تشدد کے پیچھے طالبان کی پوشیدہ حکمت عملی جسے مغرب سمجھ نہیں سکا

ایک خاتون کی کہانی جنہوں نے طالبان کے پہلے اور دوسرے دور میں افغانستان میں کام کیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ دونوں ادوار میں کیا فرق ہے۔

مصنفہ دور افتادہ زیبوک ضلعے میں ایک گمشدہ کاروان کی تلاش میں (سپی آزربائیجانی) 

یہ اپریل 1995 کی بات ہے جب میں برطانیہ کے ایک خیراتی ادارے کے ساتھ اپنے پہلے رضاکارانہ سفر کے لیے افغانستان جانے کی تیاری کر رہی تھی۔ جس این جی او سے میں منسلک تھی اس کے افغانستان کے ڈائریکٹر سے ملنے کے لیے میں لندن گئی اور اب ان کے چھوٹے سے دفتر میں ان کے سامنے موجود تھی۔

میرے والد کو 1970 کی دہائی میں افغانستان جانے کا موقع ملا اور وہ اس ملک کو پسند کرتے تھے۔ ان کے سنائے ہوئے قصے کہانیوں نے مجھے مسحور کر دیا تھا۔ کئی برس تک افغانستان جانے کا خواب دیکھنے کے بعد بالآخر میں اس کے سفر پر رواں ہونے والی تھی۔

 میں تذبذب کا شکار تھی کہ وہاں کیسی صورت حال دیکھنے کو ملے گی۔ کیا مجھے وہ جنگ زدہ قوم ملے گی جس سے متعلق میں نے اخبارات میں پڑھا یا وہ خوبصورت ملک جس کی تصویر کشی رولینڈ اور سابرینا نے اپنی فوٹو بک میں کی تھی۔ یہ دو فوٹوگرافر تھے جنہوں نے 70 کی دہائی کے دوران افغانستان میں گھوم پھر کر اپنے غیر معمولی البم میں خوبصورت چہرے اور مناظر قید کیے تھے۔

میں نے ڈائریکٹر سے طالبان کے حملے سے متعلق پوچھا۔ اس نے کہا ’سپی، افغانستان پر طالبان کے قبضہ کرنے تک میں مر جاؤں گا اور تم بوڑھی ہو چکی ہوگی۔‘

ان کا اندازہ کس قدر غلط تھا۔

اس وقت طالبان کو مجاہدین کا ایک اور گروہ سمجھا جاتا تھا، وہ جنگجو جو حملہ آور سوویت فوج کو افغانستان سے باہر نکالنے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا وہ اس قدر شدت پسند ہیں کہ ان کی ابتدائی کامیابیاں قلیل مدتی اور بہت کم اثرات کی حامل ہوں گی۔ میں نے ان کا خیال ہی دماغ سے جھٹک دیا۔

میں اس وقت 25 سال کی تھی لیکن 1996 کے اواخر تک جب میں 27 برس کی ہوئی اور ابھی افغانستان میں ہی موجود تھی کہ طالبان نے ملک کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا۔ 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد البتہ افغانستان پر امریکہ، برطانیہ اور نیٹو افواج نے حملہ کر دیا جس نے طالبان کو بےگھر کر کے ایک نئی حکومت قائم کی۔

لیکن طالبان کبھی ختم نہیں ہو سکے اور نہ ہی نئی حکومت استحکام پاسکی۔ بالآخر اس سال اگست میں عین میری توقعات پوری ہوتی نظر آئیں اور ایک بار پھر طالبان اقتدار میں آ گئے۔ شہر، چیک پوائنٹس اور کسی بھی طرح کی مزاحمت ان کے سامنے ویسے ہی ڈھیر ہو گئی جیسے ماضی میں ہوتی آئیں تھی۔

پہلا تاثر

 1995 میں گرد آلود اڈے پر قدم دھرنے سے پہلے اور بدخشاں کے قدامت پسند علاقے فیض آباد میں عملی طور پر کام شروع کرنے سے قبل میں کچھ عرصے سے افغانستان کے متعلق پڑھ رہی تھی۔ یہاں زیادہ تر تاجک آباد تھے جن میں پشتون اور ازبک سمیت دیگر نسلی گروہ شامل تھے۔

سوویت فوج کے خلاف جنگ سے پہلے یہ ایک غریب ملک تھا۔ لیکن جنگ کے بعد جو تھوڑا بہت انفسٹریکچر تھا وہ بھی تباہ ہو چکا تھا اور اسے دوبارہ بحال کرنے یا حتیٰ کہ سرکاری ملازمین بھرتی کرنے کے لیے بھی بجٹ نہیں تھا۔

افغانستان میں کئی برس گزارنے کے دوران میں اس بات پر حیران ہوتی رہی کہ اتنی بڑی بڑی آبادیاں ہیں جہاں پر کوئی سکول، کلینک یا سرکاری عمارت نہیں۔ بدخشاں میں، میں نے خود دیکھا کہ بچے اپنی پیٹھ پر تیل والے خالی ڈبے لے کر راستوں پر جانوروں کا گرنے والا گوبر اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ گھروں میں بطور ایندھن اسے جلائیں۔

کابل میں، میں نے بچوں اور بوڑھوں کو کوڑے کے ڈھیر میں سے کھانے کے لیے خوراک اکٹھی کرتے اور پرانی چیزیں ری سائیکلنگ کے لیے جمع کرتے دیکھا۔

 فیض آباد کا چھوٹا سا شہر جسے غضب ناک اور ٹھاٹھیں مارتے کوکچہ دریا نے درمیان سے تقسیم کر رکھا تھا وہ بڑی داڑھیوں اور نیم خود کار رائفلوں والے مردوں سے اٹا پڑا تھا۔ جبکہ عوامی مقامات پر خواتین برقعے پہنے آتی تھیں۔ میں تب وہاں اکیلی غیر ملکی تھی سو فوری طور پر ان سے دوستی گانٹھ لی۔

مقامی بازار میں گھومتے ہوئے جب بھی ان میں سے کوئی میرا استقبال کرتی میں ان کی آواز نہ پہچان پاتی سو ان کے برقعوں کے نیچے سے جھانک کر دیکھتی کہ وہ کون ہیں اور پھر ہم نجی نیلے ٹینٹ میں گپ شپ کرتے۔

لیکن چھوٹے دیہاتی علاقوں اور دارالحکومت کابل میں بہت زیادہ فرق تھا۔ طالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ایک بار جب میرا کابل جانا ہوا تو میں دفاتر میں مردوں کو سوٹ پہنے اور خواتین کو کام کرتے دیکھ کر حیران رہ گئی۔

فیض آباد میں خواتین کو میرے دفتر داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں تھی اور میں نے وہاں کبھی بھی کسی مرد کو سوٹ پہنے نہیں دیکھا۔ جنانچہ 1996 میں جب طالبان کابل میں آئے تو وہ اپنے ساتھ ایک طرز زندگی لے کر آئے جس کا مشاہدہ میں پہلے ہی بدخشاں میں کر چکی تھی۔ 

اپنے پہلے رضاکارانہ دورے کے بعد طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں کئی مختلف این جی اوز کی طرف سے میں نے کام کیا۔ 1997 کے اوائل میں تنہا ایک افغان ڈرائیور کے ساتھ میں نے پورے ملک کا سفر کیا جس میں دیہی ترقی اور خواتین کی مدد پر توجہ مرکوز رہی۔

 یہ بالکل ایک انوکھا تجربہ تھا۔ جس وقت میں نے افغانستان میں کام کا آغاز کیا اس وقت بعض مقامی کمانڈروں کی کارروائیوں کی وجہ سے ماحول اکثر کشیدہ اور خوف زدہ رہتا تھا۔ قتل، ریپ اور لوٹ مار کی وارداتیں روز مرہ کا معمول تھا۔ ریپ کے خوف سے میں نے کبھی تنہا سفر نہیں کیا اور مجھے چیک پوائنٹس پر روک لیا جاتا جہاں عسکریت پسند پیسے مانگتے یا میرے سامان میں سے کچھ چوری کر لیتے۔

لیکن طالبان کے دور میں حالات آہستہ آہستہ بدلنے لگے۔ دیہات میں خواتین کے ساتھ مل کر مختلف کام کرنے پر انہیں ہم سے کوئی مسئلہ نہیں تھا اور انہوں نے خواتین کی محدود سرگرمیوں کی حمایت کی تھی۔

 بلاشبہ خواتین کو برقع اوڑھنا پڑتا اور خواتین کی سرگرمیاں اسلامی حدود سے تجاوز نہیں کرنی چاہیں جیسا طالبان نے تشریح کر دی ہے۔ لیکن طالبان سے پہلے جب افغانستان کے زیادہ تر علاقے جنگجو مجاہدین سرداروں کے ذریعے چلائے جا رہے تھے اس وقت ریپ کے خدشات کے پیشِ نظر عملے کی کسی خاتون رکن کو سفر پر لے جانا خطرناک تھا اور بعض اوقات ہمیں بہت سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

1980 کی دہائی میں مفاد عامہ کے منصوبے چلانے والے افراد سے میری بات ہوئی جنہیں برادریوں میں خواتین تک رسائی میں دقت کا سامنا تھا اور بعض کے لیے والدین کو حتیٰ کہ گھریلو درس گاہوں میں بھی لڑکیوں کی تعلیم پر قائل کرنا مشکل مرحلہ تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ بھی تبدیل ہونے لگا۔

کچھ برادریوں کی جانب سے این جی اوز کو خواتین کے لیے سکول تعمیر کرنے کی درخواست کی گئی۔ ان میں سے ایک کے لیے میں نے کام کیا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہم نے لڑکیوں کے لیے سکول تعمیر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

1990 کی دہائی کے اواخر میں جب طالبان اپنی طاقت کے عروج پر تھے اس وقت بھی میں نے خواتین کے مسائل پر کام جاری رکھا اور ایک بار پھر مجھے موقع ملا کہ مختلف منصوبوں میں خواتین کی موجودگی پر بات چیت کر سکوں۔ اس پورے عرصے کے دوران میں نے طالبان کے وزرا، گورنرز، کمانڈرز، چھوٹے عہدے داروں اور پولیس کے پرہیبت ’نائب اور اعلیٰ عہدے داروں‘ سے ملاقاتیں کیں۔

مجھے ہر طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑا اور افغانستان میں موجود میرے ہم پیشہ ساتھیوں کے لیے یہ آسان وقت نہیں تھا۔ لیکن ہم مختلف حیلوں سے کام چلاتے رہے۔

2001 میں طالبان کی اقتدار سے محرومی کے بعد میں نے مختلف این جی اوز، اقوام متحدہ، ڈونرز، نیٹو، ورلڈ بینک اور افغان حکومت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھا۔ میرا سفر جاری رہا اور میری دلچسپی طالبان سے بڑھتی گئی خاص طور جو میں نے ان چیزوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا جو میں نے 1996 اور 2001 کے دوران دیکھی تھیں۔

میں نے مزید گہرائی میں جا کر اس بارے سوچنا شروع کیا کہ طالبان کو کس طرح سے پیش کیا گیا۔ یہ ساری صورت حال ایسی سادہ نہیں تھی جیسے عالمی سطح پر بہت سے لوگوں نے تصور کشی کرنے کی کوشش کی تھی۔

میں نے محسوس کیا کہ طالبان سے متعلق میرے تجربات ’سرکاری بیانے‘ سے بہت مختلف ہیں اور میں سوچنے لگی کہ ایسا کیوں ہے؟ میں سوچنے لگی کہ اگر طالبان کو مختلف طریقے سے پیش کیا جاتا تو کیا افغانستان کی صورت حال آج مختلف ہوتی۔

کٹھن وقت میں چلنے والے تحریک

میرے ذہن میں طالبان کی شناخت اور مجاہدین کے دیگر دھڑوں سے ان کے امتیاز سے متعلق سوالات سر اٹھانے لگے۔ مثال کے طور پر افغان مجاہدین کے طاقتور ترین دھڑوں میں سے ایک جمعیت اسلامی کے رہنما احمد شاہ مسعود انتہائی خوبرو، کرشماتی خطیب اور ایک خالص جنگجو تھے۔

اس کے برعکس طالبان کے بانی اور بنیادی رہنما ملا محمد عمر جن کا 2013 میں انتقال ہوا، وہ ایک مختلف شخصیت تھے۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔

اس اعتبار سے انہوں نے خطے کے ماضی کی دیگر صوفیانہ شخصیات کی یاد تازہ کر دی تھی جیسے المقنع (پردہ پوش)۔ وہ آٹھویں صدی میں پیدا ہوئے تھے جن کا چہرہ ایک کیمیائی دھماکے میں بگڑ گیا تھا، انہوں نے عباسی سلطنت کے خلاف ایک عوامی بغاوت کی قیادت کی تھی۔

طالبان کے ابتدائی برسوں کی طرح المقنع کے پیروکار سفید لباس پہنتے تھے۔ کیا یہ اتفاق تھا؟ کیا تاریخ خود کو دہرا رہی تھی؟

اس سے عوام کے لیے مزید پراسراریت پیدا ہوئی اور کچھ نے اس وجہ سے طالبان کی جانب کشش محسوس کی۔ میں نے طالبان کے مختلف واقعات بالخصوص پرتشدد واقعات کے استعمال پر تحقیق شروع کی جسے وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

مجھے لگا یہ محض تشدد برائے تشدد نہیں تھا۔ یہ مخصوص سامعین پر اثر انداز ہونے کے لیے حکمت عملی تھی تاکہ ان کی قانونی حیثیت اور طاقت کا پیغام پہنچے۔

میں نے محسوس کیا کہ اس طرح کا ’عملی‘ تشدد ان کی ’زبان‘ تھی۔ اگر ہم بہت سے لوگوں کی طرح ان کے اقدامات کو محض سادگی، وحشیانہ پن، پسماندگی یا بدانتظامی کہہ کر گزر جائیں تو ہم یہ موقع گنوا دیتے ہیں کہ اس میدان میں ان کا سامنا کیسے کرنا ہے۔ یہ ایسا میدان جنگ ہے جس میں انہیں کبھی بھی پائیدار مقابلے کا سامنا نہیں رہا جیسا کہ حالیہ برس اقتدار میں ان کی واپسی سے واضح ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ طالبان افغان تاریخ کے انتہائی پرتشدد دور میں ابھرے۔ تمام بڑے دھڑے وسیع پیمانے پر قتل عام، ریپ اور لوٹ مار میں مصروف تھے۔

طالبان کی ابھرنے کی کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ایک چوکی پر مقامی جنگجوؤں کی طرف سے کچھ نوجوان لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد ملا محمد عمر سے تعاون کے لیے رابطہ کیا گیا۔ اس کے بعد مقامی کمانڈروں کے خلاف طالبان نہایت پھرتی سے ابھرے جن کی بدحالی اور لوگوں کے خلاف تشدد جنوبی صوبے قندھار میں ناقابل برداشت ہو گیا تھا۔

اہل مغرب جو مجاہدین کے دور میں روز مرہ تشدد سے محفوظ تھے ان کے لیے طالبان صرف تشدد کے عوامی اظہار کی حکمت عملی کی وجہ سے مختلف تھے۔ دوسرے دھڑوں نے اغواء، ریپ، تشدد اور پھانسیاں دیں لیکن اکثر اہل مغرب کی نظروں سے دور۔

مجھے یاد ہے جب 1996 میں سقوط کابل سے کچھ روز پہلے ترک سیاسی گروہ ’جنبش‘ کی صورت کابل میں ڈیرے ڈال رہا تھا۔ افغانستان کی ایک قدیم مسلم سیاسی جماعت جمعیت کی امداد کے لیے آئی تھی جو کابل ہارنے ہی والی تھی۔ پوری آبادی بالخصوص خواتین میں ایک خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔

لوگوں کو پچھلے ادوار کی گمشدگیوں، ریپ اور مسخ شدہ لاشیں یاد تھیں جب جنبش نے کابل کے مضافات میں تباہی مچائی تھی۔ اس وقت لوگوں کی زندگیوں میں تشدد ایک خوفناک پس پردہ آواز کی صورت ہر وقت چل رہا تھا۔

 جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عوامی مقامات پر طالبان ایک عمدہ حلیے اور متاثر کن حد تک سرگرم نظر آتے اور اسی چیز نے انہیں طاقت بخشی۔ مثال کے طور پر انہوں نے لوگوں سے صرف یہ نہیں کہا کہ اپنے بال چھوٹے رکھیں بلکہ وہ لوگوں کو پکڑ کر زبردستی ان کے بال چھوٹے کروا دیتے تھے۔

ان کے پاس یہ ماپنے کے لیے ایک مخصوص چھڑی تھی کہ آیا مرد اپنے زیرِ ناف بال ہدایت کے مطابق مونڈ رہے تھے۔ ان کے افعال ان کی طاقت اور  اختیار کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ خوف کے ذریعے انہوں نے افغان معاشرے پر اپنا خوب اثر جمایا۔ ان کی آمد کے بعد سے افغانیوں کی بیان کردہ ہر کہانی کا تعلق ان سے جا ملتا ہے۔ وہ لوگوں کے ذہنوں سے چپک کر رہ گئے۔

 تحریک طالبان افغان ریاست کی تشکیل، تبدیلی اور انہدام کے ایک طویل مدتی عمل کے نتیجے میں پروان چڑھی جس نے افغان عوام کو غربت اور خونریز خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔ میرے لیے جو بات واضح ہے وہ یہ کہ طاقت، حکمرانی اور نظام انصاف کے گرد تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان نے اپنے لیے ایک ایسا سیاسی نمونہ تیار کر لیا جو صرف انہی سے مخصوص تھا۔

کئی حوالوں سے شام اور عراق میں داعش کا طرزِ عمل بشمول نوادرات کی تباہی طالبان کے ابتدائی دور کی نقل تھی۔

 اپنی جاری تحقیق میں میں ان ابتدائی برسوں کے چارٹ بنا رہی ہوں۔ عرب بہار کے دوران اور 11 ستمبر کے واقعات کے بعد طاقت اور کارکردگی کا تجزیہ کرنے والے ماہر عمرانیات جیفری الیگزینڈر کہتے ہیں سامعین کو متحرک کرنے کے لیے ثقافتی عناصر کو استعمال کرنے کی صلاحیت سیاسی طاقت کی بنیاد ہے۔

طالبان نے ایک ایسی زبان کا استعمال کرتے ہوئے طاقت کی سماجی کارکردگی میں مہارت حاصل کی جو دیکھنے میں متاثر کن اور لوگوں کو اندر سے متحرک کرنے کی صلاحیت سے بھرپور ہے۔ وہ افغانستان میں مسلم دور کی تاریخ اور ثقافت کو ملاتے ہیں تاکہ نئی کہانیاں تخلیق کی جا سکیں کہ وہ کون ہیں اور وہ ریاست کیسی ہے جو وہ بنانا چاہتے ہیں۔

 کم از کم تین واقعات ایسے ہیں جو طالبان کی اس طرح کی کارکردگی میں مہارت کو خاص طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ وہ ان اہم مراحل کی بھی نشاہدہی کرتے ہیں کہ طالبان کی شناخت کیسے قائم ہوئی۔ 

1 نبی کا خرقہ

1996 میں ملا محمد عمر کی ابتدائی کارروائیوں میں سے ایک بہت غیرمعمولی تھی۔ انہوں نے قندھار شہر کے ایک مزار سے ایک مقدس آثار کو اتار دیا، قندھار خود ایک تاریخی شہر اور سابق دارالحکومت ہے جہاں طاقتور سلطنتوں کے درمیان بہت جنگیں لڑی گئیں جیسا کہ بالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم پانی پت میں دکھایا گیا ہے۔

 یہ مقدس چیز ایک خرقہ تھا جس کے متعلق مسلمان تصور کرتے ہیں کہ یہ حضرت محمد (ص) کا ہے جو انہوں نے مکہ سے بیت المقدس کے مشہور سفر کے دوران پہنا تھا، ایک سفر جو تقریباً 621 عیسوی میں ایک ہی رات کے دوران مکمل ہوا تھا۔

اس خرقے کو 18ویں صدی میں درانی سلطنت اور جدید ریاست افغانستان کے بانی احمد شاہ درانی کے ذریعے جدید دور کے ازبکستان میں بخارا سے قندھار لایا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا نشانی ہے جس سے معجزات منسوب ہیں۔

 ملا محمد عمر کے بارے میں مشہور بات ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے آنے سے کتراتے تھے۔ ایک خفیہ کیمرے سے ان کی لی گئی تصویر جس میں وہ بازو سمیٹ ہوئے قندھار میں ایک ہجوم کے سامنے یہ خرقہ پہنے کھڑے ہیں ایک غیر معمولی اور ڈرامائی منظر ہے۔

ہمیشہ ان واقعات کے ذریعے مخصوص تاثر اجاگر کیا جاتا تھا۔ اس وقت پورے افغانستان اور باہر سے بھی مذہبی رہنما آئے تھے۔ طالبان کو فیصلہ کرنا تھا کہ ان کی لڑائی قندھار میں ہی ختم ہو جائے گی یا وہ کابل پر قبضہ کرنے کے لیے پیش قدمی کریں گے۔

تاہم ملا محمد عمر کو امیر المومنین قرار دیا گیا، انہیں کابل میں طالبان کی قیادت کرنے اور افغانستان کی اسلامی حکومت قائم کرنے کا مذہبی و سیاسی اختیار دیا گیا۔

جمع ہونے والے ہجوم کے سامنے اس قابل احترام چیز کو چھونے سے طالبان کا رہنما پیغمبر اسلام اور احمد شاہ درانی سے اپنی جڑت کا اظہار کرتے ہوئے بطور مسلمان اور افغانی اپنے دعوے کا قانونی جواز پیش کر رہا تھا۔ یہ کارروائی اس بات کا اظہار تھی کہ وہ یہاں تک محض بندوق کے زور پر نہیں پہنچا اور یہ کہ وہ مجاہدین کے کسی ایک دھڑے کا معمولی رہنما نہیں تھا۔

وہ خود کو پیغمبر اسلام اور افغانستان کے درانی بادشاہوں کے صف میں شامل کر رہے تھے۔ اس مقدس چیز کے بازوؤں میں اپنی باہیں ڈال کر وہ مذہبی اختیار کا دعوی کر رہے تھے۔

اگرچہ سوویت فوج کے خلاف مجاہدین کو بھی مقدس جنگجو کہہ کر پیش کیا گیا تھا اور اس کے رہنماؤں نے اخلاقی اختیار کا دعوی بھی کیا تھا لیکن ہزاروں کے مجمع کے سامنے کسی نے بھی خود کو ایسے ڈرامائی اور علامتی انداز میں پیش نہیں کیا۔

اس مقدس خرقے کو عوام نے پہلے بہت ہی کم دیکھا تھا اور آخری بار کئی عشرے قبل ہیضے کی وبا کے دوران اسے مزار سے نکالا گیا تھا اس لیے اسے یوں سامنے دیکھنا لوگوں کے لیے معجزاتی انداز کا حامل تھا۔ ہجوم نے ’اللہ اکبر‘ اور ’امیر المومنین‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔

2۔ مردہ صدر کی لاش

ستمبر 1996 کے اواخر میں طالبان کے کابل پر پہلی بار قبضے کے اگلے روز ایک تصویر ہر طرف فوراً پھیل گئی جس میں آریانہ چوک کے ٹریفک سگنل کے کھمبے کے نیچے سابق صدر نجیب اللہ اور ان کے بھائی کی مسخ شدہ اور خون آلود لاشوں کے ساتھ طالبان کے دو سپاہی ایک دوسرے کو خوشی بھرے چہرے کے ساتھ گلے لگا رہے ہیں۔

قندھار میں اپنا مذہبی سکہ جمانے کے بعد طالبان نے انسداد بدعنوانی اور انصاف کے پیغامات دینے کی کوشش کی خاص طور پر کابل میں جسے وہ بدعنوانی کا گڑھ سمجھتے تھے۔ کابل پہنچنے سے پہلے ہی طالبان نے سرعام اپنی پرتشدد کارروائیاں شروع کر دیں تھیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی نجی زندگیوں پر حکمرانی اور غلبے کا ارادہ رکھتے تھے۔

ٹی وی، ویڈیوز اور موسیقی کی کیسٹوں پر پابندی لگا دی گئی تھی جو محض زبانی کلامی نہیں تھی بلکہ ٹی وی توڑ پھوڑ کر طالبان کی چوکیوں پر لٹکائے ہوئے تھے، کیسٹوں کے ربن ہوا میں اچھال کر بے جان مخلوق کی انتڑیوں کی طرح لٹکائے ہوئے تھے اور ان کو ایسے پیش کیا ہوا تھا جیسے ٹرافیاں سجی ہوں۔

دراصل سابق صدر کی پھانسی کابل کے عوام کے لیے طالبان کا سفاکانہ اور انتہا پسندانہ پیغام تھا کہ کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور کوئی بھی شخص جو سزا کا مستحق ہے اسے سزا مل کر رہے گی۔

لیکن آریانہ چوک ہی کیوں اور صدر نجیب اللہ کی لاش ہی کیوں؟

 آریانہ چوک کابل کے تاریخی مرکزی مقام پر واقع ہے۔ یہ افغانستان کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے والے اور جدید افغان ریاست کے بانی، ’آہنی امیر‘ عبدالرحمان کے قائم کردہ قلعہ دار محل Arg  کے بہت قریب ہے۔ 1880 میں دوسری اینگلو افغان جنگ کے دوران بالا حصار قلعہ برطانوی ہندوستانی فوجیوں کے ذریعے تباہ ہونے کے بعد تعمیر کیا گیا تھا۔ 

اس پر قبضہ جدید افغان تاریخ میں ایک علامتی اہمیت رکھتا ہے کہ سوائے ملا محمد عمر کی قندھار سے حکومت کرنے والے دور کے علاؤہ افغان ریاست کی طاقت کا مرکز یہی قلعہ رہا ہے۔

افغانستان میں اقتدار کی منتقلی ہمیشہ خونی انداز میں ہوئی۔ طالبان سے پہلے مجاہد کمانڈروں نے بہت زیادہ قتل و غارت گری کی لیکن تب یہ ہلاکتیں خفیہ اور قتل و غارت گری یا فائرنگ کے تبادلے میں ہوئی تھیں۔

کسی سرکردہ عوامی شخصیت کو سرعام پھانسی نہیں دی گئی تھی جس کی لاش مجرم کی طرح دکھائی گئی ہو۔ لیکن طالبان نے ایسے سابق صدر کے قتل اور ان پر کیے گئے تشدد کو چھپانے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی جن کی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے ہزاروں لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور ہزاروں لوگ اپنے ان پیاروں کی وجہ سے نفرت کرتے تھے جو جیلوں میں غائب ہو گئے اور کبھی ان کا پتہ نہ چل سکا۔

 یہ بے حسی پر مبنی قتل کی لمحاتی واردات نہیں تھی۔ نجیب اللہ نسلی طور پر طالبان کی طرح پشتون تھے اور اقوام متحدہ کے زیر حفاظت تھے۔ طالبان کے قبضے سے پہلے جب مجاہدین نے کابل چھوڑا تو انہوں نے نجیب اللہ کو اپنے ساتھ جانے کی پیشکش کی تھی، لیکن وہ پھر بھی اس اعتماد کے ساتھ رکے رہے کہ وہ طالبان سے بات کر لیں گے جو انہی کی طرح پشتون تھے۔

اس قتل کو کئی طرح سے سمجھا جا سکتا ہے، طالبان اپنے ساتھی پشتون کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دے رہے تھے، جب طالبان کمیونسٹوں کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھونے والے افراد کا حساب چکتا کرنا چاہتے ہوں تو اقوام متحدہ کوئی معنی نہیں رکھتی یا یہ کہ سوویت حملے کا دور ان کے آخری حامی کے قتل کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوا۔

کچھ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے پیچھے پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی تھی جو اپنے دشمن کو ختم کرنے کے لیے طالبان کو استعمال کر رہی تھی۔ طالبان کے مردانہ عوامی حلقے میں ان کی بے بسی کا مزید واضح اظہار کرنے کے لیے ان کی لاشیں تین تک تک وہاں لٹکنے کے لیے چھوڑ دی گئی تھیں۔

ریڈیو پر اعلانات کیے گئے اور ہزاروں لوگ صدمے اور مایوسی کے عالم میں اس منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ نجیب اللہ کی پھانسی اس ظالمانہ سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔ اس کا مقصد کابل کی آبادی کو اپنا مطیع بنانا اور طالبان کو انصاف اور اخلاقیات کے اسلامی ثالث کے طور پر کھڑا کرنا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان ہلاکتوں نے گہرا اثر چھوڑا جو طالبان کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہا۔ اس کے بعد دیگر علاقوں سمیت کابل میں بھی عورتوں کے لیے برقعہ اور مردوں کے لیے لمبی داڑھی، چھوٹے بال اور سروں کو ڈھانپنا لازمی کر دیا گیا۔

آفس فار دی پری وینشن آف وائس اینڈ پروموشن آف ورچو کے ذریعے طالبان نے اس چیز کی نگرانی کی کہ لوگ کیسا رویہ اختیار کرتے اور کیا لباس پہنتے ہیں۔ خواتین کی عوامی مقامات پر موجودگی صرف محرم ساتھ ہونے کی صورت میں قابل برداشت تھی۔ 

3. ثقافتی ورثے کی توڑ پھوڑ

طالبان کی ڈرامائی ترین کارروائیوں میں سے ایک 2001 کے دوران افغانستان کے وسطی پہاڑی علاقوں میں واقع بامیان بدھ کے مجسموں کی توڑ پھوڑ تھی۔ اس واقعے نے طالبان کو عالمی سطح پر خوب بدنام کیا۔

جنگ سے پہلے یہ افغانستان کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک تھا جہاں بدھا کی سب سے بڑی مورتی کے نقش و نگار کو انمول نوادرات کے طور پر گنا جاتا تھا۔

بدھا کے مجسموں کو تباہ کرنے کی پہلی کوشش اس وقت ہوئی جب مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے 17ویں صدی میں انہیں مسمار کرنے کے لیے بھاری توپ خانے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ وہ صرف حملے کے دوران انہیں نقصان پہنچانے میں کامیاب رہا۔

ایک اور کوشش 18ویں صدی کے فارس کے بادشاہ نادر شاہ افشار نے کی تھی جس نے توپ کی مدد سے ان پر گولے برسائے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افغان بادشاہ عبدالرحمان خان نے ہزارہ شیعہ بغاوت (1888-1893) کے خلاف فوجی مہم کے دوران بدھوں میں سے ایک کا چہرہ تباہ کر دیا تھا۔

یہ افواہیں بھی گردش میں رہیں کہ انیسویں صدی کے دوران انگریزوں نے توپ سے گولے داغنے کے لیے بدھوں کو بطور مشق استعمال کیا۔ ماہر نسلیات پروفیسر پیئر سیبٹلیورز کے مطابق 19ویں صدی کے مسافر پہلے ہی یہ بات نوٹ کر رہے تھے کہ بدھوں کے چہرے واضح نہیں تھے۔

لیکن سرعام تشدد کا مظاہرہ کرنے کی حکمت عملی کے پیش نظر طالبان نے کچھ غیر معمولی اور زیادہ منظم کوشش کی ٹھانی۔

2000 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر اسامہ بن لادن سے تعلقات ختم کرنے اور افغانستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر اسلحے کے لین دین پر پابندی عائد کر دی۔

اس کے جواب میں ملا عمر نے 26 فروری کو ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں افغانستان سے تمام غیر اسلامی مجسموں اور ہناہ گاہوں کو ملیہ میٹ کرنے کا حکم دیا گیا۔ طالبان نے فروری 2001 سے کابل میوزیم میں رکھے بدھ مت کے مجسمے پاش پاش کرنا شروع کر دیے۔

ظاہر ہے اس پر بین الاقوامی سطح پہ بہت شور مچا۔ اپنی یاداشتوں میں طالبان کے وزیر عبد السلام ضعیف ذکر کرتے ہیں کہ یونیسکو نے مجوزہ تباہی پر اعتراض کرتے ہوئے 26 خطوط لکھے۔ چین، جاپان اور سری لنکا کے مندوبین بدھ مت کے مجسموں کے تحفظ کے لیے سب سے زیادہ پرزور حمایتی تھے۔

جاپانیوں نے رقم کے عوض یہ خریدنے سمیت متعدد حل پیش کیے۔ یونیسکو، نیویارک کے ایم ای ٹی میوزیم، تھائی لینڈ، سری لنکا حتی کہ ایران نے بدھ مت کے مجسمے خریدنے کی پیشکش کی اور اسلامی کونسل کے 54 ممالک نے سفیروں نے ایک ملاقات کی اور ان کی تباہی پر صدائے احتجاج بلند کی۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق مصر نے اسلام سے پہلے کی اپنی قدیم یادگاریں مخریہ طور پر محفوظ کر رکھی تھیں اور مصر کے صدر حسنی مبارک نے ملک کی سب سے اعلی اسلامی جمہوریہ اتھارٹی کے مفتی کو طالبان سے بعض رہنے کی درخواست کرنے کے لیے بھیجا۔

 22 اراکین پر مشتمل عرب لیگ نے تباہی کو ’وحشیانہ فعل‘ کہتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ پاکستانی صدر پرویز مشرف نے اپنے وزیر داخلہ معین الدین حیدر کو کابل بھیجا تاکہ وہ بحث کریں کہ یہ توڑ پھوڑ غیر اسلامی اور ایسا قدم ہے جس کی روایت موجود نہیں۔

جنوب ایشیائی میڈیا نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ بھارتی میڈیا نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ بدھ مت کی یادگاریں بچانے پر تیل اور گیس میں اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔

وادی بامیان میں مجسمے توڑنے کا اہم کام دو مارچ 2001 کو شروع ہوا اور 20 دنوں مختلف مراحل میں چلتا رہا جس دوران طیارہ شکن بندوقیں، توپ خانے اور اینٹی ٹینک بارودی سرنگوں کا استعمال کیا گیا۔ جو باقی بچ گیا تھا اسے ختم کرنے کے لیے پہاڑوں سے لوگوں کو نیچے اتارا گیا تاکہ ان کی بنیادوں میں بارود رکھ کر آ سکیں۔

بین الاقوامی سامعین اور وسیع پیمانے پر میڈیا کوریج کو یقینی بنانے کے لیے 20 صحافیوں کو تباہی کا مشاہدہ کرنے اور اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے بامیان لے جایا گیا کہ دونوں مجسموں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

وادی بامیان میں ہزاروں سال سے نصب، سلک روڈ پر نظر رکھے ہوئے بدھا کے دو مجسموں کی تباہی سے اڑنے والے گرد و غبار کی تصاویر پوری دنیا میں پھیل گئیں جسے بین الاقوامی برادری نے وحشت اور مایوسی سے دیکھا۔

طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی حکومت تسلیم کروانے کی ناکام کوششیں کی تھیں۔ بدھ مت کے مجسموں کی مسماری کسی بھی مفاہمت کے خاتمے کا ایک علامتی اشارے سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

یہ تماشے کے ذریعے اپنی طاقت کا اظہار تھا۔ انٹرنیٹ جو اس وقت نیا نیا آیا تھا اس نے بدھ مت کے مجسموں کی تباہی کے اثرات مزید تیزی سے پھیلا دیے۔

نئے طالبان

1994 سے طالبان کے تمام اقدامات سامراج، استعمار، نوسامراجیت اور نیو لبرل ازم کے بھوتوں کو براہ راست مخاطب ہوئے بغیر جواب دینے کی کوشش رہے ہیں۔ یہ گروہ افغانستان میں عوامی مقامات کو سٹیج کی طرح استعمال کرتا رہا ہے۔

تشدد کو تاریخ میں ایک طرح سے طاقت کے مظاہرے اور اپنے پیغامات اور ردعمل کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تشدد کا یہ مظاہرہ بلاوجہ نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے گہری سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ ان کی کئی طرح سے تشریح کی جا سکتی ہے۔ یہ ایسی زبان میں بات کرتے ہیں جن سے مغرب کے بیشتر افراد واقف نہیں۔

طالبان نے اس خطے میں اسلام اور ریاست کے بارے میں ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔ ابتدائی طور پر طالبان کو پشتون پسماندہ علاقوں کے مدارس سے تعلیم یافتہ پرتشدد افراد کہہ کر ان کو مسترد کیا گیا (جو آج بھی جاری ہیں) لیکن دراصل اب واضح ہو گیا ہے کہ وہ تشدد کے سرعام واقعات کے ذریعے اپنا عالمی نقطہ نظر پیش کر رہے تھے۔

اگر ابتدا سے ایسا ہی سمجھا جاتا تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بہت مختلف نتائج نکلتے اور طویل جنگ جس میں بہت سی انسانی جانیں ضائع ہوئیں وہ ٹل جاتی۔

اس بار طالبان دوسرے ضوابط اور علامتیں استعمال کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ان کی تازہ ترین حکمت عملی کا مظاہرہ خصوصی عسکری دستوں میں بدری 313 یونٹ کی شمولیت ہے۔ یہ فوجی پوری طرح تیار اور دنیا کے دیگر حصوں میں موجود خصوصی عسکری یونٹوں کی مقابلے میں بھر پور طریقے سے پیش کیے جا سکتے ہیں۔

یہ سادہ سا عمل طالبان کی فتح اور اس بات کا پیغام ہے کہ وہ ایک ہی وردی میں امریکی فوجیوں کے ساتھ برابری کی سطح پر کھڑے ہیں۔

ہم نے طالبان کی ایسی تصاویر بھی دیکھی ہیں جن میں انہوں نے جنوبی پشتون قبائلی لوگوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ روایتی لباس، بالوں کا پرانا انداز اور کمزور سینڈل پہن کر وہ اپنے پس منظر اور جسمانی سختی کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ پرانے زمانے کی یاد بھی تازہ کرتا ہے، جنگجوؤں کا ماضی جب پشتون زبردست دشمن تھے۔

کابل میں داخلے کے بعد طالبان جنگجوؤں اور رہنماؤں نے صدارتی محل میں احمد شاہ درانی کی تاج پوشی کی پینٹنگ کے نیچے اپنی تصویریں کھنچوائیں۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے دعوی کیا کہ یہ طالبان کی شناخت سے متصادم رویہ ہے لیکن میں دلیل کی بنیاد پر کہتی ہوں کہ کسی کو ان کے سابقہ طریقوں پر نظر ڈالنی ہو گی۔

میرے خیال میں طالبان نے علامتی طور پر ایک سیاسی سلسلہ قائم کیا جو قندھار میں ملا محمد عمر کے پیغمبر اسلام کی چادر اوڑھنے سے احمد شاہ کی پینٹنگ تک پہنچ گیا۔ لیکن تب بہت سے مبصرین نے محض اس لیے طالبان کے اقدامات کو کوئی اہمیت نہیں دی کہ وہ انہیں بہت معمولی سی چیز سمجھتے تھے۔

میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپ بات تب تھی جب طالبان کے طاقتور اور خوفناک دھڑے کے رہنما اور موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے خودکش بمباروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے انہیں زمین اور رقم تحفے کے طور پر پیش کی۔ سابقہ حکومت کے خلاف طالبان کی لڑائی کا ایک اہم حصہ خودکش بمبار تھے۔

لیکن سابقہ حکومت نے شاید ہی کبھی اپنے عام سپاہیوں اور پولیس والوں کی ہلاکتوں کا عوامی سطح پر اعتراف کیا ہو، سچی بات یہ ہے کہ وہ ہوتے ہی موت کا نشانہ بننے کے لیے تھے۔ انہوں نے یقیناً عام افغانیوں کی قربانیوں کو سراہنے کے لیے کبھی عوامی تقریبات نہیں کی تھیں۔ حکومت نے قوم کے حوصلے مزید پست کرنے سے بچنے کے لیے کچھ عرصے سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار بھی چھاپنے چھوڑ دیے تھے۔

2021 میں طالبان کی کابل آمد سے کئی ماہ پہلے میں نے انہیں شمال میں لڑکیوں کے سکول بند کرتے دیکھا۔ یہ بھی طاقت کا مظاہرہ تھا۔ یہ افغان حکومت کو نیچا دکھانے کی کوشش تھی۔

اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں بلکہ وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ ان اقدامات میں سے ایک کو چھین کر کر رہے تھے جسے افغان حکومت بین الاقوامی برادری کے سامنے مسلسل ایک عظیم ’کامیابی‘ کے طور پر پیش کر رہی تھی۔ شاید یہ افغان خواتین اور ان کے حامیوں کے لیے بھی ایک اشارہ ہو کہ طالبان خواتین کے حقوق پر سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

میں افغان حکومت، حقوق نسواں کے کارکنان یا عالمی برادری سے برابر اور ’مساوی‘ جواب کا انتظار کر رہی تھی۔ مذاکرات کے لیے ٹیم بھیجی جاتی، ایک عسکری دستہ بھیجا جاتا تاکہ سکول پر دوبارہ قبضہ کیا جاسکتا، لڑکیوں کو کسی متبادل جگہ پر تعلیم کی پیشکش کی جاتی کیوں کہ اس وقت بین الاقوامی فوج وہاں موجود تھی اور وہ کسی طرح کا علامتی جواب دے سکتی تھی۔

لیکن کچھ نہیں ہوا۔ ایسا لگتا ہے کوئی بھی نہیں سمجھ سکا کہ طالبان طاقت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کا واحد جواب سوشل میڈیا پر ردعمل کی صورت میں دیا گیا تھا۔ افغان حکومت نے خود کو کمزور ظاہر کیا اور سکول کی ان بچیوں کو چھوڑ دیا تھا جیسے انہوں نے بعد میں دیگر عوام کو چھوڑ دیا۔

دنیا نے ایک بار پھر مایوس کن اور ناقابل فہم انداز میں دیکھا کہ طالبان دوبارہ اسی پوزیشن میں آ گئے ہیں جس سے وہ 2001 میں محروم کیے گئے تھے۔

........

یہ تحریر دا کنورسیشن کی اجازت سے چھاپی جا رہی ہے۔ اس کی مصنفہ سپی آزربائیجانی مقدم برطانیہ کی یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین