تحریک عدم اعتماد اور بھارتی میڈیا

جس انداز سے بھارتی میڈیا کے بعض ادارے عمران خان کو ہٹانے پر اپنی جنونیت، جوش اور جذبے کا اظہار کر رہے ہیں اُس سے محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کا وجود پاکستان کے ساتھ ساتھ پڑوس کے لیے بھی خطرناک ہے۔

کراچی میں ایک مارکیٹ میں شہری وزیر اعظم عمران خان کا 31 مارچ کو قوم سے خطاب سن رہے ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیا ہوئی کہ پاکستان میں سیاسی ہلچل کا ایک بار پھر طوفان پیدا ہوا۔

مگر جس انداز سے بھارتی میڈیا کے بعض ادارے عمران خان کو ہٹانے پر اپنی جنونیت، جوش اور جذبے کا اظہار کر رہے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کا وجود پاکستان کے ساتھ ساتھ پڑوس کے لیے بھی خطرناک ہے۔ جیسا کہ حزب اختلاف بھی کئی بار عمران خان کے بارے میں کہہ چکی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ بھارتی میڈیا والوں کے دلوں میں پاکستان کی محبت اب اس قدر گہری ہوچکی ہے کہ وہ حزب اختلاف سے مل کر پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں البتہ بعض تبصروں کی زبان اس قدر کرخت ہوتی ہے جو پڑوسی ملک کی سالمیت اور قومیت پر دھمکی آمیز ہے۔ ایک چینل پر کہا جا رہا تھا کہ ’پاکستان بھارت کا حصہ ہے اور اسے واپس حاصل کرنے کا منصوبہ ہونا چاہیے تاکہ اکھنڈ بھارت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔‘

بعض پروگراموں میں جنونی اینکرس کی چیخیں سن کر ایسا خوف بھی ہوتا ہے کہ کہیں یہ اپنی آواز نہ کھو بیٹھیں۔

پڑوس میں ہونے والی کسی بھی سیاسی ہلچل سے کوئی بےخبر تو نہیں رہ سکتا اور اس پر بحث و تمحیص کرنے کی ہر کسی کو آزادی ہے لیکن اگر اس کے پیچھے اس ملک کے قومی اداروں یا اس ملک کی ساخت کو نقصان پہنچانا ہے تو اس کو آزاد صحافت کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

جنوبی ایشیا میں شاید ہی اب کسی میں اتنی ہمت ہے کہ ملکوں کو توڑ کر نئے ملکوں کی بنیاد ڈالی جائے یا توسیع پسند عزائم کو لے کر سرحدوں کو تبدیل کیا جائے جس کا خدشہ عالمی تھنک ٹینکس کی رپورٹس میں اکثر ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کی بعض سرخیوں پر ہنسی بھی آرہی تھی۔ جیسے ’مسلمانوں کے چیمپیئن کہلانے والے عمران خان کو اپنی اوقات دکھائی گئی ہے‘ یا ’فوج کی بیساکھیوں کے سہارے چلنے والا آج اپاہج ہوگیا ہے‘ یا ’ایبسلوٹلی ناٹ بولنے والے کی زبان بندی کردی گئی ہے،‘ وغیرہ وغیرہ۔

سوال یہ ہے کہ مسئلہ عمران خان کی ناقص کارکردگی ہے یا ان کی اسلام مخالف تحریک پر آواز اٹھانا؟ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی جماعت کو متحد نہیں رکھ پائے یا یہ کہ افغانستان میں اتحادی افواج کی ناکامی پر پاکستان کو سزا دینا؟ مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہو گئے یا یہ کہ انہیں سفارتی کاری سے مسئلہ کشمیر اُجاگر کرنے پر عالمی حمایت حاصل ہو رہی ہے؟

حیدر آباد دکن کے سیاسی کارکن عبدل کبیر نے میڈیا کی کوریج پر یوں اظہار خیال کیا: ’اگر میڈیا جمہوریت کی کمزوریوں اور اندرون ممالک عوام کو درپیش مسائل پر بحث و تمحیص کرتا تو سمجھا جاتا کہ پس پردہ کوئی اور ایجنڈا نہیں ہے۔‘

پاکستان کے بیشتر میڈیا چینلز بھی بھارتی میڈیا سے ویسے پیچھے نہیں ہیں لیکن دونوں کے بیچ میں ایک واضح فرق ہے کہ بھارتی میڈیا اپنے سلامتی اور قومی اداروں کو اس طرح نشانہ نہیں بناتے کہ اُن کو متنازع بنایا جائے۔ وہ سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر دل کھول کر تنقید کرتے ہیں حالانکہ اب چند برسوں سے یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ ’ایک ہی پارٹی کا راگ الاپا جارہا ہے‘ جس پر عالمی میڈیا نے بھی بارہا لکھا ہے۔

پاکستان کا بیشتر میڈیا سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کی بجائے اپنے قومی اداروں کو نشانہ بناتا رہا ہے جس سے نہ صرف یہ مشکوک بن گئے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ان اداروں کی ’سیاسی مداخلت‘ ایک سوالیہ نشان بنی چکی ہے۔

برلن میں ایک تھنک ٹینک سے وابستہ جنوبی ایشیا امور کے ماہر راب ڈگلس کہتے ہیں: ’پاکستان اور بھارت میں میڈیا آزاد ہے بلکہ میں پاکستانی میڈیا کو الٹرا لبرل سمجھتا ہوں۔ ایک واضح فرق ہے کہ بھارتی میڈیا ملک و قوم کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھ کر معلومات دیتا ہے جبکہ پاکستان میں بیشتر میڈیا ہاوسز اپنے ذاتی مفاد سامنے رکھ کر صحافت کرتے ہیں جو ملک کے سیاسی عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ بھی بنتی ہے۔‘

ان کے بقول: ’میڈیا اورسیاست دانوں نے خود جمہوری اداروں کی بنیادیں کمزور کر دی ہیں اس کے برعکس اگر بھارت میں جمہوری ادارے مضبوط ہیں، اداروں میں خاصا تال میل ہے، اُس کا کریڈٹ وہاں کے میڈیا کو دینا چاہیے گو کہ ہندوتوا جماعتیں اب ان اداروں کو کافی نقصان پہنچا رہی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مین سٹریم میڈیا کا جنون ایک طرف، دوسری جانب سوشل میڈیا نے عمران خان کی داخلہ پالیسی یا میشعت کے بجائے عمران خان کی اسلاموفوبیا، پاکستان طالبان کی گٹھ جوڑ اور مودی کو ہٹلر سے مشابہ دینے کی پالیسیوں کے خلاف یہ جواز پیش کیا کہ حزب اختلاف کے بینر تلے پاکستانی عوام کو عمران خان کو ملکی سیاست سے ہی نکال باہر کرنے کے منصوبے پر کاربند رہنا چاہے جس میں حساس اداروں کو بھی ساتھ دینا چاہیے جو عمران خان کی خارجہ پالیسی سے مطمئین نہیں ہیں۔

پاکستان کی بار بار کی اس سیاسی اتھل پتھل کا گہرا اثر جموں و کشمیر کے عوام پر دیکھا جاسکتا ہے جو نہ جانے کیوں خود کو ہر اُس پالیسی کا محور سمجھتے ہیں جو بھارت اور پاکستان کے ایوانوں میں ترتیب دی جاتی ہے۔

اکثر کشمیریوں کو یقین ہے کہ عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی اداروں میں زندہ کیا ہے اور بندوق سے لڑنے کی بجائے بات چیت سے لڑنے کو ترجیح بنا دیا ہے جو شاید ان کے ملک کے اندر اور باہر بیشتر کو پسند نہیں ہے، حالانکہ اندرون پاکستان حزب اختلاف اور بعض عام لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان نے کشمیر پر سودا کرکے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا ہے۔

ایک دن پہلے کپوارہ کے انجینیئرنگ کے طالب علم اطہر بٹ نے مجھے علی الصبح فون کرکے جگایا اور پوچھا ’پلیز مجھے بتائیے کہ عمران خان اس بحران سے نکلیں گے؟ میں ان کی ہار کو برداشت نہیں کر پاؤں گا؟ بھارت اور بھارتی میڈیا نے پہلے ہی ہمارا سکھ چین چھین لیا ہے اب پاکستان کو ’ناکام ریاست‘ کہہ کر یہ ہمارے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں۔‘

پاکستان نواز اطہر کو جواب دینا اتنا آسان نہیں تھا۔ اُن کے جذبات اپنی جگہ لیکن پاکستانی سیاست کے ماضی کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا جہاں کوئی وزیراعظم اب تک پانچ برس کی مدت مکمل ہی نہیں کر پا رہا ہے اور پھر ہر ناکام وزیراعظم اپنے اثاثے میں ملک دشمنی کی سند لے کر جاتا ہے۔

میں اطہر کو کیا ہی سمجھاتی جب میری نظر پاکستان کی ایک چینل پر اُس ٹکر پر پڑی جس پر لکھا تھا: ’عمران خان کو پاکستان دشمن ملکوں نے یہاں مسلط کیا ہے اور وہ اپنا انجام جانتے ہیں: مولانا فضل الرحمٰن۔‘

گویا وہ بھی اُس صف میں شامل ہوچکے ہیں جن کو انتخابات میں 155 نشستیں ملنے کے باوجود ‘غداری‘ کا سارٹفیکیٹ ملنے ہی والا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ