راولپنڈی میں محبت کی داستان جو تقسیم کی نذر ہو گئی

یہ بظاہر کوئی فلمی کہانی لگتی ہے ایک لڑکے اور لڑکی کی پریم کہانی جس میں لڑکی ہندو ہے اور لڑکا مسلمان۔ لڑکی کے باپ کو خدشہ تھا کہ کہیں ہندو مسلم فساد نہ شروع ہو جائیں لہٰذا انہوں نے بیٹی کو راولپنڈی سے باہر بھجوا دیا، جو بمبئی جا کر فلمی ہیروئن بن گئی۔

شوبھا نے 1946 میں آنے والی فلم ’سفر‘ میں کام کیا تھا (فلمستان سٹوڈیوز)

یہ بظاہر کسی پرانی فلم کی کہانی لگتی ہے۔ راولپنڈی کے طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکی کی پریم کہانی جس میں لڑکی ہندو ہے اور لڑکا مسلمان۔

یہ بات ہے 1945 کی۔ لڑکی کا باپ شہر کا سول سرجن ہے اور لڑکے کا باپ راولپنڈی کا سب سے مشہور بیرسٹر اور مسلم لیگ کا ضلعی صدر۔ دونوں گورڈن کالج راولپنڈی میں ساتھ پڑھتے ہیں۔

محبت کی نظر دھرم کب دیکھتی ہے، یہ نفرت ہے جسے دھرم کے پیچھے پناہ مل جاتی ہے۔ اس دور میں بھی نفرتوں کا کاروبار عروج پر تھا، اس لیے لڑکی کے باپ کو خدشہ تھا کہ وہ کہانیاں جو کالج کے درو دیوار سے نکل کر شہر کے گلی کوچوں تک پھیل چکی ہیں، مسجدوں اور مندروں میں زیر بحث ہیں، کہیں عملی روپ نہ دھار لیں۔

اس نے سوچا کہ اگر میری لڑکی نے مسلمان لڑکے سے شادی کر لی تو اس سے نہ صرف اس کی عزت پر حرف آ سکتا ہے بلکہ اس کی یا اس کی بیٹی کی جان بھی جا سکتی ہے اور بات زیادہ بڑھ گئی تو یہ ہندو مسلم فسادات کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے کیونکہ لڑکے کا باپ بھی کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ پہلے لڑکے کے باپ کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ کون تھا۔

60 کی دہائی کے نامور ہندوستانی فلم سٹار بلراج ساہنی کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ ان کے بھائی بھیشم ساہنی بھی ایک نامور ادیب تھے۔ ان کا ناول ’تمس‘ جسے فلمایا بھی گیا، ہندو مسلم تضاد کی حرکیات بیان کرتا ہے۔

بھیشم ساہنی لکھتے ہیں کہ وہ شانتی نگر میں، جہاں بلراج زیر تعلیم تھے، ان سے ملنے گئے تو وہاں ان کی گاندھی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو گئی۔

گاندھی کو بتایا کہ میں راولپنڈی سے آیا ہوں تو انہوں نے اپنے دورۂ راولپنڈی کی یادیں تازہ کیں اور کمپنی باغ جو آج لیاقت باغ کہلاتا ہے، اس کے سامنے اس مکان کا بھی ذکر کیا جہاں وہ ٹھہرے تھے۔

انہوں نے راولپنڈی کے ایک وکیل جان صاحب کے بارے میں بھی پوچھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گاندھی نے ایک ہندو لڑکے سے شہر کے کسی ہندو یا سکھ کے بارے میں نہیں پوچھا اور اس رام پیارا ملک جو ایک وکیل تھا اس کے بارے میں بھی نہیں پوچھا جس کے لیاقت باغ کے سامنے واقع گھر میں گاندھی ٹھہرے تھے بلکہ ذکر کیا بھی تو ایک مسلمان وکیل بیرسٹر محمد جان کا۔

جان صاحب چونکہ کانگریس میں بھی رہے تھے اس لیے گاندھی جب شہر میں آئے ہوں گے تو ان کی بیرسٹر جان سے ملاقاتیں رہی ہوں گی۔

راولپنڈی میں گاندھی 1924 میں اس وقت آئے تھے جب کوہاٹ میں ہندو، مسلم، سکھ فسادات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نہ صرف ہلاکتیں ہوئی تھیں بلکہ تمام غیر مسلم کوہاٹ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے اور ان کی اکثریت پناہ کی تلاش میں راولپنڈی آ بسی تھی۔

قائداعظم بھی راولپنڈی میں ایک بار انہی بیرسٹر جان کی کوٹھی نمبر 216 میکلڈالا روڈ میں ٹھہرے تھے۔ محمد عارف راجہ جو کہ بیرسٹر جان کے منشی تھے، انہوں نے بعد ازاں اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب ’تاریخ راولپنڈی و تحریکِ پاکستان‘ لکھی۔

اس میں لکھا ہے کہ یونینسٹ پارٹی کے وزیر اعلیٰ سر سکندر حیات خان قائداعظم کے پنجاب میں داخلے سے بڑے بدکتے تھے، اس لیے ان کی مخالفت مول لے کر قائداعظم کو اپنے گھر میں ٹھہرانا بڑے دل گردے کا کام تھا اور یہ کام بیرسٹر محمد جان ہی کر سکتے تھے۔

سر سکندر حیات کا دور اقتدار چونکہ 1936 سے 1942 تک کا ہے اس لیے تاریخ سے ثابت ہے کہ قائداعظم راولپنڈی میں  دسمبر 1936 میں شیخ محمد اسماعیل کے ہاں ٹھہرے جن کا صدر میں اسماعیل اینڈ سنز کے نام سے ڈیپارٹمنٹل سٹور آج بھی اسی حالت میں محفوظ رکھا گیا ہے۔

اسی دورے میں بیرسٹر محمد جان جو ان کے مشہور برطانوی تعلیمی ادارے لکنز ان میں جونیئر فیلو تھے، ان کے گھر میں کچھ ملاقاتیں کیں اور کھانا کھایا۔

اس ملاقات کا تذکرہ شہر کی ایک بزرگ شخصیت حافظ عبد الرشید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسجد شہید گنج کے نیلی پوش رضا کاروں کو جب قائداعظم کے توسط سے رہائی ملی تو انہوں نے پنجاب کا دورہ کیا تھا اور راولپنڈی میں جسٹس جان کی کوٹھی پر نیلی پوش کارکنوں کو ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا جن میں ان کے علاوہ مولانا اسحٰق مانسہروی، سید مصطفیٰ شاہ خالد گیلانی بھی شامل تھے۔

میکڈالا روڈ پر واقع بیرسٹر جان کی وہ تاریخی کوٹھی اس وقت آٹھ کنال پر مشتمل تھی مگر اب اس کے کئی حصے ہیں جہاں الگ الگ مالکان رہائش پذیر ہیں۔ اب اس روڈ کا نام بدل کر طفیل روڈ رکھ دیا گیا ہے جو راولپنڈی کینٹ میں واقع ہے۔

ملک شیرنی خان جو اس وقت کافی بزرگ ہیں اور بیلجیئم میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اس کا نصف حصہ 1991 میں جان فیملی سے ہی خریدا تھا، جبکہ باقی آدھے حصے کی مالک ابھی بھی جان فیملی ہی ہے۔

محمد جان 1885 میں لال کڑتی کے ایک ممتاز گھرانے میں عطا محمد منشی کے گھر پیدا ہوئے۔ ڈینیز ہائی سکول سے مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ کو مزید تعلیم کے لیے انگلستان بھیج دیا گیا۔ لندن سے میٹرک کرنے کے بعد لکنز ان کالج، جہاں سے قائد اعظم بھی فارغ التحصیل تھے، وہاں سے1912 میں بیرسٹری کی ڈگری لی اور واپس آ کر راولپنڈی میں وکالت شروع کر دی۔

وہ راولپنڈی کے پہلے مسلمان بیرسٹر تھے ان سے پہلے صرف ہندو اور سکھ ہی بیرسٹر ہوا کرتے تھے جبکہ ججوں میں کوئی ایک بھی مسلمان نہیں تھا۔

بیرسٹر جان ایک خوش شکل اور خوش پوش وکیل تھے جو لال کڑتی سے روزانہ کچہری میں اپنی کار پر آتے تھے اور ہر دوسرے سال کار کا ماڈل بدل لیا کرتے تھے۔ مسلمان ہونے کے ناطے زیادہ تر مسلمانوں کے کیس انہیں ہی ملتے تھے۔

آنے والے سالوں میں ان کی وکالت کی دھاک بیٹھ گئی۔ وہ بلند پایہ مقرر بھی تھے اس لیے جب عدالت میں دلائل دیتے تو مخالف وکلا بھی فرط ِ حیرت میں مبتلا ہو جاتے۔

اس زمانے کی سیاسی تحریکوں میں بھی انہوں نے متحرک کردار ادا کیا تھا جن میں تحریک ہجرت، خلافت اور کھدر پوش تحریک بھی شامل تھی۔

حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے کھدر کا لباس زیب تن کر لیا۔ کانگریس کا بھی حصہ رہے لیکن پھر وہ سیاست سے کنارہ کش ہو گئے اور اپنی تمام تر توجہ وکالت پر مرکوز کر دی۔

راولپنڈی کی تاریخ کا سب سے دل خراش واقعہ 1926 کے فسادات ہیں جن کا بعد ازاں خاصا اثر ہندوستان کی تقسیم پر پڑا۔

ان فسادات میں مسلمانوں پر 302\436 کے مقدمات قائم ہوئے تو اس وقت مسلمانوں کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین بیرسٹر محمد جان ہی تھے۔ انہوں نے اتنے بھر پور دلائل دیے کہ کسی ایک مسلمان کو بھی سزا نہیں ہوئی۔

اس کے بعد آپ کی وکالت کا ستارہ ایسا چمکا کہ گجرات سے پشاور اور سرگودھا تک کی عدالتوں کے کیس آپ کے پاس آنے لگے۔

1938 سے 1946 کے درمیان آپ اپنے شعبے میں شہرت کی بلندیوں پر فائز رہے اور مسلم لیگ ضلع راولپنڈی کے صدر بھی رہے۔

1947 کے شروع میں جب ابھی پاکستان نہیں بنا تھا تو آپ کو لاہور ہائی کورٹ کا جج بنا دیا گیا آپ پانچ سال اس عہدے پر رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے تو حکومت پاکستان نے مشرقی و مغربی پاکستان کا کسٹوڈین مقرر کر دیا جس کے ذمہ مہاجرین کی بحالی و آباد کاری تھی۔ آپ کا انتقال 1959 میں ہوا۔

اب واپس آتے ہیں جسٹس جان کے بیٹے اعظم جان اور شہر کے سول سرجن ڈاکٹر بندرا کی بیٹی شوبھا کی لو سٹوری کی طرف۔

حسین احمد خان اپنی یادوں کی ایک مختصر کتاب ’راولپنڈی کی یادیں‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جب شوبھا اور اعظم جان کی محبت کے چرچے زبان زدِ عام ہوئے تو خدشہ پیدا ہوا کہ یہ کہیں ہندو مسلم فساد کی بنیاد نہ بن جائے۔ شوبھا کے والد ڈاکٹر بندرا نے اپنی بیٹی کو کسی بہانے پنڈی سے باہر بھیج دیا۔

’کچھ عرصے بعد شوبھا نے فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ 1946 میں شوبھا فلم ڈائریکٹر بھبوتی مترا کی مشہور فلم ’سفر‘ میں ہیروئن کے طور پر نمودار ہوئیں۔

ڈاکٹر بندرا چونکہ شہر کے بااثر آدمی تھے اس لیے راولپنڈی کے سینماؤں میں انہوں نے فلم کی نمائش رکوا دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہمیں پاکستان بننے کے بعد یہ فلم دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ اسی فلم کا مشہور گانا ’کہہ کر بھی نہ آئے تم، اب چھپنے لگے تارے۔ دل لے کے تم ہی جیتے، دل دے کے ہم ہی ہارے‘ محمد رفیع نے گایا تھا۔

گوپال سنگھ نیپالی کے لکھے ہوئے اس گیت کی موسیقی سی رام چندر نے ترتیب دی تھی جو اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی مقبول ہے۔

شوبھا کا ذکر فلم ’سفر‘ کے بعد سننے میں نہیں آیا، البتہ اعظم جان جو ایک سمارٹ نوجوان تھا، اس نے پاکستان ایئر لائنز کو بطور پائلٹ جوائن کر لیا۔‘

حسین احمد خان نے ذکر نہیں کیا لیکن اسی فلم میں شوبھا نے کانو رائے کے ساتھ مل کر ایک گیت بھی گایا تھا جو یو ٹیوب پر موجود ہے۔ 

 

کہا جاتا ہے کہ اعظم خان نے شوبھا کی محبت کو بھولنے کے لیے کئی محبتیں کیں۔ لیکن شوبھا گورڈن کالج راولپنڈی میں پروان چڑھنے والی محبت کی اس کہانی کو بھلا پائی یا نہیں، کچھ پتہ نہیں۔

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کہانی جاری ہے، لیکن تاریخ کے صفحات پر جسٹس جان اور ڈاکٹر بندرا کے بڑے ناموں کی وجہ سے یہ لو سٹوری جگہ نہیں پا سکی اس لیے باقی کی تاریخ میں فلم سٹار شوبھا بھی کھو گئی ہے اور جسٹس جان کا بیٹا اعظم جان بھی گم شدہ ہے۔

لیکن یہ کہانی زندہ بھی ہوتی تو سرحدوں کے آر پار موجود نفرتوں کی دیواروں کو کتنا پاٹ سکتی تھی؟

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ