جب آسٹریلوی کمپنی پر طالبان کی ’حشیش پارٹنر‘ ہونے کا الزام لگا

آسٹریلیا کی ایک میڈیکل کنسلٹنسی کمپنی کو اس وقت ایک غیر متوقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب اس پر غلطی سے طالبان انتظامیہ کے ساتھ حشیش کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔

پانچ اپریل، 2017 کی اس تصویر میں ایک افغان سکیورٹی اہلکار صوبے ننگرہار میں غیر قانونی طور پر کاشت پوست کی فصل کو تلف کر رہا ہے(اے ایف پی)

آسٹریلیا کی ایک میڈیکل کنسلٹنسی کمپنی کو جمعرات کو اس وقت ایک غیر متوقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب اس پر غلطی سے افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے ساتھ حشیش کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سیفارم نامی اس کمپنی پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے طالبان کے ساتھ وسطیٰ ایشیا کے ایک ملک میں حشیش کی تیاری کے 45 کروڑ ڈالرز مالیت کے ایک پروسیسنگ پلانٹ کی تنصیب کا معاہدہ کیا ہے۔

افغانستان کے خبر رساں ادارے پاجھوک افغان نیوز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’آسٹریلیا میں فعال سیفارم کے نمائندوں نے وزارت داخلہ میں محکمہ انسداد منشیات حکام سے ملاقات کی تھی تاکہ اس پلانٹ میں ادویات اور کریمز کی تیاری پر بات چیت کی جا سکے۔

’اس طرح بھنگ کے استعمال کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی جو افغانستان میں بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے۔‘

اس رپورٹ کو ٹائمز آف لندن سمیت کئی عالمی خبر رساں اداروں نے شائع کیا۔

ٹائمز آف لندن نے اپنی رپورٹ میں اس آسٹریلوی کمپنی کا نام بھی بتا دیا، جس کے بعد بی بی سی اور مشرق وسطیٰ کے خبر رساں اداروں سے منسلک تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹس نے بھی آسٹریلوی کمپنی سے متعلق اس دعوے کو دہرایا۔

سیفارم، جو کہ آسٹریلیا میں ایک خاندانی کاروبار ہے، کے عملے میں میٹ لینڈ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 17 افراد شامل ہیں۔

اس کمپنی کے کسی فرد نے کبھی بھی طالبان سے بات نہیں کی اور نہ ہی اس کا بیرون ملک کوئی لین دین ہے اور نہ ہی یہ بھنگ کے حوالے سے کسی کاروبار میں ملوث ہے۔

ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے سیفارم آسٹریلیا کے چیف فنانسر ٹونی گیبائٹس کا کہنا ہے کہ ’ہم اس حوالے سے کام کر رہے ہیں تاکہ اس کو روکا جا سکے۔‘

اس کمپنی کا ہیڈکوارٹر سڈنی سے 100 میل دور واقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایک دن میں 40 سے 50 کالز موصول ہوئی ہیں۔ یہ سب قابو سے باہر ہو رہا ہے اور یہ سب جھوٹ پر مبنی ہے۔

’اس کی وجہ میڈیا کے لوگ ہیں جنہوں نے اس خبر کی اشاعت کے حوالے سے ضروری احتیاط سے کام نہیں لیا۔‘

گیبائٹس نے شبہ ظاہر کیا کہ ایسی اطلاعات نے ٹوئٹر پر موجود طالبان سے منسلک ایک اکاؤنٹ کی ٹویٹ سے جنم لیا جس میں کسی سیفارم نامی کمپنی کا نام لیا گیا تھا۔

یہ کمپنی دنیا کے کسی اور ملک میں ہے لیکن اس کا نام بھی سیفارم ہے۔

گیبائٹس کے مطابق سیفارم آسٹریلیا صرف دواسازی کی مصنوعات کے بارے میں طبی مشورے فراہم کرتی ہے۔

یہ کمپنی خود دواسازی کا کام نہیں کرتی لہٰذا یہ کسی بھی صورت میں مینوفیکچرنگ کا معاہدہ نہیں کر سکتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کمپنی 45 کروڑ ڈالرز بھی اکٹھے نہیں کر سکتی۔

گیبائٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم جن کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں وہ اس خبر کو دیکھیں گے اور اس پر ہنسیں گے۔‘

تاہم نیوز ویب سائٹ وائس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ شرم کی بات ہے کہ میڈیا کے ادارے نے اس بارے میں سچائی کی تصدیق نہیں کی۔

’کسی نے ہم سے اس بارے میں جاننے کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ انہوں نے ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور ہم نے بات کرنے سے انکار کیا تو یہ سچ نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا