٹی وی میزبان کی سائنس دانوں، کرونا لاک ڈاؤن پر تنقید

گاڑیوں کے معروف ٹی وی شو کے میزبان جیریمی کلارک سن نے کہا: ’آئیے ہم سب اپنی زندگی اچھے کی امید کے ساتھ گزاریں۔‘

جیریمی کلارک سن اپنی معروف ٹی وی سیریز کے اشتہاری پوسٹر میں دیکھے جاسکتے ہیں (جیریمی کلارک سن ٹوئٹر اکاؤنٹ)

برطانوی ٹی وی میزبان جیریمی کلارک سن نے سائنس دانوں اور سیاست دانوں کو کرونا (کورونا) وبا کے سلسلے میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ بتائیں گے کہ وبا کے بعد کی دنیا میں آگے کیا ہونا چاہیے۔

گاڑیوں کے معروف ٹی وی شو کے میزبان نے کہا کہ وہ لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے لاک ڈاؤن کے خیال سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے سائنس دانوں کو ’سیج‘ (ہنگامی صورت حال میں سائنسی ایڈوائزری گروپ) میں ’کمیونسٹ‘ کہہ کر پکارا، جنہیں بقول ان کے: ’اپنے ڈبے میں واپس آ جانا چاہیے۔‘

ایس اے جی ای یا سیج ہنگامی صورت حال میں سائنسی ایڈوائزری گروپ ہے جو سیاست دانوں کو فیصلہ سازی کے لیے سائنسی مشاورت فراہم کرتی ہے۔

کلارک سن نے ریڈیو ٹائمز کو بتایا کہ ’جب اس کا آغاز ہوا تو میں نے وبا کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ یہ چار سال طویل ہوتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ’ہمیں زندگی معمول کے مطابق چہرے پر مسکان کے ساتھ گزارنی چاہیے۔‘

جیریمی کلارک نے کہا کہ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ’بورس (جانسن) اسے (لاک ڈاؤن) کھولنا نہیں چاہتے اور ہمیں دوبارہ بند کرنا چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’لیکن اگر یہ چار سال جاری رہنے والا ہے... اور کون جانتا ہے کہ یہ 40 سال بھی ہو سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر یہ ہمیشہ کے لیے ہونے جا رہا ہے تو آئیے اسے کھول دیں اور اگر آپ مر جائیں تو آپ مر جائیں گے۔‘

منگل کی صبح (3 اگست) کو ان کے یہ تبصرے آہستہ آہستہ سوشل میڈیا پر پھیلنا شروع ہوئے، جس کا بنیادی ردعمل غصے کا تھا۔

ٹی وی شو کے دوسرے میزبان ہیمنڈ نے حال ہی میں ان اطلاعات کا جواب دیا تھا کہ ان پر کلارک سن کی دوسری ایمازون سیریز میں، جس کا عنوان کلارک سن فارم تھا، آنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

آج صبح پیش ہوتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میں نے اسے پڑھا! اور میں ... اوہ۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی