بیجنگ اولمپکس:مشعل بردار چینی فوجی کی شرکت پر بھارت ناراض

جون 2020 میں لداخ کی وادی گلوان میں بھارتی فوجیوں سے جھڑپوں میں حصہ لینے والے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے رجمنٹ کمانڈر کیوفاباؤ کو بیجنگ میں سرمائی اولمپکس کی مشعل برداری تقریب میں مشعل اٹھائےدیکھا گیا، جس پر بھارت اور امریکہ نے ناراضگی کا اظہار کیاہے۔

دو  فروری 2022 کی اس تصویر میں  چین کی  پیپلز لبریشن آرمی  کے  رجمنٹل کمانڈر کیو فاباؤ    بیجنگ میں سرمائی اولمپکس پارک میں  مشعل برداری کی تقریب میں شریک ہیں  (فوٹو: چائنا نیوز سروس/روئٹرز)

بیجنگ میں رواں ہفتے شروع ہونے والے سرمائی اولمپکس کی مشعل برداری کی تقریب میں بھارت کے خلاف جھڑپوں میں حصہ لینے والے چینی فوج کے کمانڈنگ افسر کی شمولیت پر بھارتی حکام کے بعد اب امریکی قانون ساز نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جون 2020 میں لداخ کی وادی گلوان میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں حصہ لینے والے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے رجمنٹ کمانڈر کیو فاباؤ کو چار فروری سے بیجنگ میں شروع ہونے والے سرمائی اولمپکس کی مشعل برداری تقریب میں مشعل اٹھائے ہوئے دیکھا گیا۔

کیو فاباؤ کی اولمپکس مشعل کے ساتھ تصاویر چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک ٹویٹ میں جاری کیں، جس کی بھارت کی جانب سے مذمت کی گئی۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارت کے بعد اب امریکہ کے ایک سینیئر سینیٹر نے بھی چین کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

جمعرات کو امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے رکن جم رِش نے بیجنگ کی جانب سے سرمائی کھیلوں کے لیے مشعل بردار کے انتخاب پر کڑی تنقید کی۔

امریکی سینیٹر کے مطابق چین کے فوجی افسر  2020 میں بھارت کے ساتھ خونی جھڑپوں میں ملوث ہونے کے ساتھ سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے اقدامات کے نفاذ میں بھی شامل رہے ہیں۔ 

چین کے اقدامات کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے سینیٹر رِش نے اویغور برادری کی آزادی اور بھارت کی خودمختاری کی حمایت کے لیے امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی اخبار نے مزید کہا کہ چین کی حکومت کی جانب سے کھیلوں کی تقریب میں ایک فوجی کی شمولیت پر خارجہ پالیسی کے ماہرین، صحافیوں اور سیاسی مبصرین نے کھل کر تنقید کی ہے۔

چینی رجمنٹ کے کمانڈر کیو فاباؤ 2020 میں لداخ میں ان جھڑپوں میں شامل تھے جس میں کم از کم 20 بھارتی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

اولمپکس کے 1,200 مشعل برداروں میں شامل کیو فاباؤ کو چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ہمالیہ کی جنگ میں ان کے کردار کے لیے ’ہیرو‘ کا خطاب بھی دیا۔

کیو فاباؤ نے گذشتہ سال دسمبر میں چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو بتایا تھا کہ وہ ’میدان جنگ میں واپسی اور دوبارہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘

بیجنگ سرمائی اولمپکس کا آغاز جمعہ (چار فروری) سے ہو رہا ہے لیکن امریکہ اور کئی دیگر مغربی نے چین کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اس ایونٹ کا سفارتی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا