پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل ہوں آخری نہیں: نگار جوہر

لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے پاکستان میں خواتین کو فوج میں شامل ہونے اور قیادت کرنے کا حق حاصل کرنے کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کی پہلی خاتون جنرل نگار جوہر کا کہنا ہے کہ ’میں پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل ہوں لیکن آخری نہیں۔‘ ان کے تھری سٹار رینک کا سفر پاکستان کے چھوٹے سے قصبے صوابی میں ایک ایسے خواب کے طور پر شروع ہوا جس کی تعبیر بظاہر ممکن نہیں تھی۔

صوابی ملک کے شمال مغرب میں قدامت پسند صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک شہر ہے۔

 اپنے فوجی افسر والد کے ساتھ اس لڑکی کو جنہیں جنرل بننا تھا، 1970 کی دہائی کے پورے پاکستان کا سفر کیا۔ وہ چھوٹے بڑے شہروں میں رہیں اور تمام مشکلات کے باوجود اپنے خواب کو زندہ رکھا۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک خواب ہے جو ان کے ساتھ ہی ختم نہیں ہوگا کیوں کہ حالیہ سالوں میں زیادہ سے زیادہ خواتین مسلح افواج میں شامل ہو رہی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل نگارجوہر کا کہنا ہے کہ ماضی میں خواتین صرف خواتین کے امراض میں سپیشلائزیشن کرنے والی ڈاکٹر کی حیثیت سے فوج میں شامل ہو سکتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج حالات بدل چکے ہیں اور مزید خواتین مختلف شعبوں میں سپیشلائزیشن اور مختلف کورز میں فوج کا حصہ بن رہی ہیں۔

جنرل نگار نے عرب نیوز کو بتایا: ’اب ہمارے پاس فوج کے بہت سے شعبوں میں خواتین موجود ہیں۔ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ، فن تعمیر میں۔ وہ ہر جگہ پھیل کر کام کر رہی ہیں۔‘

جہاں تک ان کا تعلق ہے انہوں نے فوج میں خواتین کی شمولیت کے حق اور قیادت کو یقینی بنانے کے لیے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔

 ایک نوجوان افسر کے طور پر جنرل نگار کی لگن اور پیشہ ورانہ مہارت نے معمول کے مطابق ان کے اعلیٰ افسران کی توجہ اپنی طرف مبذول کراوائی۔ سینیئر افسروں نے انہیں کمان اور اتھارٹی والے عہدے دیے۔

انہیں پہلا حقیقی قائدانہ کردار اس وقت حاصل ملا جب انہیں بریگیڈیئر کی حیثیت سے ایک ہسپتال کی کمان کی ذمہ داری دی گئی جسے وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتی ہیں۔

جنرل نگار کے بقول: ’قیام پاکستان کے بعد سے کسی بھی خاتون کو فوج میں کسی شعبے کی کمان نہیں دی گئی تھی۔ اس لیے میں جانتی تھی کہ مجھے ان خواتین کے لیے کامیابی یا ناکامی کی مثال قائم کرنی ہے جو میرے بعد آئیں گی۔‘

حیرت کی کوئی بات نہیں کہ انہوں نے ایک مثال قائم کی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ہسپتال میں ان کی کامیابی وہ وجہ ہے جس کی بنیاد پر ان کے اردگرد بہت سی خواتین کو مواقع ملے۔

ان کی کامیابی کا راستہ کئی سال پہلے شروع ہوا تھا جب وہ اپنے والد کو فوج کی وردی میں دیکھتیں اور ان کے ہر عمل کو اپنے لیے مثال سمجھتیں۔

ان کا خاندان فوج میں ہونے والی تعیناتیوں کے سبب ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا۔

وہ اپنے بچپن کے بارے میں کہتی ہیں کہ’مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا تعلق پورے پاکستان سے ہے۔ تمام صوبوں، بڑے اور چھوٹے شہروں کے ساتھ جو اس میں واقع ہیں۔‘

ان کے بقول: ’میرے والد میرے آئیڈیل تھے۔ میں نے انہیں شروع سے وردی میں دیکھا جس سے مجھے ڈاکٹر بن کر فوج میں بھرتی‘ ہونے کی ترغیب ملی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آرمی میڈیکل کالج سے گریجویشن کرنے کے چند سال بعد جنرل نگار 1989 میں ہونے والے ایک کار حادثے میں اپنے والدین سے محروم ہوگئی تھیں۔

بعد میں وہ پاکستان کی طاقت ور فوج میں تھری سٹار جنرل کے عہدے تک پہنچنے اور کور کی قیادت کرنے والی واحد خاتون بن گئیں۔

اب پیشہ ورانہ کامیابی کے عروج پر وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ وہ اکثر کمرے میں واحد خاتون ہوتی ہیں لیکن وہ ایسا نہیں سمجھتیں کہ دوسرے انہیں صنفی عینک سے دیکھتے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ’اس مقام پر آپ معاملات کو مرد یا عورت کے طور پر نہیں دیکھتے۔ اس مقام پر آپ معاملات کو پالیسیوں اور نظام میں بہتری کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

’جب آپ خود کو قیادت میں اعلیٰ ترین سطح پر ثابت کر چکے ہوتے ہیں تو لوگ آپ کے کام اور آپ کی کامیابی کی بدولت آپ کا احترام کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ یہاں ہیں کیونکہ آپ نے کامیابی حاصل کی ہےاور آپ نے محنت سے یہ مقام پایا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا