نئے عدالتی قوانین میں کسی کو ’غلام‘ بنانے کی بات نہیں ہوئی: افغان طالبان

افغان طالبان نے عدالتوں کے لیے منظور کیے گئے نئے ضابطہ فوجداری پر ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔

21 اکتوبر، 2024 کو قندھار میں ایک طالبان سکیورٹی اہلکار ڈرگ ری ہیب سینٹر میں پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)

افغان طالبان نے عدالتوں کے لیے منظور کیے گئے اپنے نئے ضابطہ فوجداری پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ اس میں کسی انسان کو ’غلام‘ بنانے اور تشدد کو قانونی قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی فرقے کی بنیاد پر کسی قسم کے امتیاز کی بات کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’رواداری‘، جسے اس ضابطہ فوجداری کے متن تک رسائی حاصل ہوئی، کے مطابق افغان حکومت نے چار جنوری، 2026 کو طالبان رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط کے ساتھ عدالتوں کے لیے ایک ضابطہ فوجداری منظور کیا ہے، جس کے 10 ابواب اور 119 دفعات ہیں۔

افغان نیوز ویب سائٹ ’طلوع نیوز‘ کے مطابق یہ دستاویز افغانستان میں تمام فوجداری مقدمات کی کارروائی کے لیے قانونی فریم ورک کے طور پر کام کرے گی۔

یہ ضابطہ مختلف نوعیت کی سزاؤں کی وضاحت کرتا ہے، جن میں قید، جرمانہ، تعزیراتی (اختیاری) سزائیں اور بعض معاملات میں اسلامی حدود کا نفاذ شامل ہیں اور افغان شہریوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو متعین قانونی فریم ورک کے مطابق ڈھالیں۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر شخصیات نے اس نئے ضابطہ فوجداری پر شدید تنقید کی ہے، خصوصاً متن میں شامل ’غلام‘ کے لفظ پر خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ رچرڈ بینٹ نے ایکس پر لکھا ’طالبان کے نئے ضابطہ فوجداری کا تاحال انسانی حقوق اور شریعت کے تناظر میں تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

’تاہم یہ بات پہلے ہی نہایت واضح ہے کہ اس کے افغان عوام پر مرتب ہونے والے اثرات انتہائی تشویش ناک ہیں۔‘

 

اسی طرح افغانستان کے سابق اٹارنی جنرل محمد فرید حمیدی نے طالبان کے اس ضابطہ فوجداری کو ’انسانی عظمت کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’منافق عالمی برادری، ناکام اور زبوں حال اقوام متحدہ اور حیران و خاموش انسانیت نے اکیسویں صدی میں ایک جاہل اور ظالم گروہ کو غلامی کو جائز قرار دینے اور شہریوں کی درجہ بندی اور توہین کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جو جنس، نسل، مذہب، سیاسی موقف، دولت اور غربت کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضابطہ فوجداری پر ہونے والی تنقید کے جواب میں افغان طالبان نے اپنے وٹس ایپ چینل ’الامارہ‘ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ’اس پورے قانونی متن کی کسی دفعہ، کسی شق یا کسی جز میں ایسی کوئی سطر موجود نہیں، جس میں کہا گیا ہو کہ افغان معاشرے کو ’آزاد‘ اور ’غلام‘ دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔‘

وضاحتی بیان کے مطابق ’غلام کا لفظ اس پورے متن میں ایک جگہ ضمناً آیا ہے، جہاں قدیم فقہ سے عبارت اٹھا کر اس کا ترجمہ یہاں لایا گیا ہے۔

’اس عبارت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن پر تعزیر جاری ہوسکتی ہے جیسے چھوٹا، بڑا، جوان، بوڑھا، عالم جاہل، مرد عورت، اس میں  ’آزاد‘، ’غلام‘ کا بھی ذکر آ گیا ہے، جس کا مطلب یہ نہیں کہ غلامی کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ ’پورے متن میں کہیں بھی سنی، غیر سنی یا شیعہ کا لفظ موجود نہیں۔

’ایک جگہ صرف اس بات کا ذکر ہے کہ جو شخص بدعت کی ترویج کرے، اس کے لیے تعزیری سزا مذکور ہے۔

’بدعت کرنے والا سنی غیر سنی، حنفی غیر حنفی کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ ہر کسی کے لیے ایک ہی سزا ہے۔ اس سے فرقہ واریت کشید کرنا انتہائی تعصب ہے۔‘

 

وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ ضابطہ فوجداری پر تنقید میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ ’طالبان پر تنقید یا اختلاف کو جرم قرار دے کر تین سے 50 کوڑے سزا مقرر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، لیکن ایسی کوئی شق موجود نہیں۔

’تاہم ایک شق ایسی موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آن ڈیوٹی سکیورٹی اہلکاروں سے تلخ کلامی کرنا، انہیں گالیاں دینا اور ان کے کپڑے نوچنا قابل تعزیر جرم ہے، جس کی سزا دو سال قید تک مقرر کی گئی ہے۔‘

خواتین پر تشدد کے حوالے سے ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا گیا کہ ’ایک جگہ ذکر ہے کہ اگر مرد اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھائے اور ضرب اس قدر شدید ہو کہ اس سے عورت کے جسم پر کوئی دھبہ، کوئی نشان پڑے یا زخم ہوجائے تو یہ مرد مجرم تصور کیا جائے گا اور اس کے لیے تعزیر مقرر کر دی گئی ہے۔

’اس میں خواتین پر ظلم کی اجازت کی بجائے اس پر تشدد کرنے والے کے لیے سزا کا تقرر کیا گیا ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ افغان معاشرے میں کوئی تقسیم نہیں کی گئی۔

’یہ انسانوں کی تقسیم نہیں بلکہ انسانی مزاجوں کو ٹریٹ کرنے کے لیے اسلامی فقہ کی بہت پرانی تقسیم ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا