پاكستان كیمپوں كی سیاست پر یقین نہیں ركھتا: آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد میں سکیورٹی ڈائیلاگ 2022 سے خطاب میں گذشتہ ماہ بھارتی كروز میزائل كے پاکستانی سرزمین میں گرنے كو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دنیا میں مختلف كیمپوں كا ذكر كرتے ہوئے كہا ہے كہ پاكستان كیمپوں كی سیاست (Camp Politics) پر یقین نہیں ركھتا۔

اسلام آباد میں منعقدہ سكیورٹی ڈائیلاگ 2022 سے خطاب كرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اپنے شراکت داروں سے تعلقات کو دوسرے ملک سے تعلقات کی قیمت پر قائم کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔‘

آرمی چیف نے اس موقع پر چین سے تعلقات اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ بھی ہمارے اہم سٹریٹجک تعلقات ہیں۔‘

’ہم دونوں ملکوں کے ستھ اپنے تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپی یونین، برطانیہ، خلیجی ممالک اور جاپان بھی ہماری ترقی کے لیے اہم ہیں۔‘

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ امن و استحکام، كسی بھی ملک كی خوشحالی و ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، پاكستانی قوم نے بے شمار قربانیاں دے كر دہشت گردی پر قابو پایا ہے اور یہ جنگ آخری دہشت گرد كے خاتمے تک جاری رہے گی۔

انہوں نے كہا كہ خطے کو دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور غربت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ 

افغانستان کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان اہم اقتصادی خطے میں واقع ہے، خطے کی سکیورٹی اور استحکام پاكستان كی پالیسی میں شامل ہے، جبکہ افغانستان پر پابندیاں افغان عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ 

جنرل قمر جاوید باوجہ كا مزید كہنا تھا كہ اسلام آباد نے عالمی برادری كے تعاون سے افغانستان كے عوام کی ہر ممكن طور پر مدد کی، تاہم اس سلسلے میں مزید کام کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاكستانی فوج كے سربراہ نے گذشتہ ماہ بھارتی كروز میزائل كے پاکستانی سرزمین میں گرنے كو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم بھارت کے ساتھ تمام معاملات بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے اور اسلام آباد نئی دہلی كے ساتھ آبی تنازع بھی سفارت کاری کے ذریعے حل كرنا چاہتا ہے۔   

انہوں نے ہمسایہ ملک بھارت سے مطالبہ كیا كہ وہ اسلام آباد اور دنیا كو اپنے ایٹمی ہتھیاروں كے محفوظ ہونے سے متعلق ثبوت فراہم كرے۔ 

انہوں نے سكیورٹی ڈائیلاگ كی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ آج ہمیں پہلے سے زیادہ فکری بحث و مباحثے کے لیے ایسی جگہوں کو ابھارنے اور فروغ دینے کی ضرورت ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ اشتراک کے لیے اکٹھے ہوں۔‘

ان کا خیال تھا کہ اس طرح کی جگہیں خاص اہمیت کی حامل ہیں جہاں عظیم شخصیات تصادم کے بجائے عالمی تعاون کی ضرورت کو پہچان سکتے ہیں۔ 

جنرل قمر جاوید باجوہ نے روس یوكرین جنگ پر تشویش كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ یہ تنازع كسی كے مفاد میں نہیں ہے اور اس كے حل كے لیے مذاكرات كو اہمیت دی جانی چاہیے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ روس کے جائز سکیورٹی مسائل کے باوجود چھوٹے ملکوں کے خلاف جارحیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، پاکستان چاہتا ہے کہ یوکرین میں فوراً جنگ بندی کی جائے، یوکرین کا معاملہ بہت بڑا سانحہ ہے اور اس کے ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں پناہ گزیں بن گئے ہیں جبکہ آدھا ملک تباہ ہوچکا ہے۔ 

جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ کئی وجوہات کے باعث پاکستان اور روس کے تعلقات کافی عرصہ سرد رہے، تاہم حالیہ عرصے میں روس سے تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان