پاکستان میں ’عجب گجب ہلچل‘ پر بھارتی میڈیا کی دلچسپی

بھارت میں سوموار کو شائع ہونے والے بیشتر اخبارات نے عمران خان کے ’سرپرائز،‘ اپوزیشن کے بیانات و اقدامات اور سپریم کورٹ کی مداخلت کو صفحہ اول پر نمایاں جگہ دی ہے۔

ایک آدمی 14 مارچ 2022 کو نئی دہلی میں ایک بند دکان کے سامنے اخبار پڑھ رہا ہے (تصویر: اے ایف پی)

’عمران خان نے سرپرائز دے کر سب کو چونکا دیا۔ پاکستان کے صدر عارف علوی نے پارلیمان کو تحلیل کرنے کی ان کی سفارش کو منظوری دی ہے۔ اب وہاں 90 دنوں کے اندر نئے انتخابات ہو سکتے ہیں۔‘

بھارتی ہندی نیوز چینل ’اے بی پی نیوز‘ کی خاتون نیوز اینکر نے اتوار کو جب یہ خبر پڑھی تو ان کا اداس چہرہ اور نرم لہجہ دیکھ کر صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے عمران خان کی وزیر اعظم کے عہدے سے چھٹی کی خبر دینے کی زیادہ منتظر تھیں۔

پاکستان کی طرح بھارت میں بھی صحافیوں کو توقع نہیں تھی کہ عمران خان عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کروا کے اپنی ’سرپرائز‘ والی بات کو اس طرح سچ ثابت کریں گے۔

بھارتی نیوز چینلز پر اتوار کو پاکستان میں پیدا ہونے والا سیاسی بحران دن بھر چھایا رہا اور اس پر مباحثوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ چوں کہ توقع کے برخلاف عدم اعتماد کی تحریک مسترد کر دی گئی لہٰذا مباحثوں میں اس اقدام کو غیر آئینی و غیر جمہوری ٹھہرانے، اپوزیشن کا حق مارنے، فوج کی ممکنہ مداخلت اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر خوب بحث ہوئی۔

نیوز چینل ’آج تک‘ پر منعقدہ مباحثے میں بھارتی فوج کے سابق افسر میجر جنرل وشمبر دیال نے دعویٰ کیا کہ کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ کی حرکت بھی عمران خان نے ہی شروع کی تھی۔

’عمران خان نے آج جو کیا وہ بھی بال ٹیمپرنگ جیسا ہی ہے۔ اپوزیشن کے اراکین پارلیمان کے ذریعے فیصلہ چاہتے تھے لیکن اس کے برعکس عمران خان بار بار اپیل کر کے عوام کو بھڑکا رہے ہیں۔

’پاکستان میں عوام کے جذبات کو بھڑکانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کسی دوسرے ملک پر الزام لگاؤ۔ پاکستان کے سیاسی حالات اب غیر مستحکم ہوں گے۔ اس بیچ پاکستانی فوج مداخلت کر کے کسی کو ملک کا سربراہ چنے گی یا ملک کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھوں میں لے گی۔‘

مباحثے میں شریک سابق بھارتی سفارت کار راجیو ڈوگرہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک جمع کرنا ایک آئینی اور جمہوری قدم تھا۔

’اپوزیشن کے پاس اکثریت تھی لیکن عمران خان نے اس پر لات ماری۔ وہ اب ناراض ہیں کیوں کہ اتھارٹی اب بھی عمران خان کے پاس ہی ہے۔ تب تک عمران خان کے پاس ہی ہے جب تک فوج مداخلت نہیں کرتی۔ باجوہ صاحب (پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ) کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کوئی سخت اقدام نہیں اٹھائیں گے۔‘

اسی مباحثے میں خود کو پاکستان تحریک انصاف کا رہنما بتانے والے جاوید بابر بھی موجود تھے۔ ان سے ’آج تک‘ کی خاتون اینکر انجنا اوم کشیپ نے پوچھا: ’عمران خان تو کہتے تھے کہ آخری گیند تک کھیلوں گا تو پھر امپائر کے ساتھ مل کر آخری اوور رد کیوں کرا دیا؟‘

اس کے جواب میں جاوید بابر نے کہا: ’عمران خان غیر آئینی اور غیر جمہوری حرکت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ طریقہ کار سراسر غلط تھا۔ انہوں نے ہمارے لیے صورت حال خراب کر دی ہے۔‘

یہ جواب ملنے پر انجنا اوم کشیپ نے ان سے پوچھا: ’کیا آپ تحریک انصاف کے ہی نیتا (رہنما) ہیں؟‘

جاوید بابر نے جواب میں کہا: ’جی بالکل، میں تحریک انصاف کا نیتا ہوں لیکن میں عمران خان صاحب کی پالیسیوں کے خلاف ہوں۔ انہیں چاہیے تھا کہ پہلے ووٹنگ اور پھر الیکشن کا سامنا کریں۔‘

اس بیچ جب پروڈیوسرز نے عمران خان کی تازہ تصویر سکرین پر دکھائی تو انجنا اوم کشیپ نے اس پر کچھ یوں تبصرہ کیا: ’پارلیمان کو تحلیل کرانے کے بعد عمران خان کی پہلی تصویر۔ وہ اس میں بڑے مطمئن نظر آ رہے ہیں۔ چہرے پر مسکراہٹ ہے۔ ان کو پتہ تھا کہ ان کے پاس درکار نمبر نہیں ہے۔ پارلیمان میں اوندھے منہ گرنے سے بچنے کے لیے انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک مسترد کرائی۔‘

پھر مباحثے کے دوران پاکستانی میڈیا کی ایک ویڈیو کلپ بھی چلایا گیا جس میں سینیئر صحافی حامد میر کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ’عمران خان نے ایک راستہ دکھا دیا ہے کہ اب پاکستان میں ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق آئین کی تشریح کرے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ صدر مملکت عارف علوی صاحب نے پاکستان تحریک انصاف کے ایک کارکن جیسا رویہ اپنایا ہے۔ انہوں نے ایک غیر آئینی مشورے کو قبول کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔‘

’آج تک‘ پر ہی اینکر شبہانکر مشرا نے ایک پرائم ٹائم شو کی میزبانی کرتے ہوئے پاکستان میں اتوار کو پیدا ہونے والی غیر معمولی سیاسی صورت حال کو عجب گجب (عجب غضب) ہلچل کا نام دیا۔

’ایسا لگتا تھا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں آج ووٹنگ ہو گی اور عمران خان کی سرکار گر جائے گی۔ لیکن عین وقت پر سپیکر نے اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کو خارج کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں برپا سیاسی ہنگامہ کس اور رخ کرے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس شو میں پاکستان میں دن بھر پیش آنے والے واقعات کی تفصیل دی گئی اور جس کا آغاز ان الفاظ سے کیا گیا: ’اسے بشریٰ بی بی کے ٹونے ٹوٹکے کا اثر کہیے یا عمران خان کا کرکٹ والا داؤ۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ عمران خان جو چاہتے تھے وہی ہوا۔ ایسا لگا سب پہلے سے سکرپٹڈ تھا۔ بڑی مشکل سے پاکستان والوں کی رات کٹی تھی کہ یا اللہ دین کے نام پر دوزخ والا کوئی کھیل نہ کھیلا جائے۔ کھیل تو کھیلا گیا مگر اپوزیشن کے ساتھ۔‘

’زی نیوز نیٹ ورک‘ کے مختلف چینلز پر بھی عدم اعتماد کی تحریک اور پاکستان کی موجودہ ہنگامہ خیز صورتحال پر کئی مباحثے منعقد ہوئے۔

’زی نیوز ہندی‘ پر منعقدہ ایک مباحثے میں اینکر کا عمران خان کے ’سرپرائز‘ پر کہنا تھا: ’پاکستان میں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ سے پہلے ہی عمران خان نے ایک بڑی چال چلی۔ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے ایک ہی جھٹکے میں پورا کھیل پلٹ دیا اور عمران خان کی کرسی بچائی۔‘

’انڈیا ٹی وی‘ کے مباحثے کی میزبانی کرنے والے اینکر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے واقعی وہ سرپرائز دیا ہے جس کی وہ بات کر رہے تھے۔

اسی مباحثے میں شریک بھارتی فوج کے ایک سابق افسر نے کہا: ’عمران خان نے ایک سخت ہتھیار استعمال کیا ہے۔ یہ پاکستانی تاریخ کا ایک تاریخی اور نازک لمحہ ہے۔ اگر اس وقت عمران خان کی چال کامیاب ہو گئی تو یہ پاکستان کی سیاست کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔‘

’انڈیا ٹو ڈے‘ نیوز چینل کے مباحثے میں شریک سابق انڈین فارن سروس آفیسر پنک رنجن چکروتی کا دعویٰ تھا کہ عمران خان کی چال ایک سکرپٹڈ پلان تھا۔

’بظاہر افواج پاکستان نے عمران خان کو تین آپشن دیے جن میں ایک یہ تھا کہ اسمبلی کو تحلیل کر کے نئے انتخابات منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے یہ ڈراما آخری لمحے تک جاری رکھا۔ وہ کہتے رہے کہ میں آخری گیند تک مقابلہ کروں گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ آخری گیند کھیلنے کے لیے میدان میں نہیں آئے۔‘

’این ڈی ٹی وی‘ کے ایک مباحثے میں بھارتی فوج کے سابق افسر سید عطا حسنین شریک تھے جن کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ آف پاکستان فوری طور پر کوئی فیصلہ سناتی ہے تو ممکن ہے کہ بحران کو کسی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

’بصورت دیگر مجھے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا کہ فوج عارضی طور پر ہی صحیح ملک کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھوں میں لے گی۔ ہم نے ماضی میں دیکھا کہ پاکستان میں ایسے موقعوں پر بہت زیادہ ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اس سے فوج اور پولیس کے لیے سخت اندرونی سکیورٹی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس پر انہیں فکر مند رہنا چاہیے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض بھارتی نیوز چینلز کی توجہ پاکستان میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران پر بحث سے زیادہ وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر تھی۔

بقیہ ملک کے برعکس بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے تقریباً تمام بڑے اخبارات نے اس کو بظاہر حکومتی رعب کی وجہ سے اندرونی صفحات میں جگہ دی ہے۔

’نیوز نیشن‘ نامی ہندی نیوز چینل پر منعقدہ ایک پروگرام میں بشریٰ بی بی پر کچھ یوں تبصرہ کیا گیا: ’نظر ڈالیں سفید لباس اوڑھے اس محترمہ پر۔ ان کا نام ہے بشریٰ بی بی۔ یہ عمران خان کی بیگم بتائی جاتی ہیں۔ لیکن یہ بیگم صرف نام کی ہیں قد ان کا وزیر اعظم سے بھی بڑا ہے۔

پاکستان کا سیاسی بحران بھارتی اخبارات میں

پاکستان میں پیدا شدہ سیاسی بحران میں بھارتی الیکٹرانک میڈیا کی طرح پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات نے بھی خاصی دلچسپی دکھائی ہے۔

بھارت میں سوموار کو شائع ہونے والے بیشتر اخبارات نے عمران خان کے ’سرپرائز،‘ اپوزیشن کے بیانات و اقدامات اور سپریم کورٹ کی مداخلت کو صفحہ اول پر نمایاں جگہ دی ہے۔

کلکتہ سے شائع ہونے والے مشہور اخبار ’دا ٹیلی گراف‘ کی شہ سرخی میں عمران خان کے نام کو دو حصوں میں توڑا گیا ہے: ’آئی ایم – رین۔‘

اخبار نے ذیلی سرخی میں لکھا ہے: ’(عمران) ٹرسٹ میچ سے فرار ہو گئے۔ نئے انتخابات کے لیے کھیلا۔‘ اخبار نے اس خبر کے ساتھ ایک پرانی تصویر بھی شائع کی ہے جس میں عمران خان کو کرکٹ کے میدان میں بولنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

بھارت کے کثیر الاشاعت اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے سرخی لگائی ہے: ’بے دخلی سے بچنے کے لیے عمران نے اسمبلی کی تحلیل کی سفارش کر دی۔ لیکن قانونی حیثیت کی جائزے کے لیے سپریم کورٹ کی مداخلت۔‘

اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ پاکستان میں آنے والے دنوں میں امکانی طور پر مزید سیاسی ڈراما دیکھنے کو ملے گا نیز معاشی بحران اور سٹریٹیجک کمزوری میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

’ٹائمز آف انڈیا‘ نے دو روز قبل ایک کارٹون بھی شائع کیا جس کے کیپشن میں لکھا تھا: ’عمران خان کی المناک خود ساختہ تباہی۔‘ اس میں دکھایا گیا ہے کہ عمران خان جمہوریت کی ٹوکری فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے سپرد کرنے کے بعد ان سے کہتے ہیں: ’جناب آپ اور کیا چاہیں گے؟‘

اخبار ’دا انڈین ایکسپریس‘ نے سرخی لگائی ہے: ’عمران خان نے پاکستان میں عدم اعتماد کے ووٹ کو مسترد کر دیا۔‘

اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اگر پاکستان کی قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہوتی تو یہ پہلا موقع ہوتا کہ ملک کے کسی وزیر اعظم کو پارلیمانی عمل کے ذریعے ہٹایا جاتا۔

جہاں بھارت کے مختلف شہروں سے شائع ہونے والے اردو اخبارات نے بھی پاکستان میں برپا سیاسی ہنگامے کو صفحہ اول پر نمایاں جگہ دی ہے وہیں اس کے برعکس بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے تقریباً تمام بڑے اخبارات نے اس کو بظاہر حکومتی رعب کی وجہ سے اندرونی صفحات میں جگہ دی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا