افغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی بمباری میں نو شہری جان سے گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
نجیب اللہ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف فوجی طاقت سے افغانستان کو نہیں چلایا جا سکتا۔ اسی لیے انہوں نے ’قومی مفاہمت‘ کی پالیسی متعارف کروائی، جس کا مقصد مجاہدین کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔