’مجھے اپنا جسم بہت استعمال شدہ اور قابل نفرت لگتا تھا‘

گلوکارہ جنہیں کم عمری میں ریپ کے بعد توجہ کی کمی اوردماغ کے زیادہ فعال ہونے کے نفسیاتی مسئلے کا سامنا تھا۔

22 سالہ گلوکارہ گلووی

آئس لینڈ کی جواں سال پوپ گلوکارہ گلووی کو ٹیٹو بہت پسند ہیں۔ ان کی انگلیوں پر نظر ڈالیں تو آپ کو ان کے ایک ہاتھ پر سارہ ( ان کا پہلا نام ) اوردوسرے پر 1997 ( ان کی پیدائش کا سال ) کے الفاظ دکھائی دیں گے۔ گلووی کی کلائیوں پران کی آبائی زبان میں والد اور والدہ کے نام کے ٹیٹو بنے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کے پالتو کتے کا نام بھی لکھا ہے لیکن جو اگلا ٹیٹو وہ بنوانے کا ارادہ رکھتی ہیں وہ بڑے سائز کا ہوگا۔ پسلیوں پر بننے والا یہ ٹیٹو ان پر ہونے والے جنسی حملے کے خلاف ہیش ٹیگ کے الفاظ ’ #fknbodyproud ‘ پر مشتمل ہوگا۔

22 سالہ گلوکارہ گلووی ( پورا نام : سارہ پیٹرس ڈوٹیر )  نے اپنے ارادے کا اظہار انسٹا گرام پوسٹوں میں کیا جہاں وہ ٹی شرٹ میں دکھائی دیتی ہیں جس پر’ ایک خاتون کا جسم اس کا اپنا معاملہ ہوتا ہے ‘ کے الفاظ درج ہیں۔ انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں وہ بغلوں کے بالوں یا کپڑوں پر لگے ماہواری کے خون کے ساتھ نظر آتی ہیں۔

گلووی طویل عرصے تک انسٹاگرام پر نظر نہیں آئیں لیکن جب دوبارہ منظر عام پر آئیں تو ایک بیان کے ساتھ جس سے ان کے نصب العین کی وضاحت ہوتی ہے۔ یہ بیان ’ اپنے جسم سے عام لوگوں کو مثبت انداز میں متاثر کریں ‘ کے الفاظ پر مشتمل ہے۔ اگر یہ محض ایک نعرہ لگے تو گلوکارہ کے گانے سنے جائیں یا ان کی انسٹاگرام پر اشتعال انگیز پوسٹوں پر نظر ڈال لی جائے یا پھر ان کے ساتھ  ان کے ساتھ صرف 5 منٹ گزارنے سے بھی تصدیق ہو جائے گی۔ اکیلا گایا گیا ان کا پہلا گانا ’ جسم ‘ کسی بھی سننے والے کو معمول سے ہٹ کر محسوس ہوگا۔ اس گانے کے الفاظ ہیں ’ یہ جسم ہے / اور میں واقعی اس کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں۔‘

گلووی کی جانب سے اپنے جسم پر اتنے سخت دعوے کی ایک وجہ ہے : ایک طویل عرصے تک انہیں اپنے جسم سے نفرت تھی۔ لندن کے وکٹوریا اینڈ البرٹ کے عجائب گھرکے کیفے میں بیٹھی گلوکارہ بتس رہی تھیں کہ وہ بہت دبلی پتلی تھیں اس لیے سکول میں ان پر دھونس بھی جمائی گئی۔ وہ اپنے آبائی قصبے رکجاوک سے چند ماہ پہلے ہی لندن منتقل ہوئی تھیں۔ وہ یہاں آتے یوئے راستہ بھولنے سے بچنے میں کامیاب رہیں اور یہاں آنے کے بعد انہوں نے نروس ہو کر کئی بار معذرت کی۔

آئس لینڈ کی رہائشی گلوکارہ نے بتایا کہ وہ بہت دبلی پتلی تھیں جس کی وجہ ہر وقت بے چین رہنا تھا۔ ’مجھے کچھ مہینوں تک بھوک نہیں لگی جس سے میرے وزن میں تیزی سے کمی ہوئی۔ سکول میں انہوں نے مجھ  پر کچھ زیادہ ہی دھونس جمانی شروع کردی کیوں کہ میں ایک ڈھانچہ بن کر رہ گئی تھی۔‘

گلووی کی عمر کچھ بڑھی تو ان کے جسم کے ساتھ وہ سلوک ہوا جس سے ان کے اپنے جسم کے ساتھ تعلق کو مزید نقصان پہنچا۔ وہ بڑے سکون کے ساتھ بتاتی ہیں کہ کم عمری میں ان کا ریپ کیا گیا۔ اس سکون سے ایسا لگتا ہے انہیں لوگوں کے خوف زدہ ہو کر ظاہر کیے جانے والے ردعمل کی عادت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بعض اوقات وہ بھول جاتی ہیں ان کی داستان سننا کچھ لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن کسی نے انہیں جنسی تسکین کا کھلونا سمجھ کر ان کے ساتھ جو سلوک کیا اس کے بعد ان کی اپنے جسم کے بارے میں سوچ متاثر ہوئی اور وہ اپنے جسم سے نفرت کرنے لگیں۔

’یہ محض ایک احساس کی بات ہے۔ یہ محض نفرت ہے۔ آپ کو ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کو ہر چیز سے نفرت ہو۔ یہ بہت خوفناک احساس ہے۔ لیکن مجھے ایسے لگا کہ میرے گا سکنے کی عادت نے علاج کے دوران میری مدد کی۔ میں صرف گاتے ہوئے ہی ہر چیز کو نظر انداز کرکے اپنے اندر مزید خود اعتمادی پیدا کر سکتی تھی اور اپنے جسم سے دوبارہ پیار بھی محسوس کرتی تھی۔

گلووی کو اپنے اس تجربے کے بارے میں کھل کر بات کرنے میں کچھ وقت لگا لیکن وہ اسے مزید چھپانا نہیں چاہتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اس سوچ کے تحت خاموش نہیں رہنا چاہتی کہ ایسے حساس موضوعات پر بات کرنا درست نہیں ہے۔ میں وہی بننا چاہتی ہوں جو میں ہوں۔ میں مشکل معاملات پر بات کرنے کے قابل ہونا چاہتی ہوں تا کہ مجھے علاج میں مدد ملے اور مضبوط بن سکوں جبکہ دوسرے لوگ بھی ایسے معاملات پر بات کر سکیں۔

گلووی کے مطابق یہ کسی بھی جذباتی صدمے کا اہم حصہ ہے کہ آپ اس مقام پر پہنچ جائیں جہاں آپ اندر کے تمام احساسات باہر لا سکیں۔ لوگ بعض اوقات اس سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں لیکن یہ صورت حال ایسی ہوتی ہے کہ آپ پر رکھا ہوا وزن ہٹ جائے اورآپ خود کو اتنا ہلکا پھلکا اور مضبوط محسوس کریں کہ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہوں۔ 

وقت گزرتا رہا اور 2018 میں گلووی کا گانا ’ جسم ‘ ریلیز ہوا۔ 4 سال بعد انہوں نے آئس لینڈ میں ہونے والا گانوں کا ایک مقابلہ جیتا لیکن معاہدوں کی 11 پیشکشیں مسترد کردیں۔ ایک سال بعد انہوں نے ’ کولمبیا ‘ ادارے سے گانے ریکارڈ کروانے کے اہم معاہدے پر دستخط کئے۔

گلوکارہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد انہیں مزید اعتماد ملا اور وہ اپنے بارے میں بہت اچھا محسوس کر رہی تھیں اور چاہتی کہ دوسرے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی سوچیں۔

کیا وہ سمجھتی ہیں کہ حالیہ برسوں میں خواتین کو جسمانی خود مختاری کے اظہار کی اجازت ہے؟  

اس سوال پر گلووی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ درست سمت میں بڑھتا قدم ہے اگرچہ اس کی رفتار کم ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ یہ ایک طویل عمل ہے لیکن میرا خیال ہے بالآخر ایسا ہو گا۔ ان کی رائے میں موسیقی اتنا مضبوط ہتھیار ہے جس کی مدد سے ایسے معاملات کو سامنے لایا جا سکتا ہے تاکہ لوگ اس پر بات کر سکیں۔

خاص طور پر خواتین کو اجازت دینا کہ وہ جو چاہے پہنیں۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں اس لباس میں ان کا جسم کس حد تک دکھائی دیتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ لوگوں کو چھونے یا جنسی خواہش کے زیر اثر دیکھنے کی اجازت دینے کی بات کر رہے ہیں۔ گلووی کے مطابق یہ صرف آپ کے آپ ہونے، مرضی کا لباس پہننے اور آزادی سے بولنے کی اجازت کی بات کی جا رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ وقت جلد آئے گا جب یہ سب درست سمجھا جائے گا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Depression

A post shared by Glowie (@itsglowie) on

گلووی کو اصرار ہے کہ وہ اپنے فن کارہونے یا کسی عوامی خدمت کو بڑی بات نہیں سمجھتیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ صورت حال کی بہتری  کے لیے وہ کسی رد عمل سے نہیں ڈرتیں۔ وہ کہتی ہیں جب آپ ایک موسیقار کی حیثیت سے کرئیر شروع کرتے ہیں تو آپ کو ایک چھوٹے سے ڈبے میں اپنی پوری شخصیت کو سمونا پڑتا ہے۔ لیکن آئس لینڈ سے تعلق ہونے کی بدولت مجھے خطرات کا سامنا کرنا اور غیر متوقع نتائج والے کام کرنا اچھا لگتا ہے۔ گلوکارہ مزید کہتی ہیں کہ وہ چھوٹے ڈبے میں پورا آنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن ابھی تک یہ جائزہ بھی لے رہی ہیں کہ ڈبے کے اندر ہے کیا؟

’ کولمبیا ‘ کا لیبل گلووی کے لیے بہت مدد گار ثابت ہوا ہے اگرچہ معاہدے کے بعد ہونے والی ملاقاتوں کے چند مہینے بہت بہت مشکل تھے۔ گلووی کہتی ہیں کہ سب کچھ انگریزی میں تھا جس کی وجہ سے انہیں معاملہ سمجھنے کے لیے معمول سے  زیادہ توجہ دینی پڑی۔ اس دوران جو باتیں ہوئیں وہ انہیں بھول چکی ہیں، گلوکارہ کے مطابق کسی بھی ملاقات کے بعد وہ ایک گھنٹے میں اس کی تمام تفصیل بھول چکی تھیں۔ ’صورت حال خاصی مشکل ہوتی جا رہی تھی اس لیے میں نے ماہر نفسیات کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تاکہ میں اپنے مسئلے کو سمجھ سکوں۔ آخر بالکل واضح ہو گیا کہ مجھے توجہ کی کمی اورضروریات سے زیادہ فعال ہونے کے نفسیاتی مسئلے ( اے ڈی ایچ ڈی ) کا سامنا تھا۔‘

گلووی کے مطابق مرض کی بروقت تشخیص سے انہیں بہت فائدہ ہوا۔ بیماری کے علامتوں پر قابو پانے کے لیے انہیں ادویات بتائی گئیں اس طرح ان کی تمام زندگی بالکل دوبارہ سے شروع ہوئی تھی۔ وہ بہت جذباتی تھیں۔ انہیں محسوس ہوا کہ دوائیں اپنا اثر دکھا رہی ہیں۔ وہ مسلسل 3 گھنٹتے تک باتیں کرتیں اور ان کی توجہ  سارا وقت موضوع پر برقرار رہتی تھی۔ اس طرح انہیں نہ صرف توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملی بلکہ اعتماد بھی ملا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

@florencegiven

A post shared by Glowie (@itsglowie) on

گلووی مزید بتاتی ہیں کہ  علاج کے بعد وہ کھل کر بات کرنے لگی تھیں۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ، بوائے فرینڈ اور ان لوگوں سے جن کے ساتھ وہ کام کرتی تھیں پوچھا کہ انہیں گلووی میں کیا تبدیلی محسوس ہوتی ہے ؟ سب کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ایک دیوار تھی جو اب گر چکی ہے اور اب وہ انہیں ( گلوکارہ کو ) صاف دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ حقیقت میں سارہ سے بات کر رہے ہیں۔

گلووی کہتی ہیں کہ ادویات نہ لینے کی صورت میں انہیں ہر چیز حرکت کرتی محسوس کرتی، اپنا وجود تیرتا ہوا اور دوسرے گھومتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ادویات لینے کے بعد سب کچھ پرسکون اور خاموش لگتا ہے اور وہ سب کچھ دیکھ اور سن سکتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین