سرمائی اولمپکس چینی کمیونسٹ پارٹی کی بالادستی کے لیے ضروری کیوں؟

جب دنیا بھر کے سامعین و ناظرین سرمائی اولمپک کھیلوں کے ہیروز کے لیے تالیاں بجائیں گے تو وہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کو بھی داد دے رہے ہوں گے، چاہے وہ اسے پسند کرتے ہوں یا نہیں۔

چار فروری 2022 کی اس تصویر میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تبتن یوتھ کانگریس کے ارکان چین میں سرمائی اولمپکس کے انعقاد کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں(اے ایف پی)

چار فروری 2022 کو چین میں شروع ہونے والے بیجنگ سرمائی اولمپک کھیل صرف مصنوعی برف باری اور کوویڈ 19 کی بنا پر متنازع نہیں ہیں، ان کھیلوں کے متنازع ہونے کی اور بھی کئی وجوہات ہیں۔

یہ کھیل چینی ریاست کے عزائم اور طاقت کی ایک مضبوط سیاسی علامت ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے بانی ماؤ زے تنگ کی سو سالہ سالگرہ کے محض ایک برس بعد منعقد ہونے والے ان کھیلوں کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے جنرل سیکریٹری اور چین کے صدر شی جن پنگ اولمپکس کے انعقاد کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ چین طاقتور ہے اور قومی تجدید کے اپنے چینی خواب کو پورا کرنے کے راستے پر گامزن ہے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی اپنے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے کھیلوں کو ملک کے اندر کیسے استعمال کرے گی اور باقی دنیا اسے کس نظر سے دیکھے گی؟ پارٹی ان کھیلوں کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے جسے وہ اپنی کامیابی سمجھے گی؟

اندرون اور بیرون ملک مسابقتی بیانیہ

بعض مبصرین چین کی اٹھان کو سٹریٹیجک طاقتوں کے درمیان تصادم کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے لبرل ورلڈ آرڈر کو خطرہ لاحق ہے۔

بعض دیگر ماہرین کے مطابق چین کا عروج کوئی بری چیز نہیں اور ان کے نزدیک چین ایک ایسا ملک ہے جو چار ہزار سالہ تاریخ کا مالک ہے اور گذشتہ نصف صدی سے حیران کن معاشی ترقی کر رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسے ملک کا عروج بنتا ہے۔

چین کے عروج کے بارے میں ان متضاد خیالات نے اولمپکس سے پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر کافی بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی مغربی ممالک نے چینی صوبے سنکیانگ میں آباد اویغور اقلیت کے انسانی حقوق کی شدید پامالیوں اور سول سوسائٹی بالخصوص ہانگ کانگ میں جاری جبر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

ان ملکوں کی قیادت امریکہ کر رہا ہے اور ان میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور چند دیگر ملک بھی شامل ہیں۔

ان اولمپکس سے جڑے انسانی حقوق کے معاملات میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی ٹینس سٹار پینگ شوائی بھی شامل ہیں جن کے تحفظ کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔ اس واقعے سے چین کی بین الاقوامی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ 

تاہم چین کے اندر مقامی سطح پر اولمپکس کو ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے یہ مقابلے چینی عوام کے لیے سودمند ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان مقابلوں میں حصہ لے کر چینی کھلاڑی عالمی سطح پر اعزازات حاصل کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ کھیلوں کا بین الاقوامی سطح کی خوش اسلوبی سے اہتمام و انصرام کر چین کی کمیونسٹ پارٹی دنیا پر ثابت کرتی ہے کہ وہ کتنی عمدہ انتظامی صلاحیتوں کی مالک ہے۔ اس میں موجود بیانیہ حکومت کے ہاتھ مضبوط کرتا اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اداروں اور حکمتِ عملی کی ستائش کرتا ہے۔

چین کے عزائم میں کمیونسٹ پارٹی کا کردار

چین کے میڈیا نے بین الاقوامی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی کرونا سے متعلق سخت پالیسوں پر امریکی تنقید خود غرضی اور حماقت پر مبنی ہے اور امریکہ کو تو اولمپکس کے لیے مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔

چینی میڈیا کی طرف سے اس جارحانہ بیان بازی کا مقصد بین الاقوامی اشتعال انگیز عناصر کے خلاف ملک اور ملکی عوام کے تحفظ کے لیے مقامی سطح پر کمیونسٹ پارٹی کی بالادستی کا تاثر مزید پختہ کرنا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ کھیل چینی صدر شی جن پنگ کے لیے ایک موقع بھی فراہم کرتے ہیں کہ بیجنگ کے ’سمارٹ، ماحول دوست‘ اولمپک کھیلوں میں دنیا کا خیر مقدم کرتے ہوئے عالمی سطح پر چین کے بیانیے کو تقویت دی جا سکے۔

چین کی نام نہاد ’وولف واریئر ڈپلومیسی‘ نے بیرون ملک اس کے مفادات کو تحفظ دینے کی بجائے اسے نقصان زیادہ پہنچایا ہے۔ نتیجتاً شی جن پنگ نے پارٹی اراکین، چینی سفارت کاروں اور چینی میڈیا سے التجا کی ہے کہ وہ زیادہ شائستہ اور مہذب ہو کر ’چین کی زیادہ قابل اعتبار، خوبصورت اور قابل احترام تصویر‘ کو فروغ دینے کے لیے ’درست لب و لہجہ اختیار کریں۔‘ ان کے اس حکم کی سختی سے تعمیل کی گئی ہے۔

شی چن پنگ کے لیے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں کہ پارٹی اس بات کو دل سے قبول کرے اور پوری طرح عمل درآمد یقینی بنائے۔ ان کا پیغام یہی ہے کہ وہ جو کام بھی کرنا چاہتے ہیں اس میں پارٹی کا مفاد ہمیشہ اولین ترجیح ہے، بالخصوص لوگوں تک اپنا ’چینی خواب‘ واضح کرنے کے لیے۔

 اگرچہ چینی خواب کا اکثر ’امریکی خواب‘ (American dream) سے موازنہ کیا جاتا رہا ہے لیکن یہ واضح طور پر ایسا چینی خواب نہیں جس میں کچھ امریکی خواب کی خصوصیات شامل کر لی گئی ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی خواب میں انفرادی آزادیوں، سماجی گنجائشوں اور مادی کامیابیوں پر زور دیا جاتا ہے جو کسی کی ذاتی کاوشوں کی مرہون منت ہوتی ہیں۔

چینی خواب قومی بہبود پر مبنی ہے اور انفرادی خواہشات اور کامیابیوں سے بالاتر ہے۔ اس طرح چین کی کمیونسٹ پارٹی ایک بیانیے کی ترویج کرتی ہے اور وہ بیانیہ یہ ہے کہ صرف یہی پارٹی چینی عوام کے لیے چینی خواب کا حصول ممکن بنا سکتی ہے۔

سو جب کوئی چیز یا کوئی فرد پارٹی کی مرکزیت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے تو حکومت اپنے تحفظ کی مہم شروع کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر جب مغرب میں کچھ لوگوں نے ایسے شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ کرونا وائرس چینی شہر ووہان کی ایک لیبارٹری میں تیار کیا گیا تھا تو چینی وزارت خارجہ نے پلٹ کر بھرپور انداز میں جواب دیا اور سازشی نظریے کا جواب سازشی نظریے سے دیتے ہوئے الٹا یہ الزام لگا دیا کہ کرونا وائرس دراصل امریکی فوج نے ووہان میں پھیلایا تھا۔

گذشتہ سال چین کی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کے صد سالہ جشن کے موقعے پر شی جن پنگ نے تقریر کرتے ہوئے پارٹی کے اراکین کو یاد دلایا کہ کامریڈ شی جن پنگ سمیت ان کی پارٹی کی مرکزی قیادت ملک کی بنیاد اور اصل قوت  ہے، ایک ایسی بنیاد جس پر چینی عوام کے مفادات اور فلاح و بہبود کا انحصار ہے۔  

عوام کا کھیل؟

چینی عوام کے سامنے 2022 کے بیجنگ سرمائی اولمپک کھیلوں کی پیشکش اس بیانیے کے لیے ضروری ہے جسے شی جن پنگ اور پارٹی تشکیل دے رہے ہیں۔ انہیں چینی عوام کی ضرورت ہے کہ وہ چینی خواب کو اپنا خواب سمجھیں۔

اس ضرورت کا احساس اس زبان سے ہوتا ہے جو شی جن پنگ عوامی اجتماعات میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے اس مشترکہ خواب کے حصول کے مشکل راستے پر پارٹی کے ساتھ مل کر چلنے کے لیے عوام کو قائل کرنے کے لیے بھرپور منظر کشی سے کام لیا ہے۔

 چین اپنی معیشت کی مسلسل ترقی اور سرمائی اولمپکس جیسے اعلیٰ سطح کے ایونٹس کے انعقاد سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ بھی دکھا رہا ہے کہ اس کا طرز حکمرانی اعلیٰ ترین ہے۔

یہ کھیل کمیونسٹ پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا اشتہار ہیں کہ دیکھو اعلیٰ ٹیکنالوجی سے مالا مال ایک آمرانہ حکومت کیسے انتہائی موثر انداز میں اتنے بڑے ایونٹس منقعد کر سکتی ہے۔

دنیا کے موجودہ حالات میں ان کھیلوں کا انعقاد اس بات کا بھی اظہار ہے کہ چینی حکومت کرونا وائرس پر قابو پانے میں کس قدر سرخرو ٹھہری ہے، حالانکہ اس عمل کے دوران لوگوں کو ان کے گھروں میں مقید کر دینے اور چین میں رہائش پذیر افریقیوں کے ساتھ امتیازی سلوک جیسے عناصر بھی شامل ہیں۔

لہٰذا جب دنیا بھر کے سامعین و ناظرین سرمائی اولمپک کھیلوں کے ہیروز کے لیے تالیاں بجائیں گے تو وہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کو بھی داد دے رہے ہوں گے، چاہے وہ اسے پسند کرتے ہوں یا نہیں۔


یہ تحریر پہلے ’دا کنورسیشن‘ پر شائع ہوئی تھی اور اس کا ترجمہ ان کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مصنفین یان بنے اور جان گیرک ہیں۔ بنے امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی میں چینی مطالعات کے شعبے کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں، جب کہ گیرک آسٹریلیا کی چارلز ڈارون یونیورسٹی میں فیلو آف لا ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل