تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟

حال ہی میں میلسی میں ایک جلسہ عام میں وزیر اعظم نے انتہائی قابل اعتراض الفاظ کا چناؤ کیا جو کسی طرح بھی ایک اہم عوامی عہدے پر فائز شخص کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان 19 دسمبر 2021 کو اسلام آباد میں اسلامی تعاون کی 57 رکنی تنظیم،او آئی سی، کے خصوصی اجلاس کے افتتاح کے دوران خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


سیاست میں اپنے مخالفین پر زبانی تیر و تفنگ چلانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ہم نے حال ہی میں دیکھا کہ امریکی انتخابات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف مخالف پارٹی کے امیدواروں پر ناشائستہ زبان سے بھرپور حملے کیے بلکہ اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں کو بھی اخلاق سے گرے تیزابی تیروں کی زد میں رکھا۔

اس انتخابی مہم میں وہ نہ صرف مخالفین پر طنز کے مسلسل وار کرتے رہے بلکہ انہوں نے اخلاق سے گرے الزامات لگانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے کے اس نئی انداز نے امریکی سیاست میں گہری تقسیم پیدا کردی جس کی وجہ سے اب سیاسی مخالفتیں، ذاتی مخاصمتوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ دونوں اطراف ایک دوسرے کی معقول بات کو بھی سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے امریکی سیاست میں اس گرما گرمی کے علاوہ ایک اور جدت بھی متعارف کروائی۔ امریکہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک منتخب صدر دوران صدارت اپنے مخالفین کے لیے مسلسل قابل اعتراض غیراخلاقی اور ناشائستہ گفتگو استعمال کرتے ہوئے نظر آئے۔ ٹرمپ نے اس طرز تکلم کا نشانہ نہ صرف اپنے مقامی سیاسی حریفوں کو بنایا بلکہ بین الاقوامی رہنما اور مدبر بھی ان کے درشت اور غیرمہذب زبانی حملوں کا شکار ہوئے۔

پاکستان میں بھی سیاسی مخالفین کے بارے میں سخت اور بے ہودہ زبان کا استعمال عام رہا ہے۔ مخالفین کے لیے غیرشائستہ زبان کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے کیا۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں اپنے مخالفین کو کسی طرح نہیں بخشا، کسی کو ’ڈبل بیرل خان‘ کہا اور کوئی ’الو خان‘ قرار پایا۔ ایک آدھ کو چوہا بھی کہا گیا۔

مذہبی رہنماؤں خصوصاً جماعت اسلامی کے امیر کو انتہائی رکیک حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات کے ذریعے ان کے خلاف نازیبا القابات کا استعمال کیا گیا اور ’ایک مودودی سو یہودی‘ جیسے نفرت انگیز نعرے اس اخبار کے ذریعے مشہور کروائے گئے۔ غرض 1970 کی اس زہریلی انتخابی مہم سے پاکستان میں سیاسی مخالفین کے لیے لفظی عدم برداشت کی ابتدا ہوئی۔

یہ روایت بعد کے انتخابات میں بھی جاری رہی اور پچھلے انتخابات میں اسے ایک نئی بلندی پر لے جایا گیا۔ اس منفی روایت کا عموماً استعمال صرف انتخابی مہمات میں کیا جاتا رہا اور منتخب وزرا اعظم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد محتاط زبان کا استعمال کیا۔ انہوں نے مخالفین کے لیے انتخابی مہم کے دوران نازیبا زبان سے اجتناب کیا۔

لیکن اب موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس قدرے بہتر روایت کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے آپ کو اب بھی حزب مخالف کا رہنما سمجھتے ہیں اور اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد بھی اسی انتخابی مہم والے تیزابی اور جارحانہ لب و لہجے کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم اور حزب مخالف کے رہنماؤں کے طرز تکلم میں امتیاز ضروری ہے۔ وزیر اعظم پوری قوم کا رہنما ہوتا ہے اور بہت سارے نوجوانوں کو اپنے کلمات کے ذریعے متاثر کرتا ہے۔ ان کی ذہن سازی میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر وزیر اعظم عوامی جلسوں میں غیر مہذب زبان کا استعمال کر رہے ہوں تو وہ ہمارے نوجوانوں کیا سبق سیکھیں گے؟

سیاسی مخالفین کے نام بگاڑنا اور لچر ذومعنی الفاظ کا استعمال کرنا شاید شیخ رشید جیسے سیاست دانوں کو تو زیب دیتا ہو مگر آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ اور دنیا کے بیشتر ممالک کو ان کے رہنماؤں سے بہتر سمجھنے والے وزیر اعظم کا اس قسم کا لب و لہجہ اختیار کرنا مناسب دکھائی نہیں دیتا۔

حال ہی میں میلسی میں ایک جلسہ عام میں وزیر اعظم نے انتہائی قابل اعتراض الفاظ کا چناؤ کیا جو کسی طرح بھی ایک اہم عوامی عہدے پر فائز شخص کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔ نامناسب الفاظ کے استعمال کے ساتھ وزیراعظم جلسے میں شریک عوام کی بھی ان غیر شائستہ الفاظ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔

اسی طرح ایک منتخب وزیر اعظم کس طرح اپنے مخالفین کو ان سے عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد نمٹنے کی دھمکی دے سکتا ہے اور ایک سابق صدر کو اپنی بندوق کے نشانے پر رکھنے کی اطلاع دے سکتا ہے۔

کیا وزیر اعظم عمران خان عدم اعتماد کے ووٹ میں کامیابی کے بعد حزب مخالف کے رہنماؤں کے خلاف قانون سے بالا کوئی اقدام اٹھانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟ کیا ان کے سامنے آئین اور قانون کی کوئی حیثیت نہیں؟ ان کے ایسے الفاظ سے احتساب کا عمل اور احتسابی اداروں کے پچھلے چند سالوں سے زیادہ کے اقدامات پر شک کے بادل اور گہرے ہوگئے ہیں۔

میلسی کے بعد کے جلسے میں وزیر اعظم بظاہر اسٹیبلشمنٹ پر بھی حملہ آور ہوئے اور اپنے غیر مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے بظاہر ان کی مبینہ غیرجانبداری کو جانور کے رویئے سے تشبیہ دے دی۔

تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے والے وزیر اعظم کے سابق مشیر افضل چن نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا کہ ان کی جانب سے عمران خان کو کابینہ اجلاس میں نازیبا زبان استعمال کرنے سے منع کرنے کے مشورے پر انہیں نہ تو وزیر اعظم اور نہ دیگر شرکا کی جانب سے کوئی جواب ملا جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس طرز تکلم کے سب سے بڑے داعی خود عمران خان ہیں۔

وزیر اعظم کی حالیہ تقریروں سے یہ بھی لگ رہا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے اور سیاسی مشکلات سے بچنے کے لیے بہانہ تلاش کرتے ہوئے اپنی مبینہ آزاد خارجہ پالیسی کی وجہ سے عدم اعتماد کی تحریک کو ان کے خلاف مغربی سازش سے تعبیر کرنے لگے ہیں۔

یہ ایک خطرناک چال ہے جو ملک کے وسیع تر مفادات اور سلامتی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اگر حکومت واقعی آزاد خارجہ پالیسی چلا رہی ہے تو کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں آخری وقت شریک نہ ہونے کی کیا وجہ تھی؟ امریکہ اور یورپی یونین کو عوامی جلسوں میں آڑے ہاتھوں لینا بہت بری سفارت کاری ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تو وہ امریکہ کے دورے کے بعد واپسی پر اسے اپنی ورلڈ کپ کی فتح سے تشبیہ دے رہے تھے۔ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہاں پر ان کی فتوحات کے باوجود اب امریکہ ان کے خلاف سازشوں میں کیوں مصروف ہو گیا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یورپی یونین کے سفیروں کا خط ایک غیر سفارتی قدم تھا جس کا جواب معاملے کی حساسیت کی وجہ سے موثر اور خاموش سفارت کاری سے ہی دیا جاسکتا تھا۔ اس کا عوامی جلسے میں جواب دینا ہمارے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے ہرگز مناسب نہیں تھا۔ وزیر اعظم کے اس غیر سفارتی مکالمے نے ہماری یورپ کو برآمدات اور ان برآمدات کے لیے خصوصی رعایتوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

وزیر اعظم کا پورا سماجی اور سیاسی سفر ان کے طرز تکلم پر منحصر رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ذاتی کشش اور متاثر کرنے والے بیانات کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو ان کے سماجی کاموں میں اربوں روپے کے عطیات دینے پر قائل کیا اور ابھی تک ان بیش بہا عطیات کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے اپنی متاثر کن شخصیت کے سحر کے ذریعے اپنی سیاسی ساکھ بڑھائی اور اہم سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے۔ اسی زبان کے استعمال سے انہوں نے فیصلہ کن اداروں کی حمایت بھی حاصل کی اور اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوئے۔

وزیر اعظم کو چاہیے کہ اس قابل احترام اور اہم عہدے پر رہتے ہوئے اور اس کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے اپنی زبان کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ ان کے اشتعالی بیانات سے متاثر ہو کر اب ان کے ایک وزیر نے حزب مخالف کے رہنماؤں پر خودکش بمبار بن کر حملہ کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔ 

حکومت سے باہر رہتے ہوئے تو ہر قسم کے دعوے اور بیانات دیے جاسکتے ہیں مگر ایک ملک کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے انہیں اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہیں جلتی پر اپنے زبانی حملوں سے تیل چھڑکنے کی ضرورت نہیں بلکہ مدبرانہ زبان کے استعمال سے ملک میں سیاسی اشتعال اور ہیجان میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔

حزب اختلاف نے ایک آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا ہے اور حکومت کو اس کا آئینی اور قانونی جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔


نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ