بنگلہ دیش کرکٹ کے حکام نے ہفتے کو سابق کپتان شکیب الحسن کی واپسی کا دروازہ دوبارہ کھول دیا ہے۔
شکیب الحسن سابق حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ اس جماعت کی حکومت ایک تحریک کے بعد 2024 میں ختم ہو گئی تھی۔
بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے شکیب عوامی غصے کا شکار ہوئے۔ وہ ان درجنوں افراد میں شامل ہیں جنہیں مظاہرین پر پولیس کے خونریز کریک ڈاؤن کی وجہ سے قتل کے الزام میں تحقیقات کا سامنا ہے۔
آل راؤنڈر شکیب الحسن نے 2024 میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، لیکن گذشتہ ماہ کہا کہ وہ یہ فیصلہ واپس لینا چاہتے ہیں۔
اور اب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے سینیئر عہدیدار امجد حسین نے کہا ہے کہ وہ دوبارہ کھیل سکتے ہیں۔
امجد حسین نے ہفتے کی رات صحافیوں کو بتایا: ’بورڈ نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر شکیب الحسن کی دستیابی، فٹنس اور رسائی اجازت دیتی ہے اور اگر وہ اس مقام پر موجود ہو سکتے ہیں جہاں میچ کھیلے جا رہے ہیں، تو بورڈ اور سلیکشن پینل قومی ٹیم کے لیے ان کے بارے میں غور کرے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ بی سی بی شکیب کو غیر ملکی لیگز میں کھیلنے کے لیے این او سی جاری کرے گا۔
امجد حسین کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر وہ دیگر عالمی ٹورنامنٹس میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو بورڈ انہیں ضرورت کے مطابق این او سی فراہم کرے گا۔‘
شکیب نے اس سے قبل طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے دوران خاموش رہنے پر معافی مانگی تھی لیکن اس حکومت کی خدمت کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا تھا، جسے اس بغاوت نے گرا دیا۔
بنگلہ دیش کرکٹ اگلے ماہ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر نکالے جانے کے بعد صدمے سے دوچار ہے، کیوں کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ہفتے کو بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔
بی سی بی نے اپنے کھلاڑیوں کو انڈیا بھیجنے سے انکار کر دیا تھا اور درخواست کی تھی کہ میچ شریک میزبان ملک سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان تنازع اس مہینے اس وقت شروع ہوا جب انڈین کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو حکم دیا کہ وہ بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمٰن کو ٹیم سے الگ کر دیں۔
آئی سی سی نے کہا کہ اسے انڈیا میں بنگلہ دیش کے لیے کوئی قابل اعتبار سکیورٹی خطرہ نہیں ملا، لیکن بی سی بی نے کہا کہ معاملہ ان کے اختیار سے باہر تھا۔
امجد حسین نے کہا: ’یہ سکیورٹی کی بنیاد پر کیا گیا حکومتی فیصلہ ہے۔ اس وجہ سے، ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔‘
جب شیخ حسینہ کی حکومت گری تو شکیب کینیڈا میں ڈومیسٹک ٹوئنٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ کھیل رہے تھے اور اس کے بعد سے وہ بنگلہ دیش واپس نہیں آئے۔
بائیں ہاتھ کے اس آل راؤنڈر نے بنگلہ دیش کے لیے 71 ٹیسٹ، 247 ون ڈے انٹرنیشنل اور 129 ٹوئنٹی 20 میچ کھیلے ہیں اور مجموعی طور پر 712 وکٹیں حاصل کی ہیں۔